دبئی،صحرا میں شام صرف ایک مشاعرہ نہیں بلکہ ایک سوچ کی عکاسی تھا جس میں ناممکن کو ممکن ہوتے ہوئے دیکھا گیا ۔ یہ محفلِ سخن اہلِ ذوق کے لیے ایک پُر مسرت اجتماع ثابت ہوئی، جہاں روایت کی پاسداری، جمالیات کا نظارا اور فکری بالیدگی کا حسین امتزاج ریت کی چادر پہ چاند کی چاندنی کی طرح پوری آب و تاب سے جلوہ گر تھا۔صحرا کی شام ادبی محفل میں شعر و سخن سے شغف رکھنے والے اہلِ قلم اور ادب نواز شخصیات کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس صحرائی مشاعرے کی خاص خوبی کہ اس میں امارات میں مقیم تمام شعرا و شاعرات شرکت کرتے ہیں اور سب کو اپنا کلام پیش کرنے کا برابر موقع دیا جاتا ہے اور ہر سال کی طرح امسال بھی کئی نئے چہرے صحرا کی ریت پر نمودار ہوئے جو یقینا آگے جا کر امارات کے ادبی حلقے میں اپنا نام نمایاں کریں گے۔





صحرا کی اس خوبصورت شام کی صدارت ہم سب کے استادِ ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی نے کی، جن کے علمی وقار، ادبی مرتبے اور ہمہ گیر شخصیت نے سرد رات کی اس صحرائی محفل کو وقار و جلال بخشا۔ نظامت کے فرائض مسرت عباس ندرالوی اور ریحان عباسی نے نہایت خوش اسلوبی، متانت اور سلیقہ مندی کے ساتھ انجام دیے۔ ممتاز نعت گو شاعر و نعت خوان مقصود احمد تبسم کے ساتھ ساتھ معروف شاعر اختر ملک نوجوان شاعر فرزاد علی زیرک ، ندیم احمد شہزاد اور ڈاکٹر کاشف رفیق مہمانانِ خصوصی کے طور پر سٹیج کی زینت بنے۔ مترنم شاعر شہباز شمسی اور ملک محمد عرفان اس محفل کے مہمانِ اعزاز رہے جب کہ سٹیج پر خواتین کی نمائیندگی کرتے ہوئے کنول ملک مہمانِ خصوصی اور حنا عباس مہمانِ اعزاز تشریف فرما تھیں۔مقامی شعرا کے ساتھ اس بار لندن سے تشریف لائے ہوئے معروف شاعر عادل مظفرپوری بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔ صحرا میں شام کی سوچ کے خالق اور اس کو پایہء تکمیل تک پہنچانے والے ہمہ گیر شاعر رضا احمد رضا اور بزمِ مسرت انٹرنیشنل کے فاونڈر و چیرمین مسرت عباس ندرالوی ۔ایچ آر کریٹیو موورز کے سی ای او حافظ حسن رضا کھوکھر اور انجینئر خرم شہزاد نے شعرائے کرام کا اسٹیج پر استقبال کیا اور انہیں سیون آر کنسلٹینسی کے طرف سے تحائف اور بزمِ مسرت انٹرنیشنل کی طرف سے اعزازی شیلڈز پیش کی گیئں۔
باقاعدہ مشاعرہ شروع ہونے سے پہلے تمام شرکاء کی تواضع بہترین کھانے سے کی گئی. اس مشاعرے میں امارت بھر سے شعرا شرکت کرتے ہیں جن کے مختلف اسالیب نے سامعین کو ہر قسم کے اشعار کا لطف دیا اور حاضرینِ محفل کی طرف سے خوب سراہے گئے۔ ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی نے نوجوانوں کی اس محنت کو سراہتے ہوئے خطبہ صدارت میں ان کو مبارکباد اور حوصلہ افزائی کی۔تقریب کے اختتام پر حاضرینِ محفل سے مختلف سوالات کیے گئے اور ان کے جوابات پر ان کو بھی تحائف دیئے گئے جبکہ بزمِ مسرت اور صحرا میں شام کی ساری ٹیم اور معاونین کو بھی اعزازی شیلڈز اور تحائف پیش کیے گئے۔
بعد ازاں رضا احمد رضا نے نہایت پرتپاک، شائستہ اور بلیغ انداز میں کلماتِ تشکر پیش کیے۔ اس محفل کی کامیابی میں مشاعرہ کوآرڈینیٹرز حافظ حسن رضا اور انجینیر خرم مرزا کی کاوشیں لائقِ تحسین رہیں۔ نظم و نسق اور انتظامی امور کو نہایت خوش اسلوبی سے انجام دینے کےلیے نوجوان رضاکاروں نے اپنی خدمات بھی پیش کیں.ادبی شخصیات کی بمعہ فیملی شرکت اور بھرپور معاونت سے یہ صحرائی مشاعرہ ایک شاندار ادبی کامیابی میں ڈھل گیا اور ادب دوست سامعین کے لیے ایک یادگار اور ناقابلِ فراموش محفل ثابت ہوا۔





































