ادویات کی برآمدات 30 فیصد کم ہو کر تین سال کی کم ترین سطح پر آ گئیں

مالی سال 2026 کے دوران پاکستان کی ادویات کی برآمدات 30 فیصد کمی کے بعد تین سال کی کم ترین سطح پر رہیں۔ پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے پاک افغان سرحدی بندش کے باعث پاکستانی ادویات کی افغان مارکیٹ میں ترسیل رکنے، تیل کی قیمتوں میں اضافے کو اس کمی کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔

پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین توقیر الحق کے مطابق 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال میں پاکستان کی ادویات کی برآمدات 31 کروڑ 90 لاکھ ایک ہزار ڈالر رہیں۔ مالی سال 2025 میں ادویات کی برآمدات میں دو دہائیوں کی بلند ترین شرح، یعنی 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستانی ادویات کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک رہا ہے۔ ان کے مطابق سرحد اکتوبر 2025 سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی بندش سے مالی سال 2026 میں ملک کی مجموعی ادویات کی برآمدات میں تقریباً 30 فیصد کمی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025 میں پاکستان کی ادویات کی مجموعی برآمدات میں افغانستان کا 42 فیصد حصہ تھا، جس کی مالیت 45 کروڑ 74 لاکھ ڈالر تھی۔

توقیر الحق کے مطابق مالی سال 2026 میں افغانستان کو برآمدات اور رسد کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری رہنے کی صورت میں پاکستانی ادویات کی برآمدات میں 20 سے 25 فیصد اضافہ ہو سکتا تھا۔

دوسری جانب پی پی ایم اے کے مطابق ادویات، جراحی کے آلات، غذائی سپلیمنٹس، طبی آلات اور غذائیت سے متعلق مصنوعات سمیت طبی مصنوعات کی مجموعی برآمدات بھی مالی سال 2026 میں کم ہو کر 77 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہ گئیں، جبکہ مالی سال 2025 میں یہ 99 کروڑ ڈالر تھیں۔

اس دوران پاکستان کی مجموعی برآمدات بھی گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 6 فیصد کم ہو کر 30 ارب 13 کروڑ ڈالر رہیں۔

پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین توقیر الحق نے امریکا-ایران جنگ کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافے کو برآمدات میں کمی کی دوسری بڑی وجہ قرار دیا ہے۔

ان کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے سے نقل و حمل کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس نے ادویات کی ترسیل اور برآمدی لاگت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتِ حال نے کم منافع والی متعدد بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی ادویات کو غیر مسابقتی بنا دیا ہے، جس کے باعث دوا ساز کمپنیاں کے لیے ان منڈیوں کو برآمدات جاری رکھنا مشکل اور فروخت سے نقصان ہو رہا تھا۔

ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال کے باعث زمینی اور فضائی راستوں سے بعض منڈیوں کو بھیجی جانے والی کھیپ بھی تاخیر کا شکار ہوتی رہی، جس نے عالمی منڈیوں میں پاکستانی ادویات کی برآمدات کی رفتار مزید سست کر دی ہے۔

پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین نے تجویز پیش کی کہ حکومت پاکستان، افغانستان کی حکومت کے ساتھ رابطہ کرے تاکہ ادویات کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے میں مدد مل سکے۔ ان کے مطابق اس سے افغانستان میں صحت کی ضروریات پوری کرنے اور سرحدی بندش کے باوجود ضروری ادویات کی فراہمی جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

توقیر الحق نے کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور کا تقاضا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں بھی انسانی جانیں بچانے کے لیے ادویات کی فراہمی جاری رہنی چاہیے۔ انہوں نے اس سلسلے میں کہا کہ 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے باوجود پاکستان نے بھارت سے ادویات کی تیاری کے لیے خام مال درآمد کرنے کا عمل جاری تھا۔

