ہمارا اے آئی حیاتیاتی ہتھیار بنانے سے لے کر انسانوں کو بلیک میل تک کر سکتا ہے: اینتھروپک

آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی چیٹ بوٹ ’کلاڈ‘ تیار کرنے والے امریکی ادارے ’اینتھروپک‘ کی تقریباً 100 صفحات پر مشتمل دستاویزات میں اعتراف کیا گیا ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری، ہیکنگ، معاشی سائبر جرائم اور انسانی کنٹرول سے باہر ہونے جیسے ہولناک خطرات کا سبب بن سکتی ہے۔

سرمایہ کاروں کے سامنے جمع کروائی گئی اس رپورٹ میں کمپنی نے واضح کیا ہے کہ زبردست عالمی مقابلے اور ریکارڈ مالیاتی حصص کے باوجود، اگر مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کا غلط استعمال روکا نہ جا سکا یا ان کی نگرانی کے نظام ناکام ہو گئے تو اس کے نتائج نہ صرف کمپنی بلکہ انسانیت کے لیے بھی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

دستاویز کے مطابق اینتھروپک کے خودکار اے آئی ایجنٹس، جو پیچیدہ احکامات پر مسلسل عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انسانی مداخلت کے بغیر کوڈنگ میں تبدیلی، ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے، دوسرے سسٹمز کو ہیک کرنے اور غیر مجاز مالیاتی لین دین کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کمپنی کے چار ماڈلز پہلے ہی تھرڈ پارٹی سسٹمز کو ہیک کر کے ایڈمنسٹریٹر تک رسائی حاصل کرنے اور نجی معلومات تک پہنچنے کی کارروائیاں کر چکے ہیں، جبکہ رواں سال چینی حکومت کی سرپرستی میں کام کرنے والے ایک ہیکنگ گروپ نے اینتھروپک کے کوڈنگ ٹول میں ہیرا پھیری کر کے دنیا بھر کی قریباً 30 اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

اس کے علاوہ کمپنی نے ستمبر میں ایسے کئی اکاؤنٹس کو بلاک کیا جو بائیولوجیکل ہتھیاروں کی تیاری میں مدد کے لیے اس کے ماڈلز کا استعمال کر رہے تھے۔

کمپنی نے یہ حیران کن انکشاف بھی کیا ہے کہ اس کے بعض ماڈلز اپنی کارکردگی کی جانچ پڑتال اور نگرانی کرنے والے سسٹمز کو گمراہ کرنے، اپنے نشانات چھپانے اور انسانی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے بلاک میلنگ جیسے رویے اختیار کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔

دستاویز میں اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ انسان اس ٹیکنالوجی کی پیش رفت کی رفتار کو برقرار رکھنے اور اس کے فیصلے کرنے کی وجہ سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو سکتے ہیں۔

ان سنگین خدشات کے ساتھ ساتھ اینتھروپک کو شدید قانونی، تجارتی اور سیاسی چیلنجز کا بھی سامنا ہے، جہاں امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ اس کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور پینٹاگون نے بڑے پیمانے پر ملکی نگرانی یا خودکار ہتھیاروں میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے انکار پر کمپنی کو سپلائی چین کے لیے خطرہ قرار دیا تھا، جبکہ امریکی محکمہ تجارت نے بھی اس کے جدید ترین ماڈلز کی برآمدات پر عارضی پابندیاں عائد کی تھیں۔

کمپنی کا اندازہ ہے کہ ادارے کو پبلک کرنے کے بعد اس کی قدر دو ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، تاہم اسے کمپیوٹنگ پاور کے شدید بحران اور ڈیٹا سینٹرز کے خلاف ماحولیاتی بنیادوں پر بڑھتی ہوئی عوامی مخالفت کا سامنا ہے، جس کے باعث 2026 کی دوسری سہ ماہی میں 68 ارب ڈالر کے 45 ڈیٹا سینٹر منصوبے معطل کیے جا چکے ہیں۔

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ ان تمام چیلنجز کے باوجود اگر طاقتور مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کیا جائے تو اس کا پوٹینشل غیر معمولی ہو سکتا ہے، تاہم اگر کمپنی اپنے حفاظتی اصولوں اور اقدار سے پیچھے ہٹتی ہے تو اسے ملازمین کے اعتماد کی محرومی، سخت قانونی تحقیقات اور سیکیورٹی انشورنس نہ ملنے جیسے سنگین اثرات بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی؛ ڈمپر کی ٹکر سے خاتون سمیت 2 افراد زخمی، بے قابو ٹرالر بینک میں جا گھسا

شہر قائد میں بے لگام ٹینکرز، ٹرالرز سے ہونے والے حادثات تھمنے کا نام نہیں

Read More

صدر مملکت کی نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری، کامران ٹیسوری کا فون، مبارکباد

صدرِ مملکت نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل 48

Read More

TECHNOLOGY

پی ٹی اے ٹیکس میں بڑی کمی کا امکان، موبائل فون کتنے سستے ہوں گے؟

پاکستان میں موبائل فونز پر عائد ’پی ٹی اے ٹیکس‘ جو بنیادی طور پر فیڈرل

Read More

اے آئی چیٹ بوٹ کلاڈ صارفین کے پاسپورٹ مانگنے لگا، وجہ کیا ہے؟

اے آئی کمپنی اینتھروپک نے کچھ صارفین سے اپنے چیٹ بوٹ ’کلاڈ‘ کے مخصوص فیچرز

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.