کائنات کا بڑا سائنسی معمہ: ہم کبھی اپنے ہمشکل اینٹی میٹر سے مل گئے تو کیا ہوگا، یہ آخر ہے کیا؟

سائنس دانوں نے پہلی مرتبہ اینٹی میٹر کے ایک ذرے کو مہینوں تک قابو میں رکھنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ عام مادے سے ٹکرانے پر توانائی میں تبدیل ہوجانے والا یہ پراسرار مادہ آخر ہے کیا، کائنات میں اس کی موجودگی کیوں اہم ہے اور اگر کسی انسان کا سامنا اس کے اینٹی میٹر سے بنے ہوئے ہم شکل سے ہوجائے تو کیا ہوگا؟

ہم جس دنیا میں رہتے ہیں اس کی ہر چیز کسی نہ کسی شکل میں مادے سے بنی ہے۔ ہمارا جسم، زمین، سمندر، پہاڑ، ہوا، سورج، ستارے اور دور دراز کہکشائیں، سب اسی مادے کی مختلف شکلیں ہیں۔ لیکن طبیعیات کی دنیا میں ایک ایسی چیز بھی موجود ہے جو بظاہر ہمارے جانے پہچانے مادے جیسی ہی ہے مگر اس کی خصوصیات میں ایک بنیادی فرق ہے۔ اسے اینٹی میٹر (ضد مادہ) کہا جاتا ہے۔

اینٹی میٹر کو سمجھنے کے لیے یوں تصور کریں کہ اگر ہمارے جسم، زمین اور کائنات میں موجود ہر بنیادی ذرے کا ایک ایسا ہم شکل ہو جس کی بعض بنیادی خصوصیات، بالخصوص برقی چارج اس کے بالکل برعکس ہوں تو یہ اینٹی میٹر کی دنیا ہوگی۔

یہ کوئی خیالی تصور نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ سائنس دان اینٹی میٹر کے ذرات بنا بھی چکے ہیں، ان کا مطالعہ بھی کر رہے ہیں اور انہیں انتہائی مخصوص حالات میں محفوظ رکھنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔

تاہم اینٹی میٹر کی سب سے حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ جب یہ عام مادے کے اپنے متعلقہ مخالف ذرے سے ٹکراتا ہے تو دونوں فنا ہوکر توانائی اور دوسرے ذیلی ذرات میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ سائنس کی زبان میں اس عمل کو اینائیلیشن (مکمل تباہی یاصفحہ ہستی سے مٹنا) کہا جاتا ہے۔

لیکن اینٹی میٹر کا معاملہ صرف غیر معمولی توانائی پیدا کرنے تک محدود نہیں۔ اس سے وابستہ ایک ایسا سوال بھی ہے جس کا جواب سائنس دان کئی دہائیوں سے تلاش کر رہے ہیں کہ اگر کائنات کی ابتدا میں مادہ اور اینٹی میٹر تقریباً برابر مقدار میں پیدا ہوئے تھے تو آج ہماری کائنات میں مادہ ہی کیوں موجود ہے؟

اینٹی میٹر آخر ہے کیا اور یہ عام مادے سے کیسے مختلف ہے؟

اس سوال کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ عام مادہ کن چیزوں سے بنتا ہے۔

ہمارے جسم سمیت دنیا کی بیشتر اشیا ایٹموں سے بنی ہیں۔ ایک ایٹم میں پروٹون، نیوٹران اور الیکٹران ہوتے ہیں۔ پروٹون پر مثبت برقی چارج ہوتا ہے اور الیکٹران پر منفی چارج ہوتا ہے جبکہ نیوٹران برقی طور پر غیر جانب دار ہوتا ہے۔

