نیتن یاہو کی حکومت کا تختہ پلٹنے کا امکان، آئزنکوٹ کی حکومت سازی میں اہم پیش رفت

اسرائیل کی نوتشکیل شدہ سیاسی جماعت ”یشار“ کے سربراہ اور سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ نے ہنگامی قومی حکومت کی تشکیل کے لیے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت مکمل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جس کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت خطرے میں آگئی ہے۔

حال ہی میں منعقدہ اسرائیلی انتخابات کے بعد کسی بھی فریق کو حکومت سازی کے لیے واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرتزوگ آئندہ اتوار کو پارلیمانی جماعتوں کی سفارشات کی روشنی میں نئی مخلوط حکومت بنانے کا باضابطہ مینڈیٹ دینے والی شخصیت کا اعلان کریں گے۔

گادی آئزنکوٹ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ چار صیہونی اصلاحاتی جماعتوں پر مشتمل نئی حکومت کی تشکیل کے لیے تیزی سے کام کر رہے ہیں، جو جلد حلف اٹھائے گی، جبکہ اس عمل میں بنیادی اصولوں سے اتفاق کرنے والی دیگر جماعتوں کے لیے بھی دروازے کھلے ہیں۔

انہوں نے موجودہ وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے پاس رکھنا ایک خطرناک صورت حال ہے جسے مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

رپورٹ کے مطابق آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے اور انہیں تقریباً 67 ارکان کی حمایت مل سکتی ہے۔

دوسری جانب الیکشن میں 120 میں سے 27 نشستیں حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی لیکود پارٹی کے سربراہ بنیامن نیتن یاہو کو اس وقت شدید سیاسی دھچکا لگا جب ان کے دیرینہ اتحادی اور سخت گیر مذہبی یہودیوں کی نمائندگی کرنے والی جماعت ”یہودوت ہتوراۃ“ نے آئندہ حکومتی اتحاد کے لیے ان کے نام کی سفارش کرنے سے گریز کیا۔

ماضی کے پانچ انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت کرنے والی اس سات نشستوں کی حامل پارٹی کے اس فیصلے کو وزیراعظم کو سزا دینے اور ان کے ووٹوں کو غیر مشروط نہ سمجھنے کا پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ عرب جماعتوں پر مشتمل ’جوائنٹ لسٹ‘ اور ’یونائیٹڈ عرب لسٹ‘ نے بھی نیتن یاہو کی اقتدار میں واپسی کو روکنے کے لیے آئزنکوٹ کو حکومت سازی کی سفارش کرنے کا اعلان کیا ہے، اگرچہ اس تعاون پر اپوزیشن کے اندر بھی کچھ تحفظات پائے جاتے ہیں۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرتزوگ کی زیرِ صدارت سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورتی دور مکمل ہو چکا ہے، اور صدر عام طور پر ہر امیدوار کے لیے موصول ہونے والی پارٹی سفارشات کی بنیاد پر حکومت سازی کا فیصلہ کرتے ہیں۔

آئینی ضابطوں کے مطابق حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپے جانے والے امیدوار کے پاس ابتدائی طور پر 28 دن کی مہلت ہوگی، جس میں مزید 14 دن کی توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

دریں اثنا، فلسطینی قیادت کی طرف سے بھی اس سیاسی عمل پر نظر رکھی جا رہی ہے، جہاں فلسطینی نائب صدر حسین شیخ نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی آنے والی اسرائیلی حکومت بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے گی اور فلسطینی عوام کے حقوق کو تسلیم کرے گی۔

Share On Social Media

KARACHI

پراپرٹی سیکٹر کے ٹیکسوں میں بڑی کمی، ڈیلرز نے قیمتوں میں مزید اضافے کی پیشگوئی کردی

حکومت کی جانب سے بجٹ میں پراپرٹی سیکٹر کے لیے بڑے ریلیف پیکج اور خرید

Read More

عوام کے لیے اچھی خبر: حکومت نے ایل پی جی کی قیمت میں بڑی کمی کردی

حکومت نے نئے مالی سال کے آغاز پر لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی

Read More

TECHNOLOGY

اوپن اے آئی کے تجرباتی ماڈلز خو ہی ہیکر بن گئے، حقیقت کیا ہے؟

مصنوعی ذہانت  یا اے آئی کی دنیا میں اس ہفتے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا

Read More

ایپل کے نئے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس آخری مرحلے میں داخل

ایپل نے اپنے آئندہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کے ریلیز کینڈیڈیٹ ورژن جاری کر دیے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.