امریکی پینٹاگون نے اپنی نئی قومی دفاعی حکمت عملی جاری کر دی ہے، جس میں ملک کی سرحدوں کے تحفظ، عالمی اتحادیوں کے کردار اور چین و روس جیسے بڑے حریفوں سے نمٹنے کے حوالے سے اہم تبدیلیاں دکھائی گئی ہیں۔ یہ منصوبہ ’طاقت کے ذریعے امن‘ کے اصول پر مبنی ہے اور امریکا کی نئی عسکری ترجیحات کا خاکہ پیش کرتا ہے۔
پچھلی حکومتوں پر تنقید
نئی حکمت عملی میں سابقہ امریکی انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق پچھلی حکومت نے اتحادی ممالک کو اپنے دفاعی فرائض سنجیدگی سے نہ لینے کی اجازت دی، جبکہ حریفوں کو مضبوط ہونے کا موقع ملا۔ داخلی طور پر سرحدیں غیر محفوظ رہیں اور مغربی نصف کرہ میں منشیات اور دہشت گرد تنظیمیں مزید طاقتور ہو گئیں۔
ملک کی حفاظت پر زور
اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد امریکا کی سرحدوں اور ملک کی حفاظت ہے۔ پینٹاگون نے کہا ہے کہ وہ ملک کے آسمانوں، سمندری راستوں اور اہم علاقوں جیسے پاناما کینال، میکسیکو کی خلیج اور گرین لینڈ کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ اس میں جدید نیوکلیئر دفاع، سائبر سیکورٹی اور ممکنہ دہشت گردانہ خطرات کا مقابلہ شامل ہے۔
چین کو روکنے کی حکمت
نئی دفاعی دستاویز میں چین کو براہ راست خطرہ قرار نہیں دیا گیا بلکہ اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ حکمت عملی میں واضح کیا گیا ہے کہ مقصد چین کو نقصان پہنچانا یا اسے رسوا کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ وہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں پر غالب نہ آ سکے۔

روس کے حوالے سے رویہ
روس کو بھی خطرہ قرار دیا گیا ہے لیکن اسے ’قابلِ انتظام‘ سمجھا گیا ہے۔ امریکی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ یورپی اتحادی خود روس کے خطے میں مسائل حل کریں، جبکہ امریکا صرف اپنے ملک کی حفاظت پر توجہ دے گا۔ روس کے پاس سب سے بڑا نیوکلیئر ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے اور اس کی فوجی طاقت ابھی بھی مؤثر ہے۔
اتحادی ممالک سے تعاون کی توقع
نئی دفاعی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ امریکا اب اتحادی ممالک سے اپنی ذمہ داریوں میں حصہ لینے کا مطالبہ کرے گا۔ اسرائیل کو ’مثالی اتحادی‘ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ دیگر ممالک بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ امریکہ اپنے داخلی دفاع پر توجہ مرکوز کر سکے۔




































