’چند قدم اور۔۔۔‘: روزانہ معمول سے تھوڑا زیادہ چلنے سے عمر رسیدہ افراد دماغ صحت مند رکھ سکتے ہیں، کتنا چلا جائے؟

جسمانی سرگرمی کو دل اور پٹھوں کی صحت کے لیے تو فائدہ مند سمجھا جاتا ہے لیکن ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ روزانہ پیدل چلنے کے معمول میں تھوڑا سا اضافہ بھی دماغی صحت کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق روزانہ قدموں کی تعداد میں ہر ایک ہزار قدم کا اضافہ خصوصاً توجہ مرکوز کرنے اور اپنے رویوں پر قابو رکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے بہتر ذہنی کارکردگی سے منسلک پایا گیا۔

امریکا کے شہر ہیوسٹن میں واقع بیلر کالج آف میڈیسن کے محققین نے اس مطالعے میں یہ جاننے کی کوشش کی کہ عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی سرگرمی اور دماغی صحت کے درمیان کیا تعلق ہے۔ تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے ’سائنٹفک رپورٹس‘ میں شائع ہوئے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ زیادہ جسمانی سرگرمی رکھنے والے افراد کا سسٹولک بلڈ پریشر نسبتاً کم تھا۔ جسمانی سرگرمی اور بلڈ پریشر دونوں الگ الگ طور پر بہتر ذہنی کارکردگی سے منسلک پائے گئے۔

تاہم محققین نے واضح کیا کہ ان اثرات کی شدت معمولی تھی اور تحقیق سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکا کہ زیادہ پیدل چلنے یا بلڈ پریشر قابو میں رکھنے سے براہِ راست ذہنی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ اس مطالعے سے دونوں کے درمیان تعلق تو سامنے آیا ہے، لیکن یہ طے نہیں ہوسکا کہ اس تعلق کی اصل وجہ کیا ہے۔

ورزش دماغ کو عمر بڑھنے کے اثرات سے کیسے بچا سکتی ہے؟

اس تحقیق میں شامل نہ ہونے والی نیورو سائیکولوجسٹ ڈاکٹر شینل الہلو کے مطابق جسمانی سرگرمی مختلف طریقوں سے دماغی صحت کو سہارا دے سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ باقاعدہ ورزش دل اور خون کی نالیوں کی صحت برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے اور ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ بیماریاں دماغ کو خون فراہم کرنے والی نالیوں کو متاثر کرسکتی ہیں اس لیے ان کا بہتر انتظام دماغی صحت کے لیے اہم ہے۔

ڈاکٹر الہلو کے مطابق ورزش دماغ کی خود کو تبدیل کرنے، نئے روابط بنانے اور موجودہ روابط کو مضبوط کرنے کی صلاحیت یعنی نیوروپلاسٹیسٹی، کو بھی سہارا دے سکتی ہے۔

تحقیق سے اشارہ ملتا ہے کہ جسمانی سرگرمی کے دوران دماغ سے حاصل ہونے والا ایک خاص پروٹین ’برین ڈیریوڈ نیوروٹروفک فیکٹر‘ (بی ڈی این ایف) بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ یہ پروٹین دماغی خلیات کی نشوونما اور ان کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔

اس عمل سے دماغ کے ان حصوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو سیکھنے اور یادداشت سے تعلق رکھتے ہیں جن میں ہپوکیمپس بھی شامل ہے۔ تاہم ماہرین ابھی تک ان تمام حیاتیاتی طریقہ کار کو مکمل طور پر سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق جسمانی سرگرمی مزاج بہتر بنانے اور نیند کے معیار میں بہتری لانے میں بھی مدد دیتی ہے، جبکہ اچھی نیند اور بہتر ذہنی کیفیت روزمرہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کے لیے اہم ہیں۔

دماغی صحت کے لیے ہفتے میں کتنی ورزش ضروری ہے؟

ڈاکٹر الہلو کے مطابق جسمانی سرگرمی کو معمول کا حصہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شخص ایسی ورزش یا سرگرمی کا انتخاب کرے جس میں اسے دلچسپی ہو اور جسے وہ طویل عرصے تک جاری رکھ سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ بالغ افراد کے لیے عمومی طور پر ہفتے میں کم از کم 150 منٹ درمیانی شدت کی جسمانی سرگرمی کی سفارش کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہفتے میں کم از کم 2 مرتبہ پٹھوں کو مضبوط بنانے والی ورزشیں بھی مفید ہیں جبکہ عمر رسیدہ افراد کے لیے توازن بہتر بنانے والی مشقیں بھی اہم ہیں۔