اب دلچسپ بات یہ ہے کہ ان بنیادی ذرات میں سے ہر ایک کا ایک مخالف ذرہ بھی موجود ہوتا ہے، جسے اینٹی پارٹیکل کہا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر الیکٹران کا مخالف ذرہ پوزیٹرون کہلاتا ہے۔ اس کا کمیت الیکٹران کے برابر لیکن برقی چارج مثبت ہوتا ہے۔ پروٹون کا مخالف ذرہ اینٹی پروٹون کہلاتا ہے۔ اس کا کمیت پروٹون کے برابر مگر برقی چارج منفی ہوتا ہے۔ نیوٹران کا بھی مخالف ذرہ موجود ہے جسے اینٹی نیوٹران کہتے ہیں۔ اگرچہ دونوں برقی طور پر غیر جانب دار ہوتے ہیں لیکن ان کے اندرونی بنیادی ذرات اور بعض دوسری کوانٹم خصوصیات مختلف ہوتی ہیں۔

گویا الیکٹران، پروٹون اور نیوٹران سے عام ایٹم بنتا ہے جبکہ ان کے مخالف ذرات سے اینٹی ایٹم تشکیل پا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک عام ہائیڈروجن ایٹم ایک پروٹون اور ایک الیکٹران سے بنتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اینٹی ہائیڈروجن ایک اینٹی پروٹون اور ایک پوزیٹرون سے بنتا ہے۔

اصولی طور پر اگر کسی کائنات میں اینٹی ایٹموں سے ستارے، سیارے اور دوسرے پیچیدہ ڈھانچے بنائے جائیں تو وہاں بھی ایک ایسی دنیا وجود میں آسکتی ہے جو بظاہر ہماری دنیا سے بہت مختلف نہ ہو۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ نظریاتی طور پر اینٹی میٹر سے بنے ہوئے ایٹم، مالیکیول اور حتیٰ کہ پیچیدہ حیاتیاتی ساختوں کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے۔ تاہم سائنس دانوں نے ابھی تک اینٹی میٹر سے بنا کوئی جاندار یا انسان دریافت نہیں کیا۔

اگر انسان کا سامنا اس کے اینٹی میٹر سے بنے ہم شکل سے ہوجائے تو کیا ہوگا؟

یہ اینٹی میٹر سے متعلق سب سے دلچسپ اور بظاہر خوفناک سوالات میں سے ایک ہے۔

تصور کریں کہ ایک انسان آپ کے سامنے کھڑا ہے اور اس کی شکل، قد، وزن اور جسمانی ساخت آپ جیسی ہے لیکن فرق صرف یہ ہے کہ اس کا پورا جسم اینٹی میٹر کے ایٹموں سے بنا ہوا ہے۔

یعنی اس کے جسم میں عام پروٹون اور الیکٹران کے بجائے اینٹی پروٹون اور پوزیٹرون موجود ہیں۔ وہ بظاہر آپ ہی کی طرح دکھائی دے سکتا ہے لیکن بنیادی سطح پر اس کی ساخت آپ کے جسم سے بالکل مختلف ہوگی۔

ایک دوسرے کو چھونے سے کیا ہوگا؟

اب اگر آپ دونوں ایک دوسرے کو چھونے کی کوشش کریں تو کیا ہوگا؟ اس کا جواب انتہائی غیر معمولی ہے۔ جیسے ہی آپ کے جسم کا کوئی حصہ اس اینٹی میٹر سے بنے انسان کے جسم سے رابطے میں آئے گا دونوں طرف کے متعلقہ ذرات ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے اور اینائیلیشن کا عمل شروع ہوجائے گا۔

مثلاً آپ کے جسم کا ایک الیکٹران اس کے جسم کے پوزیٹرون سے ٹکرائے گا تو دونوں فنا ہوکر توانائی کی صورت میں تبدیل ہوجائیں گے۔ اسی طرح پروٹون اور اینٹی پروٹون کے ٹکراؤ سے بھی توانائی اور دوسرے ذیلی ذرات پیدا ہوں گے۔

اس عمل میں غیر معمولی مقدار میں توانائی خارج ہوگی جس میں انتہائی توانائی والے فوٹونز اور دوسرے ذرات شامل ہوں گے۔