توقیر الحق نے کہا کہ حکومت کو اُن بین الاقوامی منڈیوں میں برآمدات بڑھانے کے لیے بھی دوا ساز کمپنیوں کی مدد کرنی چاہیے جہاں پاکستانی کمپنیوں کی پہلے سے موجودگی ہے۔ ان میں سری لنکا، دولتِ مشترکہ کے آزاد ممالک (سی آئی ایس)، ویتنام اور کمبوڈیا جیسے ممالک شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان منڈیوں میں نئی ادویات کی رجسٹریشن کا عمل طویل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ ممالک کے ریگولیٹری حکام پاکستانی دوا ساز کمپنیوں کی پیداواری سہولتوں کا معائنہ کرنے اور برآمدات کی منظوری دینے کے لیے بھی خاصا وقت لیتے ہیں۔

ان کے مطابق حکومت کو وزارتِ تجارت، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) اور فارما انڈسٹری کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کرنی چاہیے۔

یہ کمیٹی اہم برآمدی منڈیوں کے لیے سرکاری وفود کی تشکیل اور روانگی میں مدد دے، تاکہ متعلقہ ممالک کے حکام کے ساتھ حکومت سے حکومت کی سطح پر بات چیت کی جا سکے۔ اس کا مقصد ادویات کی رجسٹریشن کا عمل تیز کرنا اور پاکستانی دوا ساز کمپنیوں کی فیکٹریوں کے معائنے بروقت یقینی بنانا ہوگا۔

توقیر الحق نے کہا کہ ادویات کی برآمدات کو بحال کرنے اور بڑھانے کے لیے وفاقی کابینہ کو فارما ایکس پاکستان کے قیام کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ ایک آزاد تجارتی ادارہ ہوگا جس میں حکومتی حکام اور دوا ساز کمپنیوں کے نمائندے شامل ہوں گے اور جو ٹی ڈی اے پی کے دائرۂ کار میں کام کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس ادارے کی تجویز پر 2025 کے وسط میں وزارتِ تجارت میں بات چیت ہو چکی ہے اور اسے وہاں منظوری بھی مل گئی تھی۔ توقیر الحق کے مطابق بھارت نے تقریباً 15 سے 20 سال پہلے اسی نوعیت کا ایک ادارہ قائم کیا تھا، جس نے اس کی ادویات کی برآمدات بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بقول، بھارت کی ادویات کی سالانہ برآمدات اب تقریباً 30 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔

پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ دوا ساز کمپنیوں کو اپنی برآمدی آمدن کا زیادہ حصہ غیر ملکی کرنسی میں رکھنے کی اجازت دی جائے، تاکہ وہ بیرون ملک اپنی مصنوعات کی تشہیر، رجسٹریشن اور فروخت بڑھانے پر اخراجات کر سکیں۔

انہوں نے تجویز دی کہ زرمبادلہ میں برآمدی آمدن رکھنے کی موجودہ حد 15 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کر دی جائے۔ اس وقت دوا ساز کمپنیوں کو اپنی برآمدی آمدن کا 15 فیصد غیر ملکی کرنسی میں رکھنے کی اجازت ہے، جبکہ باقی 85 فیصد رقم پاکستانی روپے میں حاصل ہوتی ہے۔

توقیر الحق کے مطابق زرمبادلہ میں رقم رکھنے کی حد بڑھانے سے پاکستانی دوا ساز کمپنیوں کو بیرون ملک اپنی موجودگی مضبوط بنانے اور فروخت میں اضافہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

ایف پی سی سی آئی کا ترکیہ میں اسلامک چیمبر کے بورڈ اجلاس میں پاکستان کے قائدانہ کردار کا اعادہ

کراچی: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے

Read More

کراچی میں بادلوں کا راج، شام میں ہلکی بوندا باندی کا امکان

شہر قائد میں آج بادلوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں جس کے باعث موسم نسبتاً

Read More

TECHNOLOGY

اینٹی بائیوٹکس کو طاقت دینے والا نیا فارمولا دریافت

دنیا بھر میں بیماریاں پھیلانے والے جراثیم روز بروز زیادہ طاقتور ہو رہے ہیں اور

Read More

پاکستان کا سب سے بڑا ڈیٹا سینٹر ‘اسکائی 47 قراقرم ون’ کیا ہے اور کیسے کام کرے گا؟

اسلام آباد میں پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر ’اسکائی 47 قراقرم ون‘ کا

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.