امریکی انتخابات میں جعلی امیدواروں کی انٹری: ’اسپوئلر کینڈیڈیٹ‘ کیا ہوتا ہے؟

امریکا میں الاسکا کی سینیٹ نشست کے انتخاب میں مبینہ طور پر مخالف جماعت کے ووٹ تقسیم کرنے کے لیے ایک متبادل امیدوار کو میدان میں اتارنے کا معاملہ ایک بڑے سیاسی اور قانونی تنازع کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف اس الزام کی تحقیقات کر رہا ہے کہ ڈیموکریٹس نے ریپبلکن امیدوار ڈینیئل ایس سلیوان کو شکست دلانے کے لیے ان سے ملتے جلتے نام کے ایک دوسرے امیدوار کو انتخاب میں حصہ لینے پر آمادہ کیا ہے۔

اس صورت حال کے پیش نظر محکمہ انصاف نے عدالت سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ اگر ریپبلکن سینیٹر معمولی فرق سے ہار جائیں تو انتخابی نتائج کی باضابطہ توثیق روک دی جائے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ امریکی سینیٹ میں اکثریت کا فیصلہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج سے ہو سکتا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ الاسکا کی اس نشست پر ڈیموکریٹک امیدوار میری پیلٹولا اور موجودہ ریپبلکن سینیٹر ڈینیئل ایس سلیوان کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی نشست کے لیے ایک اور ڈینیئل سلیوان بھی میدان میں ہیں جو کہ ایک ریٹائرڈ استاد ہیں۔

اس تنازع کو سمجنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’اسپوئلر کینڈیڈیٹ‘ یا ’ووٹ تقسیم کرنے والا امیدوار‘ کسے کہتے ہیں، اور امریکی انتخابی قوانین میں اس کی کیا حیثیت ہے۔

اسپوئلر امیدوار سے مراد ایسا آزاد یا چھوٹی جماعت کا امیدوار ہوتا ہے جس کے نظریات یا نام کسی بڑے امیدوار سے ملتے جلتے ہوں اور اس کی موجودگی بڑے امیدوار کے ووٹرز کے ووٹ تقسیم کر دے، جس کا فائدہ مخالف فریق کو پہنچ سکتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر کسی انتخاب میں دو امیدوار ایک جیسے سیاسی نظریات رکھتے ہوں اور ان کے ووٹرز کا بڑا حصہ مشترک ہو تو تیسرے امیدوار کی موجودگی میں ان ووٹروں کی حمایت تقسیم ہو سکتی ہے۔

اس صورت میں مخالف نظریات رکھنے والا امیدوار کم مجموعی حمایت کے باوجود زیادہ ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہو سکتا ہے۔ انتخابی سیاست میں اس صورت حال کو ’اسپوئلر ایفیکٹ‘ کہا جاتا ہے۔

یہ اثر بالخصوص ایسے انتخابی نظام میں زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے جہاں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار کامیاب قرار پاتا ہے، چاہے اسے ڈالے گئے ووٹوں کی مجموعی اکثریت حاصل نہ ہوئی ہو۔

ایسے نظام میں مخالف جماعتوں کے ووٹ تقسیم ہونے سے انتخابی نتائج تبدیل ہو سکتے ہیں، اسی لیے بعض سیاسی جماعتیں اپنے مخالفین کے ووٹ تقسیم کرنے کے لیے نسبتاً کمزور امیدواروں کی حمایت یا حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق میری پیلٹولا کی انتخابی مہم سے وابستہ معاونین نے ڈیموکریٹک سینیٹرز کی انتخابی مہم چلانے والی مرکزی تنظیم کے عہدیداروں اور اپنے وکلا کے ساتھ مل کر ایک ریٹائرڈ ٹیچر ڈینیئل جے سلیوان کو انتخاب میں حصہ لینے کے لیے تیار کیا ہے۔

