خون کے چند قطروں سے بیماریوں کی تشخیص کا دعویٰ، ارب پتی سے سزا یافتہ جعلساز تک الزبتھ ہومز کا حیران کن سفر

کبھی ٹیکنالوجی کی دنیا کا روشن مستقبل سمجھی جانے والی الزبتھ ہومز نے ایک انقلابی طبی آلے کی ایجاد کا دعویٰ کیا لیکن ان کا جھوٹ بے نقاب ہونے پر وہ جیل پہنچ گئیں۔ ایک نئی دستاویزی فلم نے ایک بار پھر ان کی شخصیت، دعوؤں اور طرز عمل پر بحث چھیڑ دی ہے۔

امریکی ٹیکنالوجی کی دنیا میں کبھی غیر معمولی کامیابی کی علامت سمجھی جانے والی الزبتھ ہومز آج ایک ایسے فراڈ کی وجہ سے مشہور ہیں جس نے سرمایہ کاروں، طبی شعبے اور عوامی اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی کمپنی نے ایک ایسا جدید آلہ تیار کیا ہے جو خون کے صرف ایک قطرے سے متعدد بیماریوں کی تشخیص کر سکتا ہے لیکن بعد میں ان کے دعوے غلط ثابت ہوئے اور انہیں سرمایہ کاروں سے دھوکا دہی کے جرم میں سزا سنائی گئی۔

ایک زمانے میں ارب پتی کاروباری شخصیت کے طور پر شہرت حاصل کرنے والی ہومز کی کہانی اب ایک بار پھر موضوع بحث بن گئی ہے۔ نئی دستاویزی فلم ’یو کین سی ایوری تھنگ‘ میں ان کی زندگی، شخصیت اور متنازع دعوؤں کو قریب سے دکھایا گیا ہے جس نے فلمی حلقوں اور ناقدین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

فلم کے ہدایت کار نیتھن فیلڈر کے مطابق ابتدا میں ان کا مقصد الزبتھ ہومز پر دستاویزی فلم بنانا نہیں تھا بلکہ وہ صرف ان سے ملاقات اور ان کی شخصیت کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ تاہم، یہ ملاقات ایک ایسی فلم کی بنیاد بن گئی جس نے ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیا ہے کہ آخر ہومز کی شخصیت میں ایسا کیا ہے جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

ارب پتی بننے سے جیل پہنچنے تک

الزبتھ ہومز نے سنہ 2014 میں اس وقت عالمی شہرت حاصل کی جب انہیں اپنی کمپنی ’تھیرانوس‘ کی بانی اور خودساختہ ارب پتی کاروباری شخصیت کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔

ان کی کمپنی کا دعویٰ تھا کہ اس نے خون کے چند قطروں سے متعدد بیماریوں کی تشخیص کرنے والی ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا تو طبی شعبے میں ایک بڑی تبدیلی آ سکتی تھی، کیونکہ اس کے ذریعے روایتی طریقوں کے مقابلے میں کم خون لے کر کئی ٹیسٹ کرنا ممکن ہو سکتا تھا۔

ہومز نے اپنی شخصیت کا ایک منفرد تاثر بھی قائم کیا۔ ان کی بڑی آنکھیں، گہری سرخ لپ اسٹک اور معروف ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت اسٹیو جابز کی طرح سیاہ رنگ کی اونچی کالر والی شرٹ ان کی پہچان بن گئی۔ وہ کاروباری جریدے ’فارچیون‘ کے سرورق پر بھی نمایاں ہوئیں۔

تاہم، بعد میں انکشاف ہوا کہ کمپنی کا تیار کردہ آلہ درست طور پر کام نہیں کر رہا تھا اور بعض اوقات غلط نتائج بھی دے رہا تھا۔ اس کے باوجود کمپنی نے اپنی ٹیکنالوجی کے بارے میں بڑے دعوے کیے تھے۔

سرمایہ کاروں کو دھوکا دینے کے جرم میں سزا پانے کے بعد ہومز مئی 2023 میں وفاقی جیل پہنچ گئیں۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

گوگل نے ’کم قیمت‘ اے آئی پلس پلان عالمی سطح پر متعارف کرادیا

گوگل نے اپنی سب سے سستی مصنوعی ذہانت کی سبسکرپشن گوگل اے آئی پلس کو

Read More

قرآن مجید کی تفسیر کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال ممنوع قرار، مصری دارالافتا کا فتویٰ

مصری دارالافتا نے فتویٰ جاری کرتے ہوئے قرآن مجید کی تفسیر کے لیے مصنوعی ذہانت

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.