بلوچستان کے مختلف اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں اور ژالہ باری نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، جبکہ مختلف حادثات میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 5 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں تیز آندھی کے ساتھ ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، جبکہ چمن، قلعہ عبداللہ اور زیارت سمیت شمالی اضلاع میں بھی شدید بارش اور ژالہ باری نے تباہی مچائی۔ خراب موسم کے باعث سیب، خوبانی، چیری، بادام، انجیر، آلوچہ اور انار کے باغات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
ہرنائی، قلات، سوراب اور دیگر علاقوں میں طغیانی کی صورتحال کے باعث کئی رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں، جبکہ متعدد گاڑیاں سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر بہہ گئیں، جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔
بولان میں آسمانی بجلی گرنے اور مکان کی چھت گرنے کے واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہو گئے۔
تحصیل گلستان میں مسافر وین اور ایک ٹرک تیز بہاؤ میں بہہ گئے، تاہم امدادی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 12 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ ہرنائی میں بھی ایک گاڑی میں پھنسے افراد نے اپنی جان بچانے کے لیے چھلانگیں لگا دیں، جبکہ 6 ٹرک سیلابی پانی میں پھنس کر رہ گئے۔




































