بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں خواتین کا استعمال، سیکیورٹی اداروں کا نیٹ ورک پر کاری وار

بلوچستان کے علاقے خضدار سے گرفتار ہونے والی خودکش بمبار لائبہ عرف فرزانہ کا کیس ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ چند برسوں میں خواتین کو دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں۔

یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں اب نوجوان خواتین کو بھی اپنے نیٹ ورک کا حصہ بنانے کی کوشش کررہی ہیں

خضدار کی تحصیل زہری کے علاقے چشمہ سے تعلق رکھنے والی لائبہ عرف فرزانہ کو خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ اس نے دوران تفتیش بتایا کہ اس کا رابطہ پہلے تحریک طالبان پاکستان کے ایک کمانڈر سے ہوا جس نے اسے خود کش حملے کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا۔

بعدازاں اسے علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے نیٹ ورک کے حوالے کیا گیا جہاں اسے مزید تربیت دینے اور دوسری لڑکیوں کو بھی تنظیم میں شامل کرنے کی ذمہ داری دی جا رہی تھی۔

لائبہ عرف فرزانہ سے قبل بھی بلوچستان اور دیگر علاقوں میں خواتین دہشتگردوں یا مبینہ خودکش حملہ آوروں کی گرفتاری کے کئی کیس سامنے آچکے ہیں۔

2022 میں بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے ہوشاب میں انسداد دہشتگردی ڈیپارٹمنٹ نے ایک خاتون نور جہاں کو گرفتار کیا تھا۔ حکام کے مطابق اس کا تعلق بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ سے تھا اور وہ سی پیک روٹ پر چینی قافلے کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہی تھی۔ کارروائی کے دوران اس کے قبضے سے خودکش جیکٹ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

اسی سال تربت میں بھی سیکیورٹی اداروں نے ایک خاتون کو گرفتار کیا جو مبینہ طور پر خودکش حملے کی تیاری کررہی تھی۔ حکام کا کہنا تھا کہ اسے بھی اسی نیٹ ورک کے تحت تربیت دی جا رہی تھی جو کراچی یونیورسٹی پر حملہ کرنے والی خاتون سے منسلک تھا۔

اسی طرح 2023 میں کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن سے سی ٹی ڈی نے بلوچ لبریشن فرنٹ کی کی خودکش بمبار ماہل بلوچ گرفتار کیا۔

دسمبر 2025 میں پولیس نے ایک کم عمر لڑکی کو حراست میں لیا جسے سوشل میڈیا کے ذریعے شدت پسند عناصر نے خودکش حملے کے لیے آمادہ کیا تھا۔ وہ بلوچستان سے کراچی اپنے ہینڈلر سے ملنے جا رہی تھی جب بسوں کی چیکنگ کے دوران گرفتار ہوئی۔ حکام نے اسے ملزم کے بجائے شدت پسند پروپیگنڈے کا شکار قرار دیا۔

ماہرین کے مطابق بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں بالخصوص بلوچ لبریشن آرمی گزشتہ چند برسوں میں خواتین کو بھی اپنی کارروائیوں میں شامل کر رہی ہیں۔ اس رجحان کا آغاز 2022 میں اس وقت نمایاں ہوا جب ایک خاتون خودکش حملہ آور نے کراچی یونیورسٹی میں حملہ کیا۔ بعد ازاں مزید خواتین کے حملے اور گرفتاریاں سامنے آئیں۔

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کو دہشتگرد کارروائیوں میں شامل کرنے کے پیچھے چند اہم عوامل ہیں جن میں خواتین پر سیکیورٹی چیکنگ نسبتاً کم سخت ہوتی ہے، تنظیمیں ہمدردی اور سماجی دباؤ کے ذریعے نوجوان خواتین کو متاثر کرتی ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے آن لائن ذہن سازی آسان ہو گئی ہے، بعض کیسز میں خاندان یا قریبی افراد کے ذریعے بھرتی کی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق خواتین کو استعمال کرنے سے دہشتگردی کے روایتی پیٹرن میں تبدیلی آ رہی ہے، تاہم سیکیورٹی ادارے اس سے نمٹنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔

لائبہ عرف فرزانہ کی گرفتاری اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ شدت پسند تنظیمیں خواتین کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ بروقت انٹیلی جنس کارروائیوں کے باعث متعدد ممکنہ حملے ناکام بنائے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ سماجی آگاہی، تعلیم اور آن لائن شدت پسندی کے خلاف مؤثر حکمت عملی بھی ضروری ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

شدید گرمی، جسم کا درجہ حرارت 106 ڈگری تک جا سکتا ہے، این آئی ایچ نے ہیٹ اسٹروک سے بچنے کا علاج بتادیا

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث شدید گرمی

Read More

راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی مبینہ فائرنگ، قانون نافذ کرنے والے چار اہلکار شہید

آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم قرار دی

Read More

TECHNOLOGY

انسٹاگرام صارفین کی دیرینہ خواہش پوری کرتے ہوئے نیا فیچر متعارف کرا دیا

تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے والے پلیٹ فارم انسٹاگرام نے صارفین کی ایک پرانی خواہش

Read More

کیا انسان نما روبوٹس میدان جنگ میں اترنے والے ہیں؟

مصنوعی ذہانت یا اے آئی اور روبوٹکس کی تیز رفتار ترقی نے ایک ایسا سوال

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.