جدید جنگی ٹیکنالوجی میں تیزی سے تبدیلی کے ساتھ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) مصنوعی ذہانت پر مبنی جنگی نظاموں کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بین الاقوامی جریدے بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی فوج اب ایسے ہتھیاروں اور نظاموں پر انحصار بڑھا رہی ہے جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے خودکار فیصلے کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی دفاعی ادارے گزشتہ چند برسوں میں ڈرونز، خودکار نگرانی کے نظام اور ایسے سافٹ ویئر تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں جو میدانِ جنگ میں انسانی مداخلت کے بغیر بھی اہداف کی نشاندہی اور کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس تیزی سے بڑھتے رجحان نے فوجی حکمت عملی میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا جنگی فیصلوں میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا کردار مستقبل میں خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پینٹاگون کو خدشہ ہے کہ اگر امریکا اس ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ گیا تو چین اور دیگر طاقتیں برتری حاصل کر سکتی ہیں۔ اسی لیے امریکی فوج اے آئی سے چلنے والے ڈرونز، خودکار ہتھیاروں اور ڈیٹا پر مبنی جنگی منصوبہ بندی کے نظاموں میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق دفاعی ماہرین اور سابق فوجی افسران میں اس حوالے سے تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ہتھیار انسانی کنٹرول سے باہر جا سکتے ہیں اور غلط فیصلے بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ ایک دفاعی ماہر نے اس صورتحال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ٹیکنالوجی بیک وقت حیران کن بھی ہے اور خوفناک بھی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کو اس شعبے میں بڑے دفاعی معاہدے دیے جا رہے ہیں۔ ان کمپنیوں کا مقصد ایسے نظام تیار کرنا ہے جو جنگی میدان میں معلومات کا فوری تجزیہ کر کے فوجی کمانڈرز کو تیزی سے فیصلے کرنے میں مدد دیں۔
دوسری جانب ناقدین کا مؤقف ہے کہ اے آئی ہتھیاروں کی دوڑ دنیا میں ایک نئی اسلحہ دوڑ کو جنم دے سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی پر عالمی سطح پر قواعد و ضوابط نہ بنائے گئے تو مستقبل کی جنگیں زیادہ خودکار اور ممکنہ طور پر زیادہ خطرناک ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی حکام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال انسانی نگرانی کے ساتھ کیا جائے گا، تاہم اس ٹیکنالوجی کی تیزی سے ترقی نے دنیا بھر میں جنگ کے مستقبل کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔




