اس انکشاف کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میری پیلٹولا کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ الاسکا کے ریپبلکن گورنر مائیک ڈنلیوی نے بھی ریاستی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تحقیقات کا حکم دیا ہے، تاہم دونوں رہنماؤں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس معاملے میں کون سے قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک سینیٹرز کی انتخابی مہم کی کمیٹی اور خود ڈینیئل جے سلیوان نے کسی بھی قسم کی ملی بھگت یا رابطہ کاری سے مکمل انکار کیا ہے۔

اس تنازع میں قانونی پیچیدگی اس وقت مزید بڑھی جب الاسکا کے انتخابی حکام نے ابتدائی طور پر ڈینیئل ’جے‘ سلیوان کا نام بیلٹ پیپر میں شامل کرنے سے روکتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی نامزدگی نیک نیتی پر مبنی نہیں بلکہ ووٹروں کو الجھانے کی کوشش ہے۔

تاہم ریاستی عدالتوں نے شواہد کی عدم دستیابی اور ریاستی قانون میں نیک نیتی کی لازمی شرط نہ ہونے کی بنیاد پر انہیں انتخاب لڑنے کی اجازت دے دی، جس کے بعد ان کا نام انتخابی فہرست میں شامل ہو گیا۔

اب امریکی محکمہ انصاف نے وفاقی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ ناموں کی مماثلت کی وجہ سے کچھ ووٹرز غلط امیدوار کو ووٹ دے سکتے ہیں، اس لیے نتائج کی توثیق روکی جائے۔

اس مقدمے کے دوران قانونی ماہرین نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ امریکی آئین کے تحت انتخابات کے انتظام کی بنیادی ذمہ داری ریاستوں پر عائد ہوتی ہے، وفاقی حکومت پر نہیں۔

ماہرین کے مطابق محض یہ الزام کافی نہیں ہو سکتا کہ کسی جماعت نے امیدوار کو ترغیب دی تھی، کیونکہ ایک مرتبہ اہلیت حاصل کرنے کے بعد یہ ریاستی قانون کا معاملہ بن جاتا ہے۔

اس کے علاوہ محکمہ انصاف کی جانب سے 1871 کے ایک پرانے وفاقی قانون کے تحت شہری حقوق کی خلاف ورزی یا سازش کے الزام میں کارروائی کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار کی آئینی ضمانت کے باعث ایسے مقدمات کو قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

الاسکا کے انتخابی نظام کی ایک اور خاص بات وہاں رائج ترجیحی ووٹنگ کا نظام ہے، جس میں ووٹر امیدواروں کو درجہ دیتے ہیں اور مطلوبہ اکثریت نہ ملنے کی صورت میں کم ووٹ لینے والے امیدوار کے ووٹ دوسری ترجیح کے مطابق منتقل ہو جاتے ہیں۔

انتخابی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام کی موجودگی کی وجہ سے روایتی انتخابی ڈھانچے کے مقابلے میں اسپوئلر امیدوار کا اثر محدود ہو سکتا ہے۔

دریں اثنا، محکمہ انصاف نے اپنے مقدمے میں ایک اضافی آئینی مؤقف شامل کرتے ہوئے انتخابی ریکارڈ تک رسائی کی درخواست کی ہے، جبکہ متعلقہ فریقوں نے مقدمہ خارج کرنے کی استدعا کی ہے اور عدالت کی جانب سے اس پر جلد فیصلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

نجی زندگی خطرے میں، چیٹ جی پی ٹی صارف کی خفیہ پروفائلز بنانے لگا

اوپن اے آئی کی ایک سابق محقق زوئی ہٹزِگ نے کمپنی چھوڑتے ہوئے خبردار کیا

Read More

روس میں واٹس ایپ پر پابندی، صارفین کو سرکاری میسجنگ ایپ استعمال کرنے کی ہدایت

روس نے میسجنگ سروس واٹس ایپ کو مبینہ قانونی خلاف ورزیوں کے باعث بلاک کر

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.