تاہم ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں انسان کسی جادوئی دھماکے کی طرح ایک ہی لمحے میں مکمل طور پر غائب ہوجائیں گے۔ اینائیلیشن وہاں شروع ہوگی جہاں دونوں کے ذرات کا رابطہ ہوگا۔ اس کے بعد خارج ہونے والی شدید توانائی اور ذرات اردگرد کے مادے کو بھی متاثر کرسکتے ہیں جبکہ دونوں جسموں کا مزید رابطہ اور تباہی ایک پیچیدہ طبیعیاتی عمل ہوگا۔

یعنی ایسا تصادم کسی عام جسمانی ٹکراؤ جیسا نہیں ہوگا بلکہ انتہائی تباہ کن توانائی خارج ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔

ایک گرام اینٹی میٹر کتنا خطرناک ہوسکتا ہے؟

اس کی شدت سمجھنے کے لیے آئن اسٹائن کے مشہور مساواتی اصول کو دیکھتے ہیں: ۔E = mc² اس مساوات کے مطابق مادہ اور توانائی ایک دوسرے میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ یہاں ’ای‘ توانائی، ’ایم‘  کمیت اور ’سی‘  روشنی کی رفتار کو ظاہر کرتا ہے۔

جب ایک گرام اینٹی میٹر ایک گرام عام مادے سے مکمل طور پر ٹکراتا ہے تو دونوں کی مجموعی کمیت توانائی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

حساب کے مطابق اس عمل میں تقریباً 90 کھرب جول نہیں بلکہ 180 کھرب جول (1.8 × 10¹⁴ جول) توانائی خارج ہوگی، جو تقریباً 43 کلوٹن ٹی این ٹی کے دھماکے کے برابر توانائی ہے۔

یہاں ایک اہم وضاحت بھی ضروری ہے کہ توانائی کی یہ مساواتی مقدار کسی جوہری بم کے اثرات سے ہر اعتبار سے یکساں نہیں ہوتی کیونکہ توانائی کے اخراج اور اس کے اردگرد منتقل ہونے کے طریقے مختلف ہوسکتے ہیں۔

اس کے باوجود یہ مثال واضح کرتی ہے کہ اینٹی میٹر کی انتہائی معمولی مقدار بھی کتنی بڑی توانائی اپنے اندر رکھتی ہے۔

البتہ فی الحال کسی انسان یا کسی بڑے جسم کے اینٹی میٹر سے بنے ہم شکل کا سامنا ہونے کا کوئی حقیقی امکان موجود نہیں کیونکہ سائنس دان ابھی انتہائی معمولی مقدار میں بھی اینٹی میٹر تیار کرنے اور محفوظ رکھنے کے لیے غیر معمولی محنت کر رہے ہیں۔

کائنات میں اینٹی میٹر کہاں سے آیا اور پھر غائب کیوں ہوگیا؟

اینٹی میٹر کی کہانی کائنات کی ابتدا یعنی بگ بینگ سے جڑی ہوئی ہے۔

موجودہ سائنسی نظریات کے مطابق تقریباً 13.8 ارب سال قبل کائنات ایک انتہائی گرم اور کثیف حالت سے پھیلنا شروع ہوئی۔ ابتدائی کائنات میں توانائی سے مادے اور اینٹی میٹر کے ذرات پیدا ہوئے۔

طبیعیات دانوں کے مطابق بنیادی ذرات اور ان کے مخالف ذرات عام طور پر جوڑوں کی صورت میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے توقع کی جاتی تھی کہ بگ بینگ کے بعد مادہ اور اینٹی میٹر تقریباً برابر مقدار میں موجود ہوں گے۔

اگر ایسا ہی ہوا تھا تو پھر دونوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر فنا ہوجانا چاہیے تھا۔ نتیجتاً کائنات میں زیادہ تر توانائی باقی رہتی اور ستارے، سیارے، کہکشائیں اور زندگی وجود میں نہ آتیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

