اسرائیل کی تاریخ کا سب سے اہم الیکشن: وہ باتیں جو آپ کے لیے جاننا ضروری ہیں

اسرائیل میں 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد پہلی بار عام انتخابات ہو رہے ہیں، جن میں وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ پولنگ اسرائیلی مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک جاری رہے گی۔ اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) کی 120 نشستوں پر حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی اکثریت درکار ہوگی۔

برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اور ان کے موجودہ حکومتی اتحاد کو اکثریت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں کو مجموعی طور پر زیادہ حمایت ملتی دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم اپوزیشن مختلف سیاسی گروپوں میں تقسیم ہے، جس کے باعث حکومت سازی کے لیے جماعتوں کے درمیان اتحاد اور مذاکرات اہم ہوں گے۔

نیتن یاہو کے اہم حریف سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ ہیں، جنہوں نے اپنی جماعت یاشار کے ذریعے خود کو موجودہ وزیراعظم کے مقابلے میں دیانت دار اور مختلف طرز کی قیادت کے طور پر پیش کیا ہے۔ آئزنکوٹ کے بیٹے اور دو بھتیجے 2024 میں غزہ میں لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ بھی نیتن یاہو مخالف سیاسی صفوں کی نمایاں شخصیات میں شامل ہیں۔

نیتن یاہو گزشتہ 30 برس میں تقریباً 19 سال تک اسرائیل کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ وہ دائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد کے سربراہ کے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں اور انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت بھی حاصل ہے۔

ان انتخابات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ نیتن یاہو بدعنوانی کے مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں اور اقتدار سے باہر ہونے کی صورت میں ان کے لیے قانونی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

انتخابات میں اسرائیل کی سلامتی، مہنگائی، مذہبی انتہا پسندی اور مختلف محاذوں پر جاری جنگیں اہم مسائل ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ ان حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ میں جنگ شروع کی، ایران کے ساتھ دو جنگیں بھی لڑیں، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع پر بھی تنقید میں اضافہ ہوا۔

حکومت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کے حملوں کو روکنے میں ناکامی، جمہوری اداروں کی کمزوری اور طویل جنگوں نے اسرائیل کو نقصان پہنچایا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے حملوں کی وجوہات اور سیکیورٹی ناکامی کی تحقیقات کے لیے آزاد سرکاری کمیشن بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ فوج میں انتہائی مذہبی یہودی مردوں کو حاصل استثنیٰ ختم کرنے کا مطالبہ بھی انتخابی مہم کا اہم حصہ ہے۔

دوسری جانب نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ ان کے طویل سیاسی تجربے اور عالمی رہنماؤں سے تعلقات کی وجہ سے وہی اسرائیل کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے 7 اکتوبر کے حملوں کی ذمہ داری کے حوالے سے سیکیورٹی اداروں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

ان کے دائیں بازو کے اتحادی غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے حامی ہیں، جبکہ ان کے انتہائی مذہبی اتحادی فوجی بھرتی سے استثنیٰ برقرار رکھنے اور مذہبی تعلیم کے لیے سرکاری مالی امداد جاری رکھنے کے حامی ہیں۔

انتخابی جائزوں کے مطابق نیتن یاہو مخالف جماعتوں کو مجموعی طور پر زیادہ حمایت حاصل ہے، تاہم یہودی اسرائیلی جماعتوں اور فلسطینی شہریوں کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں کے درمیان اختلافات حکومت سازی کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ فلسطینی سیاست دانوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اپوزیشن کی ممکنہ اقلیتی حکومت کی حمایت کر سکتے ہیں۔

اسرائیل میں متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت جماعتوں کو حاصل ووٹوں کے تناسب سے پارلیمان میں نشستیں ملتی ہیں۔ کسی جماعت کو پارلیمان میں جگہ بنانے کے لیے مجموعی ووٹوں کا کم از کم 3.25 فیصد حاصل کرنا ضروری ہے۔ دو چھوٹی جماعتوں کی کارکردگی بھی حکومت سازی کے امکانات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد ابتدائی انتخابی جائزے جاری کیے جائیں گے، جبکہ اصل ووٹوں کی گنتی کے نتائج رات گئے یا اگلی صبح سامنے آنا شروع ہوں گے۔ حتمی نتائج اور نئی حکومت کی تشکیل میں زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔

ان انتخابات میں حق رائے دہی کا معاملہ بھی اہم ہے۔ اسرائیل کے اندر رہنے والے یہودی شہریوں اور فلسطینی شہریوں کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں رہنے والے اسرائیلی آبادکار بھی ووٹ دے سکتے ہیں، جبکہ وہاں آباد تقریباً 31 لاکھ فلسطینی اسرائیلی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم ہیں۔ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے فلسطینیوں اور غزہ میں رہنے والے تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو بھی ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہیں۔

اسرائیل کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی، اسرائیلی بستیوں کی توسیع پر پابندیوں اور سفارتی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ جنگ اور مذہبی و سیاسی کشیدگی کے باعث تعلیم یافتہ اور پیشہ ور افراد کی ملک چھوڑنے کی بڑھتی ہوئی خواہش بھی تشویش کا باعث ہے۔

انتخابی نتائج سے نہ صرف اسرائیل کی نئی حکومت بلکہ غزہ جنگ، ایران کے ساتھ کشیدگی، فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع، فوجی بھرتی اور جمہوری اداروں سے متعلق پالیسیوں کی سمت بھی طے ہو سکتی ہے۔

اگر نیتن یاہو کا اتحاد اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اپوزیشن کو حکومت بنانے کا موقع مل سکتا ہے، تاہم مختلف جماعتوں کے درمیان اختلافات اس عمل کو مشکل بنا سکتے ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

محسن نقوی کا سائبر کرائم کے خلاف بڑا اقدام، این سی سی آئی اے کے افسران کو چین میں کیا تربیت دی جائے گی؟

ایڈیشنل ڈائریکٹر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) اسلام آباد

Read More

درآمدی موبائل فونز پر سیلز ٹیکس اقساط میں ادا کرنے کی اجازت

فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر نے درآمد کیے گئے موبائل فونز کو

Read More

TECHNOLOGY

مائیکروسافٹ کا 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی پیکیج دینے کا اعلان

مائیکروسافٹ نے مصنوعی ذہانت پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیشِ نظر لاگت کم کرنے کے

Read More

اے آئی ماڈل کلاڈ نے امریکی ووٹنگ ڈیٹا تک بغیر اجازت رسائی حاصل کرلی

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے معلومات تک رسائی کے طریقوں نے ڈیجیٹل سکیورٹی سے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.