امریکا میں مالیاتی ادارے سائبر حملوں کے خدشے پر ہائی الرٹ

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد امریکی مالیاتی خدمات کا شعبہ ممکنہ سائبر حملوں کے خدشے کے پیش نظر ہائی الرٹ پر چلا گیا ہے۔ ماہرین اور صنعت سے وابستہ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جغرافیائی تنازعات کے دوران عموماً سائبر خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے، اسی لیے مالیاتی ادارے اپنے نظام کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایک فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس صورتِ حال نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران سے منسلک عناصر امریکی مالیاتی نظام کو سائبر حملوں کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔

مالیاتی خدمات کا شعبہ امریکا کے اہم بنیادی ڈھانچے کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جس میں ادائیگیوں کا نظام، کلیئرنگ اور سیٹلمنٹ سسٹمز، تجارتی پلیٹ فارمز اور ٹریژری مارکیٹس شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شعبہ سائبر حملہ آوروں کے لیے ایک اہم ہدف تصور کیا جاتا ہے۔

صنعت سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق سائبر سیکیورٹی پہلے ہی اس شعبے کی اولین ترجیح رہی ہے۔

رائٹرز کے مطابق مالیاتی صنعت کی نمائندہ تنظیم سِفما کے منیجنگ ڈائریکٹر ٹوڈ کلیس مین کا کہنا ہے کہ صنعت ہر وقت سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار رہتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی کے خدشات بڑھ جائیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ امریکی سرمایہ جاتی منڈیوں کی سالمیت اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

سِفما ہر سال ایک مشق بھی منعقد کرتی ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ مالیاتی ادارے بڑے سائبر ہنگامی حالات میں بھی کام جاری رکھ سکتے ہیں یا نہیں۔

بینکاری شعبے کے ایک اور سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ بینک سائبر حملوں کے خطرے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور انہیں ایسے حملوں کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس کی ایک حالیہ رپورٹ، جس کے بارے میں برطانوی خبر رساں ادارے نے پیر کو خبر دی تھی کہ ایران سے وابستہ ہیکٹیوسٹ گروپس امریکی نیٹ ورکس پر کم درجے کے سائبر حملے کر سکتے ہیں۔ ان حملوں میں ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سروس یعنی ڈی ڈوس حملے شامل ہو سکتے ہیں، جن میں کسی سرور پر بیک وقت بہت زیادہ انٹرنیٹ ٹریفک بھیج کر اسے مفلوج کر دیا جاتا ہے۔

کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی مارننگ اسٹار ڈی بی آر ایس نے بھی خبردار کیا ہے کہ عالمی بینکوں اور اثاثہ جاتی منیجروں کے لیے سب سے بڑے خطرات بالواسطہ ہو سکتے ہیں، جیسے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ یا قرض لینے والوں کو درپیش جھٹکے۔ تاہم ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ سائبر خطرات میں اضافہ خارج از امکان نہیں اور ایران مغربی اداروں بشمول بینکوں کے خلاف سائبر سرگرمیاں بڑھا سکتا ہے۔

امریکی سرمایہ کاری بینک لازارڈ کی جغرافیائی مشاورتی ٹیم نے بھی اس ہفتے سائبر خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ ٹیم کے مطابق ایران نے ماضی میں تجارتی اہداف، جن میں مالیاتی نظام بھی شامل ہے، کے خلاف اپنی سائبر صلاحیتوں کے استعمال کا مظاہرہ کیا ہے۔

فنانشل سروسز انفارمیشن شیئرنگ اینڈ اینالیسس سینٹر کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں مالیاتی خدمات کا شعبہ ڈی ڈوس حملوں کا سب سے بڑا ہدف رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حماس اسرائیل اور روس یوکرین جنگوں کے دوران ہیکٹیوزم میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

اگرچہ حالیہ برسوں میں کسی بڑے دشمنانہ سائبر حملے کے باعث پورا مالیاتی نظام مفلوج نہیں ہوا، تاہم چھوٹے پیمانے کے ڈی ڈوس اور رینسم ویئر حملوں نے مارکیٹ کے بعض حصوں کو متاثر ضرور کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں نگرانی اور تیاری ہی ممکنہ نقصانات سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

شدید گرمی، جسم کا درجہ حرارت 106 ڈگری تک جا سکتا ہے، این آئی ایچ نے ہیٹ اسٹروک سے بچنے کا علاج بتادیا

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث شدید گرمی

Read More

TECHNOLOGY

مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار

مکہ مکرمہ کی مایہ ناز اور تاریخی درسگاہ ’ام القریٰ یونیورسٹی‘ کے کلچرل فرنٹ نے

Read More

گوگل اور اسپیس ایکس کے درمیان 30 ارب ڈالر کا تاریخی اے آئی معاہدہ

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مسابقت کے دوران گوگل نے ایلون مسک کی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.