بھارت میں یومِ جمہوریہ کی پریڈ کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ جہاں ایک طرف سوشل میڈیا صارفین بھارتی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت پر مبنی مظاہروں کا مذاق اڑا رہے ہیں وہیں یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ یہ واقعی پروفیشنل ملٹری پریڈ تھی یا کوئی ثقافتی میلہ۔
دنیا بھر میں قومی دن اور اہم تقریبات کے موقع پر عسکری طاقت، جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ تاہم بھارت میں 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں بھارتی افواج کا الگ ہی رنگ نظر آیا۔
پریڈ کے دوران موٹر سائیکل سوار دستوں کی انٹری خاص توجہ کا مرکز بنی۔ ایک منظر میں ایک ہی موٹر سائیکل پر دائیں اور بائیں جانب لٹکے سات اہلکار مخصوص انداز میں ہاتھ لہراتے ہوئے آگے بڑھتے دکھائی دیے۔
ایک اور ویڈیو میں یہی اہلکار موٹر سائیکل پر نصب جھولے نما فریم سے لٹک کر گول گول چکر کاٹتے نظر آرہے ہیں۔
ایک صارف نے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے طنز کیا کہ بھارت کی اس ملٹری پریڈ کا مقصد دفاعی طاقت کی نمائش سے دشمن کو خوفزدہ کرنا تھا۔
اسی ویڈیو پر ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ شاید بھارتی فوج دشمن کو ہنسا ہنسا کر مارنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ایک اور صارف نے ملٹری پریڈ کی چند ویڈیوز پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پتہ نہیں کہ ہندوستان جدید فوج اور دفاع کسے کہتا ہے لیکن یہ پریڈ کسی سرکس سے کم نہیں تھی۔ اب مجھے یقین ہوگیا ہے کہ پاکستانی فوج نے واقعی ہندوستان کی درگت بنائی تھی۔
پریڈ کے دوران بھارتی فوج کی خواتین اہلکاروں پر مشتمل دستے نے موٹر سائیکل پر کبھی کھڑے ہوکر اور کبھی لٹک کر مختلف اسٹنٹس کیے، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔
اس معاملے پر بھارت کے سنجیدہ حلقے بھی تبصرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بھارت کے معروف صحافی شیو ارور نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہماری افواج کے پاس کرنے کے لیے اس سے بہتر چیزیں بھی موجود ہیں۔ کیا ہم اس سرکس کی جگہ کچھ اور نہیں کرسکتے؟
واضح رہے کہ 26 جنوری 1950 میں بھارت نے اپنا تیار کردہ آئین نافذ کیا تھا اور اسی روز ملک کو جمہوری مملکت قرار دیا تھا، اسی مناسبت سے بھارت ہر سال 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ مناتا ہے۔
بھارتی ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریب میں یورپی کمیشن اور یورپی کونسل کے صدور مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ رواں سال اس تقریب کی مرکزی تھیم ’وندے ماترم کے 150 سال‘ اور وکست بھارت (ترقی یافتہ بھارت) رکھی گئی تھی۔
اس تقریب میں جہاں ملٹری پریڈ کے نام پر ہونے والے کرتب پر سوالات اُٹھے وہیں اپوزیشن جماعت کانگریس، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کَھرگے کو اگلی نشستوں کے بجائے تیسری قطار میں بٹھانے پر شدید برہم ہے۔
کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے طے شدہ پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جمہوری روایات کو مجروح کیا جبکہ حکومتی جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
کانگریس رہنما رندیپ سنگھ سرجے والا نے تصویر شیئر کی جس میں راہول گاندھی پچھلی نشستوں پر بیٹھے نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جمہوریت میں اختلافات ہوتے ہیں لیکن راہول گاندھی کے ساتھ یہ سلوک ناقابلِ قبول ہے‘۔
اسی تقریب کے دوران مستقل موبائل فون استعمال کرنے پر بی جے پی کے حامی راہول گاندھی کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس معاملے پر میمرز نے بھی خوب ہاتھ صاف کیا ہے۔





































