چیٹ جی پی ٹی کی غیر معمولی مقبولیت نے جہاں ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کی ہے، وہیں ماہرین اب اس تیز رفتار ترقی کے مالی اثرات اور مستقبل کے خطرات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کا صارفین کا دائرہ ایک ارب کے قریب پہنچ چکا ہے، جو کسی بھی کنزیومر ایپلی کیشن کی تاریخ میں تیز ترین اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 2022 کے آخر میں لانچ ہونے کے صرف تین سال بعد اس پلیٹ فارم نے عالمی سطح پر غیر معمولی پذیرائی حاصل کی۔
کمپنی اس وقت دنیا کی سب سے قیمتی اسٹارٹ اپس میں شمار ہوتی ہے اور اس کی مالیت تقریباً 850 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین سلیکون ویلی کی اہم ترین شخصیات میں شامل ہو گئے ہیں۔ تاہم اس کامیابی کے ساتھ مالی دباؤ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی کو چلانے اور جدید مصنوعی ذہانت کی تیاری پر اخراجات انتہائی زیادہ ہیں۔ کمپنی نے سرمایہ کاروں کو آگاہ کیا ہے کہ 2029 تک مجموعی اخراجات 115 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جن کی بڑی وجہ کمپیوٹنگ پاور اور انفراسٹرکچر کی ضروریات ہیں۔
زیادہ اخراجات کے باعث اوپن اے آئی نے بعض مہنگے منصوبوں میں کمی شروع کر دی ہے۔ اے آئی ویڈیو ٹول سورا کی سرگرمیاں محدود کی گئیں جبکہ ڈیٹا سینٹر توسیع اور چند تجرباتی منصوبے بھی روک دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب حریف کمپنی انتھروپک کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے میدان میں بڑھتی مسابقت بھی اوپن اے آئی کے لیے چیلنج بنتی جارہی ہے، کیونکہ بعض مخصوص کاموں میں اس کے ماڈلز کو بہتر کارکردگی کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔
ٹیکنالوجی ریسرچ فرم ڈی اے ڈیوڈسن کے سربراہ گل لوریا کے مطابق کمپنی ممکنہ طور پر ایسے مالی وعدے کر چکی ہے جنہیں برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، جس کی جھلک حالیہ سرمایہ کاری میں کمی اور حکمت عملی کی تبدیلیوں سے ملتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے زیادہ تر صارفین مفت سروس استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث آمدن اور اخراجات میں توازن ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ اسی لیے کمپنی اشتہارات اور پریمیم فیچرز متعارف کرانے کے امکانات پر غور کررہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اوپن اے آئی مستقبل میں پبلک لسٹنگ کی تیاری بھی کررہی ہے، جس کے نتیجے میں کمپنی کی مالیت ایک کھرب ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہے، تاہم واضح منافع کے بغیر مسلسل بڑھتے اخراجات سرمایہ کاروں کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوسکتے ہیں۔





