اس مقصد کے لیے تیز قدموں سے پیدل چلنا، تیراکی، سائیکل چلانا اور رقص جیسی سرگرمیاں اختیار کی جاسکتی ہیں۔ تاہم ورزش کا انتخاب ہر فرد کی عمر، جسمانی صلاحیت اور صحت کی صورت حال کے مطابق ہونا چاہیے۔

ماہرہ کے مطابق یہ عمومی صحت کی سفارشات ہیں، انہیں ذہنی تنزلی سے بچاؤ کا کوئی یقینی نسخہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ جو لوگ ابھی زیادہ جسمانی سرگرمی کے عادی نہیں، وہ مختصر دورانیے سے آغاز کرکے بتدریج اس میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ ان کے بقول کچھ نہ کرنے کے مقابلے میں تھوڑی سی جسمانی سرگرمی بھی بہتر ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ لوگوں کو ورزش کو اپنی روزمرہ زندگی کا خوشگوار حصہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر کسی دوست کے ساتھ چہل قدمی کرنا یا اپنی پسند کی کسی ورزش کی جماعت میں شامل ہونا اس عادت کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

جو لوگ زیادہ چل نہیں سکتے وہ کیا کریں؟

ماہرین کے مطابق جسمانی نقل و حرکت میں محدودیت رکھنے والے افراد کے لیے بھی سرگرم رہنے کے مختلف طریقے موجود ہیں۔ ایسے افراد کے لیے روزانہ قدموں کی تعداد بڑھانا ممکن نہ ہو تو انہیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔

ڈاکٹر الہلو کے مطابق ایسے افراد اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق کرسی پر بیٹھ کر ورزش، ہلکے وزن اٹھانے، مزاحمتی پٹیوں کے ذریعے مشقیں کرنے، وہیل چیئر پر کی جانے والی جسمانی سرگرمیوں یا پانی میں ورزش کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اصل مقصد ایسی جسمانی سرگرمی تلاش کرنا ہے جو محفوظ ہو، آسانی سے کی جاسکے اور فرد کی صحت اور صلاحیت کے مطابق ہو۔ فزیوتھراپسٹ درد، توازن کے مسائل یا دوسری جسمانی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب ورزش کا منصوبہ بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ جو افراد صحت یا جسمانی محدودیت کے باعث ورزش کے عمومی اہداف حاصل نہیں کرسکتے انہیں اپنی استطاعت کے مطابق متحرک رہنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

دماغی صحت کے لیے صرف ورزش کافی نہیں

ماہرین کے مطابق دماغ کو صحت مند رکھنے کے لیے جسمانی سرگرمی کے ساتھ کئی دوسرے عوامل بھی اہم ہیں۔ مناسب نیند، متوازن غذا، سماجی روابط برقرار رکھنا اور ذہنی طور پر متحرک رہنا بھی دماغی صحت کو سہارا دے سکتا ہے۔

اس کے علاوہ سماعت اور بینائی کے مسائل کا علاج، بلڈ پریشر اور دیگر ایسے طبی عوامل پر قابو رکھنا بھی ضروری ہے جو دماغی صحت کو متاثر کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر الہلو کے مطابق دماغی صحت بہتر رکھنے کا کوئی ایک طریقہ سب کے لیے یکساں طور پر مؤثر نہیں ہوتا، اس لیے ہر فرد کو اپنی صحت، جسمانی صلاحیت اور حالات کے مطابق ایسا معمول اپنانا چاہیے جس پر مستقل عمل ممکن ہو۔

Share On Social Media

KARACHI

اسلحہ ساتھ رکھنے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟ اہم خبر آگئی

سندھ حکومت نے کمپیوٹرائزڈ لائسنس یافتہ اسلحہ رکھنے والے شہریوں کے لیے اہم فیصلہ کر

Read More

TECHNOLOGY

مائیکروسوفٹ کا ہنگامی اپڈیٹ: ونڈوز 11 میں کنیکٹیویٹی کا مسئلہ حل

مائیکروسافٹ نے مائیکروسوفٹ ونڈوز 11 کے صارفین کے لیے ایک ہنگامی اپڈیٹ جاری کر دیا

Read More

آئی فون صارفین ہوشیار! جدید اسپائی ویئر کا انکشاف

ماہرین نے ایک نہایت طاقتور اسپائی ویئر کی نشاند ہی کی ہے جو ممکنہ طور

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.