ایران جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے آمادہ، امریکا سے امن معاہدے کی کوششیں تیز، قشم پر دو میزائل حملے

ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق امور پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کردی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق تہران نے ایسے جوہری معاملات پر گفتگو کے لیے لچک دکھائی ہے جنہیں اس سے پہلے مذاکرات کے دائرے سے باہر رکھا گیا تھا۔ اس پیشرفت کو امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اسی دوران ایران کے جنوبی جزیرے قشم پر 2 میزائل حملوں کی اطلاعات نے خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔

بلومبرگ کی صحافی فیونا میکڈونلڈ کی 6 نومبر کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات سے واقف ایک سفارتکار نے بتایا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق ان تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے جو ثالثی کرنے والے ملک قطر نے پیش کی ہیں۔ سفارتکار کے مطابق تہران کی جانب سے جوہری معاملات پر بات چیت کے لیے آمادگی امن مذاکرات میں اہم پیشرفت کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ رپورٹ جاپان ٹائمز نے بھی بلومبرگ کے حوالے سے شائع کی ہے۔

قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ امن معاہدے کے لیے کسی ’بہترین وقت‘ کا انتظار نہ کریں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کوئی معاہدہ مکمل طور پر مثالی نہیں ہوتا، لیکن بہتر معاہدے کے حصول کے لیے دستیاب موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق خطے کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے حوالے سے یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات تعطل کا شکار رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ تہران نے قطر کے ذریعے امریکا کو جوہری امور سے متعلق اپنی ایک تجویز بھی بھیجی ہے۔ تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ اس تجویز پر باضابطہ بات چیت واشنگٹن کی جانب سے اس کے سات مطالبات پورے کیے جانے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔

ایران کے مطالبات میں امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، پابندیوں میں نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی، جنگی نقصانات کا معاوضہ اور خطے میں فوجی کارروائیوں کا خاتمہ شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اصرار ہے کہ جنگ کے خاتمے کے کسی بھی معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا معاملہ شامل ہونا چاہیے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ثالثی کرنے والے فریقوں اور ایران کے درمیان ایک عبوری معاہدے کی تجاویز پر بھی بات ہوئی ہے، جس کا مقصد جوہری پروگرام پر وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ مجوزہ اقدامات میں امریکی ناکہ بندی ختم کرنے، ایران کے منجمد اثاثوں میں سے بعض رقم جاری کرنے اور ایران کی جانب سے ان جوہری تنصیبات پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو رسائی دینے جیسے معاملات شامل ہیں جنہیں امریکا اور اسرائیل نے نشانہ بنایا تھا۔

تجاویز کے مطابق ان اقدامات کے بعد ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرسکتا ہے، جب کہ بعد کے مذاکرات میں افزودہ یورینیم کے ذخیرے اور جوہری پروگرام کے دیگر پہلوؤں پر بات ہوسکتی ہے۔ تاہم ان تجاویز پر کسی حتمی اتفاق یا معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایران کے جنوبی جزیرے قشم پر 2 میزائل گرے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی خبر ایجنسی نے کہا کہ واقعے میں ممکنہ نقصان سے متعلق سرکاری معلومات دستیاب نہیں تھیں اور مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ خبر رساں ایجنسی ارنا نے مقامی عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ جزیرے کے علاقے سوزا میں طیارے کی آواز سنائی دینے کے بعد 2 پروجیکٹائل گرے۔ تاہم حملے کے ذمہ دار فریق اور ہدف کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو قشم کے قریب ایرانی فضائی دفاعی نظام پر محدود حملوں کی تصدیق کی تھی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی حکام نے ان کارروائیوں کا جواز امریکی فوجی اثاثوں کے خلاف خطرات کو قرار دیا، جب کہ ایران کی جانب سے بھی حملوں اور جوابی کارروائیوں سے متعلق دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔

قطر دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ رائٹرز کے مطابق قطری وفد نے تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کی اور تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔ قطر کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے ساتھ رابطے برقرار ہیں اور فریقوں کے درمیان سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم ترین بحری راستہ ہے۔ یہاں کسی بھی فوجی کشیدگی یا بحری آمدورفت میں رکاوٹ کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں ایران کی جانب سے جوہری امور پر بات چیت کے لیے آمادگی اور قشم پر میزائل حملوں کی اطلاعات خطے میں سفارت کاری اور فوجی کشیدگی کے بیک وقت جاری رہنے کی عکاسی کرتی ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

بھارت نے چھیڑا تو انجام دیکھ لیا، مودی آج تک منہ چھپاتا پھر رہا ہے، گورنر سندھ

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے نمائش چورنگی پر نجی این جی او کی جانب

Read More

نادرا نے کراچی کی اہم برانچ میں خدمات عارضی طور پر معطل کر دیں

نادرا (نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی) نے کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں اپنی

Read More

TECHNOLOGY

ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کا اے آئی گلاسز پر کام جاری

ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کم از کم

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.