ہماری کائنات میں مادہ ہر جگہ موجود ہے جبکہ اینٹی میٹر کی قدرتی بڑی مقدار یا اس سے بنی ہوئی کہکشاؤں کا اب تک کوئی قابل اعتماد ثبوت نہیں ملا۔

سائنس دانوں کے مطابق ممکن ہے کہ کائنات کی ابتدا میں مادے کی مقدار اینٹی میٹر کے مقابلے میں انتہائی معمولی سی زیادہ رہی ہو۔ یورپی ادارے سرن کی وضاحت کے مطابق ایک ارب اینٹی ذرات کے مقابلے میں مادے کا تقریباً ایک اضافی ذرہ باقی رہ گیا ہو تو اسی معمولی فرق نے بالآخر پوری کائنات کی موجودہ شکل کو ممکن بنایا۔

یعنی جب مادہ اور اینٹی میٹر ایک دوسرے سے ٹکرا کر فنا ہوئے تو تھوڑا سا اضافی مادہ باقی رہ گیا جس سے وقت گزرنے کے ساتھ ستارے، سیارے اور بالآخر زندگی وجود میں آئی۔

مادے کو یہ معمولی برتری کیسے حاصل ہوئی؟

طبیعیات میں اس مسئلے کو مادہ اور اینٹی میٹر کے عدم توازن کی پہیلی کہا جاتا ہے۔

سائنس دان اس کی وضاحت کے لیے مختلف نظریات اور تجربات پر کام کر رہے ہیں۔ بعض ذرات کے رویوں میں مادے اور اینٹی میٹر کے درمیان معمولی فرق بھی دریافت ہوچکا ہے لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کائنات میں موجود مادے کی غیر معمولی برتری کی مکمل وجہ کیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اینٹی میٹر کا مطالعہ محض ذرات کی تحقیق نہیں بلکہ اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے کہ آخر ہماری کائنات اور اس میں موجود زندگی وجود میں کیسے آئی۔

سائنس دان اینٹی میٹر کو محفوظ کیوں نہیں رکھ سکتے؟

اینٹی میٹر کے بارے میں جاننا جتنا دلچسپ ہے، اسے محفوظ رکھنا اتنا ہی مشکل ہے۔

عام مادے کو کسی بوتل، ڈبے یا دھاتی برتن میں رکھا جاسکتا ہے لیکن اینٹی میٹر کے ساتھ ایسا ممکن نہیں۔ اگر اینٹی میٹر کسی عام برتن کی دیوار سے بھی ٹکرا جائے تو اس کے ذرات برتن کے عام مادے کے متعلقہ ذرات سے ٹکرا کر فنا ہوجائیں گے۔

اسی لیے سائنس دان اسے کسی روایتی ڈبے میں رکھنے کے بجائے انتہائی مخصوص برقی اور مقناطیسی میدانوں کی مدد سے خالی جگہ میں معلق رکھتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے ایسی مشینیں استعمال کی جاتی ہیں جنہیں ’پیننگ ٹریپ‘  کہا جاتا ہے۔ ان میں برقی اور مقناطیسی میدانوں کی مدد سے چارج رکھنے والے ذرات کو ایک مخصوص جگہ پر قابو میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ کسی عام مادے کو چھو نہ سکیں۔

اس پورے عمل کے لیے انتہائی بہتر خلا (ویکیوم) بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ اینٹی میٹر کے ذرات ہوا کے عام ایٹموں سے بھی نہ ٹکرائیں۔

دوسری جانب انہیں انتہائی کم درجہ حرارت پر ٹھنڈا کیا جاتا ہے تاکہ ان کی حرکت اور توانائی کو قابو میں رکھنا آسان ہو۔

یہی وجہ ہے کہ اینٹی میٹر کو تیار کرنا، اسے پکڑنا اور طویل عرصے تک محفوظ رکھنا جدید طبیعیات کے مشکل ترین تجربات میں شمار ہوتا ہے۔

