خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع وفاق کے کنٹرول میں، ایڈمنسٹریٹر کو صوبائی کابینہ کے اختیارات حاصل ہوں گے

خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے انتظامی، مالی اور سیکیورٹی امور صوبائی حکومت سے الگ کرکے وفاق کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جہاں ایک ایڈمنسٹریٹر کو صوبائی کابینہ جیسے اختیارات حاصل ہوں گے۔

وفاقی حکومت کے 11 اکتوبر کو جاری کردہ حکمنامے کے مطابق ان اضلاع کے انتظامی امور کے لیے پشاور میں الگ ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا جس کے سربراہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوں گے اور وہ براہ راست وزیراعظم کو جواب دہ ہوں گے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا سے متعلق 2 احکامات جاری کیے گئے تھے جن میں آرڈر نمبر 2 میں صوبے کے متعین 12 اضلاع کے انتظامی ڈھانچے، اختیارات اور امور حکومت کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

حکمنامے کے مطابق ان اضلاع کے لیے پشاور کے سول سیکریٹریٹ کی طرز پر ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا جس کے سربراہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو ان اضلاع کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے گا۔

ایڈمنسٹریٹر کے پاس کیا اختیارات ہوں گے؟

خیبرپختونخوا کے متعین 12 اضلاع کے ایڈمنسٹریٹر یعنی ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو ان اضلاع کے تمام سرکاری ملازمین، بشمول افسران، کے تبادلوں اور تعیناتیوں کا اختیار حاصل ہوگا۔

حکمنامے میں وضاحت کی گئی ہے کہ صوبائی حکومت کو حاصل مالی، انتظامی اور سیکیورٹی سے متعلق اختیارات ایڈمنسٹریٹر استعمال کرے گا۔ وہ اپنے دائرہ اختیار میں شامل اضلاع میں ترقیاتی فنڈز کے استعمال، انتظامی فیصلوں اور سکیورٹی امور کا ذمہ دار ہوگا اور ان معاملات میں صوبائی حکومت کے بجائے براہِ راست وزیراعظم کو جواب دہ ہوگا

ایڈمنسٹریٹر کو اپنے دائرہ اختیار میں احکامات جاری کرنے کے اختیارات کے ساتھ قانونی تحفظ بھی فراہم کیا گیا ہے۔ وہ ڈپٹی کمشنرز سے لے کر اساتذہ، کلریکل اسٹاف اور پولیس اہلکاروں تک کے تبادلوں اور تعیناتیوں کے فیصلے کرسکے گا۔

کیا 12 اضلاع میں صوبائی قوانین لاگو ہوں گے؟

11  اکتوبر کو جاری کردہ وفاقی حکمنامے کے آخری حصے میں آئین کے باب سوم، آرٹیکل 175 اور خیبرپختونخوا حکومت کے رولز آف بزنس سنہ 1985 کا ان اضلاع پر اطلاق نہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس انتظام کے تحت ان 12 اضلاع کے امور کو صوبائی حکومت کے معمول کے انتظامی ڈھانچے سے الگ کرکے براہِ راست وفاقی کنٹرول میں چلایا جائے گا۔

ان اضلاع کے لیے انتظامی ڈھانچے کے ساتھ سیکیورٹی کا الگ نظام بھی قائم کیا جائے گا جس کے تحت چیف پولیس افسر تعینات ہوگا۔ چیف پولیس افسر بھی ایڈمنسٹریٹر کو جواب دہ ہوگا۔

110 کمروں پر مشتمل الگ سیکریٹریٹ قائم ہوگا

ان 12 اضلاع کے انتظامی امور چلانے کے لیے پشاور میں سابق فاٹا سیکریٹریٹ کی عمارت میں 110 کمروں پر مشتمل الگ سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے وہاں پہلے سے موجود لائیو اسٹاک، صحت، اطلاعات اور معدنیات کے محکموں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری کے علاوہ پانچ سیکریٹریز بھی تعینات کیے جائیں گے جن میں سے ہر ایک کے پاس 4 سے 6 محکموں کے انتظامی اختیارات ہوں گے۔ اس کے علاوہ سیکریٹریٹ میں اطلاعات، سیکیورٹی اور قانونی امور کے مشیروں کے دفاتر بھی قائم کیے جائیں گے۔

12 اضلاع کے لیے 48 رکنی کونسل بھی قائم ہوگی

وفاقی حکمنامے کے مطابق متعین 12 اضلاع باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر، جنوبی وزیرستان لوئر، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت اور بنوں کے لیے 48 رکنی کونسل بھی تشکیل دی جائے گی جس کی منظوری وفاقی حکومت دے گی۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ انتظامی امور سے متعلق فیصلوں کی حتمی منظوری وزیراعظم سے لی جائے گی۔ 48 رکنی کونسل میں نشستیں متعلقہ اضلاع کی آبادی کے تناسب سے تقسیم کی جائیں گی۔

کونسل کے ارکان اپنے اپنے اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ رابطے میں رہیں گے اور ان کی سفارشات کی بنیاد پر انتظامی، مالی اور سیکیورٹی امور سے متعلق فیصلوں میں کردار ادا کریں گے۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

اے آئی پاور روبوٹس کیا کیا کام کرسکتے ہیں؟ حیرت انگیز رپورٹ

اے آئی پاور روبوٹس زمینی اور فضائی سفر کے طریقوں کو بدل سکتے ہیں، یہ

Read More

واٹس ایپ ویب پر بڑی مشکل آسان، نئے فیچرز متعارف

واٹس ایپ ویب ایک اہم اپ ڈیٹ کی تیاری کر رہا ہے، جس کے تحت

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.