اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسرائیل میں متوقع پارلیمانی انتخابات سے قبل ملک کے نئے قومی سیکیورٹی نظریے (ڈاکٹرائن) کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر دشمنوں پر پیشگی اور شدید ترین حملے کرنے میں ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا جائے گا۔
نیتن یاہو نے پیر کے روز اپنے ایک ویڈیو بیان میں بتایا کہ انہوں نے ایک فوجی اڈے کے کمانڈر سے گفتگو کر کے اسرائیلی افواج کی عملی صلاحیتوں کا جائزہ لیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن اسرائیل کو آزمانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ آئندہ حملوں کی صورت میں انہیں پہلے سے بھی زیادہ سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ نئی نیشنل سیکیورٹی ڈاکٹرائن کے تحت دفاع اور خطرات کو محدود رکھنے کی روایتی حکمت عملی کے بجائے پیشگی حملوں، جارحیت اور خطرات کو قبل از وقت ناکام بنانے کو ترجیح دی جائے گی۔
نیتن یاہو کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد غزہ، لبنان، یمن اور ایران میں مسلسل جنگ کے نتیجے میں اسرائیل ایک بڑے وجودی اور جوہری خطرے کو ٹالنے اور ایرانی محور کے گھیراؤ کو توڑنے میں کامیاب ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا بنیادی ہدف ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنا اور ایرانی نظام کا خاتمہ ہے۔ ان کے مطابق یہ مشن ابھی نامکمل ہے لیکن اسے جلد پورا کیا جائے گا۔
نئی ڈاکٹرائن میں ملکی سطح پر ہوم فرنٹ کا تحفظ مضبوط بنانے، گولہ بارود میں خودانحصاری حاصل کرنے، جدید ترین ٹیکنالوجی میں برتری برقرار رکھنے اور خطے میں نئے اتحادی بنانے جیسے نکات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
نیشنل سیکیورٹی کونسل اور اس کے ڈائریکٹر شموئل بن عزرا کی معاونت سے تیار کیے گئے اس منشور میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے خطے میں اپنی عسکری طاقت کی حیثیت کو مزید مضبوط کیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیتن یاہو کے بیان پر بالواسطہ ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے بھی بعض اہداف اور اقدامات ابھی نامکمل ہیں جنہیں پورا کیا جانا باقی ہے۔
یہ تند و تیز بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب اسرائیل میں 27 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہونا ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے سخت سیاسی مقابلے کا سامنا کرنے والے نیتن یاہو ان بیانات اور سیکیورٹی بیانیے کے ذریعے دائیں بازو کے ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔


