مہینوں تک ایک اینٹی میٹر ذرہ محفوظ رکھنے میں سائنس دانوں کی کامیابی

اینٹی میٹر سے متعلق حالیہ تحقیق میں امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے طبیعیات دانوں نے ایک اہم پیشرفت کی ہے۔

جیرالڈ گیبریلس اور ان کی ٹیم نے اینٹی میٹر کے ایک بنیادی ذرے پوزیٹرون کو ایک خصوصی تجرباتی نظام میں پکڑنے اور مہینوں تک محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

یہ تجربہ اس لیے اہم ہے کہ پوزیٹرون دراصل الیکٹران کا اینٹی پارٹیکل ہے اور اس کی خصوصیات کا انتہائی درست پیمانے پر مطالعہ مادے اور اینٹی میٹر کے درمیان ممکنہ فرق کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

محققین نے پوزیٹرون حاصل کرنے کے لیے سوڈیم 22 نامی تابکار عنصر کے ایٹمی مرکزوں سے خارج ہونے والے ذرات استعمال کیے۔ یہ ذرات ابتدا میں بہت زیادہ توانائی رکھتے تھے اس لیے انہیں پہلے سست کیا گیا اور پھر برقی و مقناطیسی میدانوں کی مدد سے ایک انتہائی بہتر خلا والے مخصوص جال میں پہنچایا گیا۔

اس کے بعد پوزیٹرون کو تقریباً 300 ملی کیلون درجہ حرارت تک ٹھنڈا کیا گیا جو مطلق صفر سے محض 0.3 ڈگری زیادہ ہے۔

مطلق صفر درجہ حرارت منفی 273.15 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور اسے وہ انتہائی حد سمجھا جاتا ہے جہاں کسی نظام کی حرارتی توانائی اپنی کم ترین ممکنہ سطح پر ہوتی ہے۔

اس قدر کم درجہ حرارت پر پوزیٹرون کو اس کی کوانٹم گراؤنڈ اسٹیٹ میں پہنچایا گیا۔ آسان الفاظ میں اس کا مطلب ہے کہ ذرہ اپنی کم ترین ممکنہ کوانٹم توانائی کی حالت میں موجود تھا۔

محققین نے اس تجرباتی نظام کی مدد سے نہ صرف اس ذرے کو طویل عرصے تک محفوظ رکھا بلکہ مائیکرو ویوز کے ذریعے اس کی توانائی کی کوانٹم حالتوں کو تبدیل کرنے اور ان تبدیلیوں کا مشاہدہ کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کی۔

یہ پیشرفت اس لیے اہم ہے کہ اب سائنس دان پوزیٹرون کی مقناطیسی خصوصیات کو پہلے سے کہیں زیادہ درستگی کے ساتھ ناپنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے فزیکل ریویو لیٹرز میں شائع ہوئے ہیں۔

الیکٹران اور پوزیٹرون میں فرق ملا تو تبدیلی آسکتی ہے

الیکٹران اور پوزیٹرون میں فرق ملا تو طبیعیات کی دنیا بدل سکتی ہے۔ اس تحقیق کا اصل مقصد صرف اینٹی میٹر کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنا نہیں بلکہ مادے اور اینٹی میٹر کے درمیان ممکنہ فرق تلاش کرنا ہے۔

محققین اب یہ جانچنا چاہتے ہیں کہ پوزیٹرون کی مقناطیسی خصوصیات الیکٹران کی خصوصیات سے کس حد تک مطابقت رکھتی ہیں۔

کسی بنیادی ذرے کی مقناطیسی خصوصیت کو اس کا مقناطیسی مومنٹ کہا جاتا ہے۔ یہ اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ ذرہ مقناطیسی میدان کے ساتھ کس طرح تعامل کرتا ہے۔

موجودہ سائنسی نظریے یعنی اسٹینڈرڈ ماڈل کے مطابق الیکٹران اور پوزیٹرون کی متعلقہ مقناطیسی خصوصیات میں بنیادی ہم آہنگی ہونی چاہیے۔

