روس نے میسجنگ سروس واٹس ایپ کو مبینہ قانونی خلاف ورزیوں کے باعث بلاک کر دیا ہے اور صارفین کو سرکاری سرپرستی میں تیار کردہ متبادل پلیٹ فارم استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس اقدام کو یوکرین جنگ کے تناظر میں آزادی اظہار پر مزید قدغن لگانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کو اعلان کرتے ہوئے کہا کہ واٹس ایپ روسی قوانین کے تقاضوں پر عمل درآمد سے گریزاں تھا، جس کے باعث اس پر پابندی عائد کی گئی۔
انہوں نے روسی شہریوں کو میکس نامی اسٹیٹ بیکڈ پلیٹ فارم کی طرف منتقل ہونے کا مشورہ دیا، جسے میسجنگ، آن لائن سرکاری خدمات اور ادائیگیوں سمیت مختلف سہولتوں کے لیے ایک جامع ایپ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ میکس میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن موجود نہیں، جو واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر پیغامات کو نجی رکھنے کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کے علاوہ میکس کھلے عام یہ اعلان کرتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر صارفین کا ڈیٹا حکام کے ساتھ شیئر کیا جاسکتا ہے، جس سے صارفین کی پرائیویسی کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قدم روس میں ڈیجیٹل نگرانی کو مزید مضبوط بنانے اور ریاستی کنٹرول میں اضافہ کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔


































