پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن یعنی سپارکو نے جمعرات کے روز پاکستان کے دوسرے مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ (EO-2) کی کامیاب لانچنگ کا اعلان کیا ہے۔
یہ سیٹلائٹ چین کے یانگ جیانگ سی شور لانچ سینٹر سے خلا میں بھیجا گیا۔
سپارکو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سنگِ میل سیٹلائٹ کی تیاری میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور قومی خلائی پروگرام کی مسلسل مضبوطی کو اجاگر کرتا ہے۔
گزشتہ برس جنوری میں پاکستان نے اپنا پہلا مقامی سیٹلائٹ (EO-1) کی لانچنگ کے بعد 26-2025 کے دوران ہائپر اسپیکٹرل HS-1 اور PRSS-2 جیسے اہم منصوبے ممکمل کیے جاچکے ہیں۔
اس تناظر میں حالیہ پیش رفت قومی خلائی پروگرام کی رفتار کو مزید نمایاں کرتی ہے۔
پاکستانی خلائی ادارے نے جنوری 2025 میں اپنا پہلا مقامی مشاہداتی سیٹلائٹ EO-1 خلا میں بھیجا تھا۔
اس نوعیت کے سیٹلائٹ الیکٹرو آپٹیکل سینسرز کی مدد سے زمین کی سطح سے منعکس ہونے والی دھوپ یا خارج ہونے والی شعاعوں کی پیمائش کر کے ڈیٹا اور تصاویر حاصل کرتے ہیں۔

سپارکو کے مطابق EO-2 کا تصور، انجینئرنگ اور انضمام پاکستان میں سپارکو کے سیٹلائٹ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹرمیں مکمل کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اندرونِ ملک تحقیق اور سسٹمز انجینئرنگ کے ذریعے تیار کیا جانے والا یہ سیٹلائٹ ڈیزائن، پے لوڈ انٹیگریشن، جانچ اور مشن تیاری کے شعبوں میں قومی صلاحیتوں میں اضافے کا مظہر ہے۔
EO-2 کو پہلے سے مدار میں موجود EO-1 سیٹلائٹ کے ساتھ ہم آہنگی میں کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ مختلف روشنی کے حالات میں زمین کا مشاہدہ کر سکتا ہے، جس سے زمینی خدوخال کی بہتر تشریح اور تبدیلیوں کی زیادہ قابلِ اعتماد نشاندہی ممکن ہو سکے گی۔
دونوں سیٹلائٹس کی مشترکہ کارکردگی قومی مقاصد کے لیے تسلسل کے ساتھ معیاری تصاویر اور تجزیاتی درستگی فراہم کرے گی۔
سپارکو کے مطابق EO-2 کی شمولیت سے پاکستان کے ارتھ آبزرویشن فلیٹ کو مزید تقویت ملے گی اور قومی استعمال کے لیے ڈیٹا کی دستیابی میں بہتری آئے گی۔
یہ مشن اطلاقی تحقیق، ماہر افرادی قوت کی تیاری اور مقامی خلائی ڈھانچے کی منظم توسیع پر سپارکو کی توجہ کا مظہر ہے۔
جس کا مقصد ایسے قابلِ اعتماد اور مقامی طور پر تیار کردہ خلائی نظام وضع کرنا ہے جو منصوبہ بندی، طرزِ حکمرانی اور وسائل کے مؤثر انتظام میں براہِ راست معاون ثابت ہوں۔


