جیرالڈ گیبریلس کی ٹیم اس سے قبل ایک الیکٹران کو خصوصی نظام میں محفوظ کرکے اس کے مقناطیسی مومنٹ کی انتہائی درست پیمائش کرچکی ہے۔ اب محققین اسی نوعیت کی پیمائش پوزیٹرون کے لیے کرنا چاہتے ہیں تاکہ دونوں کا براہ راست موازنہ کیا جاسکے۔

اگر ان پیمائشوں میں کوئی ایسا بنیادی فرق سامنے آتا ہے جس کی موجودہ نظریات وضاحت نہیں کرسکتے تو یہ طبیعیات کی دنیا میں ایک بہت بڑی دریافت ہوگی۔

گیبریلس کے مطابق اگر دونوں ذرات کی پیمائشیں توقع کے برعکس مختلف نکلیں تو یہ گزشتہ ایک صدی کی طبیعیات کی سب سے بڑی دریافت ثابت ہوسکتی ہے۔

اس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اسٹینڈرڈ ماڈل اگرچہ بنیادی ذرات اور کائنات کی تین بنیادی قوتوں کی وضاحت کرنے والا انتہائی کامیاب نظریہ ہے لیکن یہ کائنات میں مادے کی موجودہ برتری کی مکمل وضاحت نہیں کرسکتا۔

اینٹی میٹر سے توانائی اور بجلی پیدا کی جاسکتی ہے؟

اینٹی میٹر کی غیر معمولی توانائی کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا مستقبل میں اسے بجلی پیدا کرنے یا گاڑیاں اور خلائی جہاز چلانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے؟

اصولی طور پر اس کا جواب ہاں ہے لیکن عملی طور پر ایسا کرنا فی الحال ممکن نہیں۔

اینٹی میٹر اور عام مادے کے ٹکراؤ میں ان کی کمیت کا تقریباً پورا حصہ توانائی میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ توانائی پیدا کرنے کے انتہائی مؤثر طریقوں میں شمار ہوتا ہے۔

تاہم مسئلہ یہ ہے کہ اینٹی میٹر خود سے قدرتی طور پر بڑی مقدار میں دستیاب نہیں۔ اسے تیار کرنے کے لیے انتہائی پیچیدہ اور مہنگے سائنسی آلات درکار ہوتے ہیں جبکہ اس کی تیاری میں خرچ ہونے والی توانائی اس سے حاصل ہونے والی توانائی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

سرن کے مطابق اگر اس ادارے کی اینٹی میٹر فیکٹری پورا سال مسلسل کام کرے اور تیار ہونے والے اینٹی پروٹونز کو بھی مکمل طور پر محفوظ کرلیا جائے تو ان سے حاصل ہونے والی توانائی محض چند سو جول کے برابر ہوگی۔

یعنی فی الحال اینٹی میٹر سے بجلی پیدا کرنے کے بجائے اسے تیار کرنے اور محفوظ رکھنے پر کہیں زیادہ توانائی خرچ ہوتی ہے۔

اس کے باوجود اینٹی میٹر کا سائنسی مطالعہ کئی شعبوں کے لیے اہم ہے۔ مثال کے طور پر طب میں پوزیٹرون ایمیشن ٹوموگرافی کے ذریعے جسم کے اندرونی حصوں کی تصاویر حاصل کی جاتی ہیں۔ اس تکنیک میں تابکار مادے سے خارج ہونے والے پوزیٹرون جسم کے اندر موجود الیکٹرانز سے ٹکرا کر مخصوص توانائی کے فوٹونز پیدا کرتے ہیں جنہیں اسکینر شناخت کرکے جسم کے اندر کی تصویر تیار کرتا ہے۔

