ملتان: جبری مشقت سے انکار پر 15 سالہ یتیم لڑکے کو گاڑی سے کچل دیا گیا

پنجاب کے شہر ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں جبری مشقت سے انکار اور کام چھوڑ کر جانے پر وسیم عباس نامی 15 سالہ یتیم لڑکے کو گاڑی کے نیچے کچل کر قتل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی مختلف سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے آنے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف پولیس کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان نے واقعے کو سڑک کا حادثہ ثابت کرنے کی کوشش کی، تاہم کیمروں کے مناظر سے واضح ہوا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ باقاعدہ تعاقب کر کے کیا گیا قتل تھا۔

سی سی ٹی وی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقتول لڑکا اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہا ہے جبکہ ملزمان گاڑی میں اس کا پیچھا کر رہے ہیں۔

ایک اور زاویے سے ریکارڈ ہونے والی ویڈیو میں ملزمان کو تیز رفتار کار لڑکے پر چڑھاتے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

واقعے کے فوراً بعد پولیس نے توقیر نذیر نامی ملزم کو حراست میں لے لیا اور واقعے کی قانونی کارروائی شروع کر دی۔

سی پی او ملتان اختر فاروق کے مطابق مقتول ایک فلاحی ادارے کے یتیم خانے میں مقیم تھا، جہاں سے اسے سات روز قبل الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ملزم توقیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔

ملزم مختلف عمارتوں میں بجلی کے کام کے ٹھیکے لیتا تھا اور ماضی میں بھی یتیم خانے کے بچے اس کے پاس تربیت حاصل کرنے آتے رہے ہیں۔

پولیس نے واضح کیا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران مقتول پر چوری یا کسی دیگر ناخوشگوار واقعے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اور محض کام چھوڑ کر جانے کی بناء پر اس کا تعاقب کر کے گاڑی چڑھائی گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں تا کہ واقعے میں ملوث دیگر ممکنہ عناصر کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ ضابطے کی کارروائی کے بعد مقتول کی لاش اس کے چچا اور ماموں کے حوالے کر دی گئی ہے۔

مقتول وسیم عباس کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے موضع دولت پور میں ادا کر دی گئی ہے، جس کے بعد ان کی تدفین مقامی قبرستان میں کر دی گئی۔ واقعے کے بعد مقتول کے چچا اور یتیم خانے کی انتظامیہ کی جانب سے بیانات سامنے آئے ہیں، جن میں ملزم توقیر کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور انصاف کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یتیم خانے کے جنرل سیکریٹری شعیب حیدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وسیم عباس گزشتہ پانچ سال سے ان کے ادارے میں مقیم تھا اور الیکٹریشن کا کام سیکھنے کا خواہش مند تھا۔ انتظامیہ نے مکمل تسلی کرنے کے بعد چھ روز قبل ہی اسے ملزم توقیر کے پاس کام سیکھنے کے لیے بھیجا تھا، جس کے پاس 40 سے 45 دیگر لڑکے بھی الیکٹریکل کام کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

شعیب حیدر کے مطابق ملزم کا کہنا ہے کہ بچہ پیدل بھاگا تو اس کا گاڑی سے پیچھا کیا گیا اور اس دوران گاڑی بے قابو ہو گئی، تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج میں بظاہر گاڑی بے قابو ہوتی نظر نہیں آتی بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بچے کو جان بوجھ کر کچلا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بچہ ملزم کے پاس سے کیوں بھاگا، اس کی اصل وجہ پولیس تفتیش میں سامنے آئے گی، جبکہ پیشگی احتیاط کے طور پر ملزم کے پاس موجود یتیم خانے کے دوسرے بچے کو بھی واپس بلا لیا گیا ہے۔

دوسری جانب مقتول وسیم عباس کے چچا جعفر حسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملزم توقیر نے ان کے بھتیجے کو جان بوجھ کر گاڑی کے نیچے دے کر مارا ہے اور بچے کی حالت دیکھ کر ان کا دل دہل گیا تھا۔

جعفر حسین کے مطابق وسیم کے والد کا انتقال نو سال قبل ہوا تھا، جس کے بعد پہلے نانا اور پھر انہوں نے بچوں کی کفالت کی، بعد ازاں وسیم اور اس کے بھائی و کزن کو یتیم خانے میں داخل کرایا گیا تھا۔

انہوں نے حکام سے ملزم کو قرار واقعی سزا دینے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی میں صبح سویرے ہلکی پھوار سے گرمی میں مزید کمی، شہر میں موسم خوشگوار

شہر قائد کے مختلف علاقوں میں ہلکی بوندا باندی اور پھوار کے باعث موسم خوشگوار

Read More

حکیم سعید سے امجد صابری قتل اور بلدیہ فیکٹری تک کوئی الزام ثابت نہیں ہوا، سربراہ ایم کیو ایم

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے

Read More

TECHNOLOGY

واٹس ایپ صارفین کے لیے خوشخبری، پرائیویسی بڑھانے کے لیے نیا فیچر متعارف

واٹس ایپ نے صارفین کی پرائیویسی مزید بہتر بنانے کے لیے ایک اہم فیچر متعارف

Read More

گرمی کے اس شدید موسم میں موبائل فون کو محفوظ رکھنے کے طریقے

شدید گرمی کی لہروں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اس موسم میں جہاں انسان

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.