امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں اور ان میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم ممکنہ معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کے ذریعے جاری بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات فنانشل ٹائمز سے ایک انٹرویو میں کہی، تاہم ممکنہ معاہدے یا جنگ بندی سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ٹرمپ سے جب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ممکنہ جنگ بندی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا، تاہم کہا کہ معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اب بھی ہمارے پاس تقریباً 3 ہزار اہداف باقی ہیں، ہم 13 ہزار اہداف کو نشانہ بنا چکے ہیں اور مزید چند ہزار باقی ہیں‘، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایک معاہدہ نسبتاً جلد طے پا سکتا ہے‘۔
انہوں نے گزشتہ ہفتے دیے گئے اپنے بیان کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران نے پاکستان کے جھنڈے والے 10 آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ’تحفے‘ کے طور پر دی۔ ٹرمپ کے مطابق اب یہ تعداد دوگنی ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس اقدام کی منظوری دی۔
ٹرمپ کے بقول، ’انہوں نے ہی ان جہازوں کی اجازت دی۔ یاد رکھیں میں نے کہا تھا کہ وہ مجھے تحفہ دے رہے ہیں، جس پر لوگوں نے شک کیا، لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو سب خاموش ہو گئے، اور مذاکرات بہت اچھے انداز میں جاری ہیں۔‘
ٹرمپ نے ’بڑی کامیابی‘ کا اعلان کر دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں بڑی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج نے متعدد اہم اہداف کو تباہ کر دیا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک مختصر بیان میں کہا، ’ایران میں بڑا دن رہا۔ ہماری عظیم فوج، جو دنیا کی سب سے طاقتور اور مہلک فوج ہے، نے کئی اہم اہداف کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔‘
اس سے قبل ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ براہِ راست اور بالواسطہ مذاکرات کر رہا ہے اور یہ بات چیت ’انتہائی مثبت‘ انداز میں جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے ’کافی پُراعتماد‘ ہیں، تاہم اس امکان کو بھی رد نہیں کیا کہ کوئی معاہدہ نہ ہو سکے۔ ان کے بقول امریکا ایران میں ’رجیم چینج‘ کے مقاصد حاصل کر چکا ہے۔
دریں اثنا، برطانوی اخبار کو دیے گئے ایک علیحدہ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں اور امریکا ایران کے اہم برآمدی مرکز خارگ جزیرہ پر قبضہ بھی کر سکتا ہے۔
’امن کی بات، جنگ کا اشارہ‘،ایرانی حکام کا ٹرمپ پر طنز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات اور امن معاہدے کے دعوؤں پر ایرانی حکام نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے اس کے برعکس جنگ میں شدت کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق جب بھی امریکی صدر امن کے قریب ہونے کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب درحقیقت جنگ کے مزید قریب ہونا ہوتا ہے۔ ان کے بقول موجودہ حالات میں لڑائی پہلے ہی جاری ہے، تاہم انہیں خدشہ ہے کہ آئندہ دنوں میں اس میں مزید شدت آ سکتی ہے۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے زمینی فوج بھیجی تو یہ ایک طویل اور پیچیدہ جنگ کا آغاز ہوگا۔ ان کے مطابق یہ صورتحال ٹرمپ کے لیے خاص طور پر مشکلات کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ امریکا میں وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور اس جنگ کی عوامی مقبولیت پہلے ہی کم ہے، جبکہ کانگریس کی منظوری بھی حاصل نہیں کی گئی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام عوامل سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کے مطابق اگر امریکی افواج ایران میں داخل ہوئیں تو ایرانی فوج اور بڑی تعداد میں موجود بسیج نیم فوجی دستے براہِ راست مقابلے کے لیے تیار ہیں۔
حکام نے خبردار کیا کہ ایسی صورت میں امریکی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، جو نہ صرف جنگ کو طول دے گا بلکہ ٹرمپ کی صدارت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔




