اس طرح اینٹی میٹر کے بنیادی ذرات پہلے ہی جدید طبی تشخیص میں استعمال ہورہے ہیں۔

کیا کائنات میں ایسی کوئی دنیا موجود ہے؟

کیا ہماری کائنات میں اینٹی میٹر سے بنی کوئی دنیا بھی موجود ہوسکتی ہے؟ یہ سوال ابھی تک سائنس دانوں کے لیے ایک معمہ ہے۔

طبیعیات کے اصولوں کے مطابق اینٹی میٹر کے ذرات سے اینٹی ایٹم اور اینٹی مالیکیول بن سکتے ہیں۔ لہٰذا اصولی طور پر اینٹی میٹر سے ستارے، سیارے اور بڑے فلکیاتی ڈھانچے بننے کا تصور بھی ناممکن نہیں۔

اگر کہیں اینٹی میٹر سے بنی ہوئی کوئی دنیا موجود ہو تو وہاں کے ایٹموں، مادے اور کیمیائی عمل کی بنیاد بھی ہماری دنیا کے اصولوں سے بڑی حد تک مطابقت رکھ سکتی ہے۔

تاہم اگر ایسی کوئی دنیا عام مادے سے بنی ہماری دنیا کے قریب ہو تو دونوں کے درمیان رابطے کے مقامات پر اینائیلیشن کا عمل ہوگا۔

اب تک سائنس دانوں کو اینٹی میٹر سے بنی کسی کہکشاں یا بڑے فلکیاتی علاقے کا قابل اعتماد ثبوت نہیں ملا۔ اگرچہ کائنات میں اینٹی میٹر کے ذرات قدرتی طور پر بھی پیدا ہوتے ہیں، لیکن ان کی مقدار انتہائی معمولی ہے۔

اینٹی میٹر کا سب سے بڑا راز اب بھی وہی ہے کہ اگر بگ بینگ کے وقت مادہ اور اینٹی میٹر تقریباً برابر مقدار میں پیدا ہوئے تھے تو پھر ہماری کائنات میں مادہ ہی کیوں باقی رہ گیا؟

ممکن ہے اس سوال کا جواب کسی ایسے بنیادی سائنسی اصول میں چھپا ہو جسے ابھی تک دریافت نہیں کیا جاسکا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ایک ایسے دور میں بھی جب انسان دور دراز سیاروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے اور طبیعیات دان ایک ہی اینٹی میٹر ذرے کو مہینوں تک محفوظ رکھنے پر اربوں ڈالر کی سائنسی تحقیق نہیں بلکہ انتہائی باریک تجربات کے ذریعے کائنات کے وجود کا راز تلاش کر رہے ہیں۔ کیونکہ اس سوال کا جواب صرف اینٹی میٹر کو سمجھنے تک محدود نہیں بلکہ یہ جاننے میں بھی مدد دے سکتا ہے کہ آخر ہم، ہماری زمین اور پوری کائنات وجود میں کیسے آئی۔

Share On Social Media

KARACHI

میٹرک امتحانات کے تیسرے روز بھی بد نظمی ، فرنیچر کی عدم دستیابی ، بجلی کی بندش برقرار

میٹرک بورڈ کے سالانہ امتحانات کا تیسرا روز بھی بدنظمی کا شکار رہا بعض امتحانی

Read More

آئین سے کھلو اڑ اور مرضی کی ترامیم سے ملک نہیں چل سکتا:حافظ نعیم

 امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ہمارا نظامِ انصاف ایک تعفن

Read More

TECHNOLOGY

مشہور سرچ انجن 30 سال بعد باضابطہ طور پر بند

انٹرنیٹ کی دنیا کا ایک انقلابی سرچ انجن Ask.com تقریباً 30 سال بعد باضابطہ طور پر بند

Read More

نوجوانوں کی ڈیجیٹل مہارتوں کا ڈیٹا: پاکستان میں پہلی بار آئی ٹی مردم شماری کا فیصلہ

: وفاقی حکومت نے ملک میں پہلی مرتبہ آئی ٹی مردم شماری کروانے کا اصولی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.