مودی کی بانیِ ہندوستان کے نظریے سے مخالفت، اسرائیل کے آگے بِچھ گئے

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ ’کنیسٹ‘ میں اپنے حالیہ خطاب کے اختتام پر عبرانی جملہ ”ام یسرائیل خائی“ کہا تو بظاہر یہ ایک رسمی جملہ محسوس ہوا، لیکن اس کے سیاسی اور تاریخی اثرات بھارت کی پرانی خارجہ پالیسی سے بالکل مختلف نظر آئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مودی نے کھل کر بھارت کے بانی رہنماؤں کے نظریات کی مخالفت کی۔

بھارت کے بانی مہاتما گاندھی صیہونیت کے سخت ناقد تھے اور فلسطینی عربوں کے حق میں مؤقف رکھتے تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ فلسطین میں یہودی ریاست کا قیام مقامی عرب آبادی کے ساتھ ناانصافی ہوگا۔

گاندھی کے بعد بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے بھی کئی سالوں تک اسرائیل سے فاصلہ رکھا۔

بھارت نے 1950 میں اسرائیل کو تسلیم تو کیا، لیکن مکمل سفارتی تعلقات 1992 تک قائم نہیں کیے گئے تاکہ عرب ممالک اور اندرونِ ملک مسلمانوں کے جذبات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

فلسطینی کاز کی حمایت طویل عرصے تک بھارتی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ رہی۔

لیکن کنیسٹ میں مودی کا خطاب اس روایت سے مختلف تھا۔

انہوں نے وادیٔ سندھ اور وادیٔ اردن کا ذکر کرتے ہوئے دونوں ملکوں کو قدیم تہذیبوں کے طور پر پیش کیا۔

انہوں نے عبرانی اصطلاح ٹکون اولم اور سنسکرت فقرہ ”وشودھیوا کٹمبکم“ کا حوالہ دیا، اور یہودی تہواروں کو ہندو تہواروں کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا۔

انہوں نے کہا: ”بھارت اس وقت اور اس کے بعد بھی، پورے عزم اور یقین کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔“

یہ صرف سفارتی الفاظ نہیں تھے بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام تھا کہ بھارت اب اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔

سات اکتوبر کے حملوں پر مودی نے اسرائیل کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ ان کے حماس مخالف بیانات کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے سراہا اور کہا کہ مودی بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسرائیل کے ساتھ کھڑے رہے۔

مودی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے غزہ کی صورتحال پر وہ الفاظ استعمال نہیں کیے جن کا مطالبہ بھارت کی اپوزیشن کر رہی تھی۔

کانگریس رہنما پریانکا گاندھی واڈرا نے ان سے کہا تھا کہ وہ غزہ میں مبینہ نسل کشی کا ذکر کریں اور انصاف کا مطالبہ کریں، لیکن مودی نے اپنی تقریر میں اس طرح کی زبان استعمال نہیں کی۔

انہوں نے فلسطینیوں کا ذکر صرف امریکی ثالثی میں جاری امن فریم ورک کے تناظر میں کیا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ مودی نے اس سمت میں قدم بڑھایا ہو۔ 2017 میں وہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم بنے تھے۔

اس دورے میں انہوں نے اپنی تقاریر میں فلسطین کا ذکر تک نہیں کیا، جسے مبصرین نے اسرائیل اور فلسطین سے متعلق بھارتی پالیسی کو الگ کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

مودی کا یہ مؤقف ایک بڑی پالیسی تبدیلی کی علامت ہے۔ گاندھی اور نہرو کے دور میں اسرائیل کو نوآبادیاتی سیاست کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا اور فلسطینیوں کی حمایت کو اخلاقی مؤقف سمجھا جاتا تھا۔

لیکن مودی اسرائیل کو ایک قریبی شراکت دار اور ہم خیال جمہوریت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

کنیسٹ میں تقریر کے اختتام پر جب مودی نے ”ام یسرائیل خائی“ کے بعد ”جے ہند“ کہا تو یہ محض ایک نعرہ نہیں تھا بلکہ ایک واضح اشارہ تھا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی اب اپنے بانی رہنماؤں کے نظریات سے ہٹ کر ایک نئے راستے پر گامزن ہے۔

ان کے مخالفین اسے گاندھی کی سوچ سے انحراف اور فلسطینی مؤقف سے دوری قرار دیتے ہیں، جبکہ حامی اسے بدلتے عالمی حالات میں عملی سیاست کا تقاضا کہتے ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کے سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لیے

وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے

Read More

پانی چوری روکنے کیلئے خصوصی تھانہ قائم، زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ

پانی چوری کے بڑھتے واقعات روکنے کیلئے خصوصی تھانہ قائم کردیا گیا۔ پانی چوری کے

Read More

TECHNOLOGY

سعودی محققین کی بڑی کامیابی، پاس ورڈ کے بغیر ڈیوائسز کی شناخت کرنے والی جدید ٹیکنالوجی تیار

سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین نے ایک ایسی

Read More

اوپن اے آئی کل اپنا جدید ترین مصنوعی ذہانت ماڈل ’جی پی ٹی 5.6‘ متعارف کرائے گی

مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی کل (بروزجمعرات) اپنا اب تک کا جدید

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.