پاکستان میں 5 جی  انٹرنیٹ: کیا یہ تیز سروس آئی ٹی ایکسپورٹس اور فری لانسنگ کو بڑھا سکے گی؟

پاکستان میں 5 جی سروسز کا دائرہ 24 بڑے شہروں تک پھیل چکا ہے اور مارچ 2026 میں اسپیکٹرم نیلامی کے بعد 480 میگا ہرٹز اضافی اسپیکٹرم حاصل ہوا ہے جس سے آئی ٹی انڈسٹری کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کے مطابق 5 جی سروسز 1,700 سے زائد سائٹس پر دستیاب ہیں جبکہ ملک میں 2 لاکھ 34 ہزار کلومیٹر سے زائد آپٹیکل فائبر کیبل موجود ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ نئی ٹیکنالوجی فری لانسرز اور آئی ٹی کمپنیوں کی عالمی مارکیٹ میں مسابقت کو بڑھا سکے گی؟ اس سوال پر وی نیوز سے گفتگو میں آئی ٹی ماہرین اور فری لانسرز نے اتفاق کیا کہ 5 جی مواقع بڑھا سکتا ہے لیکن اس کی کامیابی کا انحصار قابل اعتماد کنیکٹیویٹی، سستی سروس اور مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر ہوگا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے آئی ٹی ایکسپرٹ تمجید اعجازی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ صرف انٹرنیٹ کی رفتار نہیں بلکہ کنکشن کا تسلسل اور عالمی کلائنٹس کا اعتماد ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 5 جی ایک اینبلر ہے کوئی جادو کی چھڑی نہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ پاکستان کو سستی لیبر سے آگے بڑھا کر کلاؤڈ، مصنوعی ذہانت اور دیگر ایڈوانس  ڈیجیٹل سروسز کی جانب لے جانے میں مدد دے سکتا ہے بشرطیکہ مہارتوں، ادائیگیوں اور انٹرنیٹ کی دستیابی کے مسائل بھی حل ہوں۔

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے آئی ٹی ماہر محمد  عثمان کے نزدیک، 5 جی کی افادیت کا اصل پیمانہ صرف اسپیڈ ٹیسٹ نہیں بلکہ کام کی بروقت تکمیل اور روزمرہ ورک فلو میں بہتری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کہ جہاں فائبر براڈبینڈ دستیاب نہیں یا اس کا معیار ناقص ہے وہاں 5 جی متبادل یا بیک اپ کنکشن بن سکتا ہے تاہم محدود کوریج اور مہنگے ڈیٹا پیکیجز اس فائدے کو محدود کر سکتے ہیں۔

ایس ڈی پی آئی اسلام آباد سے وابستہ فری لانسر عمیر محمود نے انٹرنیٹ کی بندشوں، رفتار میں غیر متوقع کمی اور صارفین کی شکایات کے ازالے کے مؤثر نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق اگر سروس کا معیار برقرار نہ رہے اور سیاسی مواقع یا دیگر وجوہات کی بنیاد  پر انٹرنیٹ کی رفتار کم ہونے یا بندشوں کا مسئلہ موجود رہے تو فری لانسرز اور ڈیجیٹل کاروبار متاثر ہوں گے۔

دوسری جانب فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے فری لانسر سلمان رضا کے مطابق بڑے شہروں کے مقابلے میں جھنگ، چنیوٹ اور دیہی علاقوں میں کنیکٹیویٹی کے مسائل زیادہ سنگین ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ فائبر نیٹ ورک اور بنیادی انفراسٹرکچر میں بہتری کے بغیر 5 جی کے فوائد محدود رہیں گے جبکہ خواتین اور چھوٹے شہروں کے نوجوانوں کے لیے سستا اور قابل اعتماد انٹرنیٹ عالمی مارکیٹ تک رسائی کا اہم ذریعہ ہے۔

دوسری جانب ٹیلی کام کمپنی جاز نے 27 اگست 2026 کو اعلان کیا تھا کہ اس کے فعال 5 جی سائٹس کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے اور کمپنی نے سال کے اختتام تک اسے 2,500 تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس کا نیٹ ورک 10 شہروں میں موجود ہے اور اس نے نیٹ ورک کی توسیع کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تاہم اصل امتحان یہ ہوگا کہ اس توسیع سے صارفین کو عملی طور پر کتنی بہتر کوریج اور تیز رفتار  سروس ملتی ہے۔

خصوصاً سروس کے معیار، کوریج کے اہداف اور صارفین کی شکایات کے ازالے کے حوالے سے پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کا باضابطہ مؤقف بھی اہمیت کا حامل ہے لیکن اس معاملے پر اپنی پالیسیز کی وجہ سے وہ مؤقف دینے سے گریزاں ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

48 ملین جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز لیک ہوگئے

سائبر سیکیورٹی کے ایک بڑے انکشاف میں تقریباً 48 ملین جی میل صارفین کے یوزرنیم

Read More

گوگل نے پہلی بار جی میل ایڈریس کی تبدیلی کا فیچر متعارف کرادیا

گوگل نے اہم اپ ڈیٹ کرتے ہوئے پہلی بار جی میل ایڈریس کی تبدیلی کا

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.