دنیا بھر میں ملازمین کی اے آئی کے ذریعے نگرانی میں اضافہ

دنیا بھر میں دفاتر اور دیگر کاروباری اداروں میں ملازمین کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے لیے اے آئی کا استعمال بڑھ رہا ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کام کی نگرانی اور ملازمین کی نجی زندگی میں مداخلت پر سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔

برطانوی اخبار دی گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق، ’کوآپ لیگل سروسز‘ نے ایسا اے آئی نظام متعارف کرایا ہے جو صارفین کو قانونی مشورے دینے والے ملازمین کی فون کالز ریکارڈ کرتا، ان کا تجزیہ کرتا اور گفتگو کی بنیاد پر انہیں فیصد کی صورت میں اسکور دیتا ہے۔ ان کالز میں وصیت، وراثت اور کسی شخص کی وفات کے بعد اس کے اثاثوں سے متعلق معاملات پر بات چیت شامل ہوتی ہے۔

کمپنی کے ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گارجین کو بتایا کہ اس نظام کے تحت ملازمین کو مسلسل نگرانی میں رہنے کا احساس ہوتا ہے۔ ایک مخبر نے اس ٹیکنالوجی کو جابرانہ اور ایک ایسی صورت حال قرار دیا جس میں ملازمین کی ہر سرگرمی پر نظر رکھی جاتی ہے۔

دوسری جانب کوآپ نے ان تنقیدوں سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے وراثتی معاملات کے مشیر اپنے کام میں بھرپور دلچسپی لیتے ہیں۔

اے آئی سے ملازمین کی کارکردگی کیسے جانچی جاتی ہے؟

کام کی جگہوں پر نگرانی کے لیے اے آئی کے استعمال کا مقصد بظاہر ملازمین کی کارکردگی جانچنا اور کام کے معیار کو بہتر بنانا ہوتا ہے، لیکن اس کے طریقہ کار پر اعتراضات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

خدشہ یہ ہے کہ خودکار نظام ملازمین کے کام کو محدود پیمانوں پر جانچ کر ان کی مجموعی کارکردگی کے بارے میں منفی نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔ فون پر بات کرنے کے انداز، گفتگو کے لہجے اور دیگر رویوں کا تجزیہ کرکے اسکور دینا ملازمین کی کارکردگی کی جانچ کو زیادہ خودکار تو بنا سکتا ہے، لیکن اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا ایسے نظام ہر صورت حال کو درست طور پر سمجھ سکتے ہیں۔

امریکا میں بھی ملازمین کی نگرانی کے ایسے طریقوں پر اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔ بعض اداروں میں ملازمین کی نقل و حرکت، وقفوں اور کام کے دوران مختلف سرگرمیوں پر نظر رکھی جاتی ہے۔

مثال کے طور پر، ایمازون کے گوداموں میں کام کرنے والے ملازمین نے شکایت کی ہے کہ ان کے ٹوائلٹ جانے کے وقت تک کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اسی طرح امریکی ریاست کیلیفورنیا کے اسپتالوں کے نیٹ ورک ’قیصر پرمینینٹے‘ میں نرسوں نے کہا ہے کہ خودکار نظام مریضوں سے بات چیت کے دوران ان کے لہجے کا جائزہ لیتے ہیں۔

ان خدشات کے پیش نظر کیلیفورنیا میں ملازمین کی نگرانی کے بعض طریقوں کو محدود کرنے کے لیے قوانین بھی منظور کیے گئے ہیں۔ ان میں ایسے نظام شامل ہیں جو ملازمین کی نقل و حرکت کا نقشہ تیار کرتے ہیں یا ان کی جذباتی کیفیت جانچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اے آئی کے فوائد کس کو مل رہے ہیں؟

اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے معاشی فوائد کن افراد اور طبقات تک پہنچ رہے ہیں۔

گارجین کی ایک دوسری رپورٹ کے مطابق، اے آئی کی صنعت میں خواتین کی نمائندگی اور قیادت کے مواقع مردوں کے مقابلے میں محدود ہیں۔ رپورٹ میں لنکڈ اِن کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اے آئی سے متعلق مختلف پیشوں میں مردوں کی درمیانی تنخواہ خواتین کے مقابلے میں سالانہ تقریباً 45 ہزار ڈالر زیادہ ہے۔

اس فرق کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی ہے کہ مردوں کو نسبتاً زیادہ معاوضے والی ملازمتیں ملنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں ایک خاتون کاروباری شخصیت کا تجربہ بھی بیان کیا گیا، جن کے مطابق سرمایہ کاروں کے سامنے کاروباری منصوبہ پیش کرتے وقت ان کے مرد شریک بانی کے بات کرنے سے سرمایہ کاری حاصل کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

کینیا میں ڈیٹا فراہم کرنے والے کارکنوں کے مسائل

اے آئی کے معاشی اثرات کا ایک اور پہلو ان کارکنوں کی صورت حال ہے جو اس ٹیکنالوجی کی تربیت اور بہتری کے لیے ڈیٹا سے متعلق کام کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، کینیا میں پناہ گزین غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے دور بیٹھ کر مختلف کام انجام دے رہے ہیں۔ ان میں ایسے کام بھی شامل ہیں جن کے ذریعے اے آئی نظاموں کو معلومات سمجھنے اور مخصوص کام انجام دینے کے قابل بنایا جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض کارکنوں کو ان کی محنت کے معاوضے کے بارے میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے۔ ان کی ادائیگی ایک ایسے نظام سے منسلک ہے جس میں کام کے معیار کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے کہ انہیں رقم ملے گی یا نہیں۔

کئی کارکنوں نے اس نظام کو غیر منصفانہ قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس روزگار کے متبادل مواقع بہت کم ہیں۔ انہیں یہ خدشہ بھی ہے کہ مستقبل میں اے آئی ان کاموں کو خود انجام دینے کے قابل ہو جائے گی جن سے وہ فی الحال اپنی آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔

اس صورت حال سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اے آئی کی ترقی سے کمپنیوں کو ہونے والے فوائد کے مقابلے میں ان کارکنوں کو کتنا معاوضہ اور تحفظ مل رہا ہے جن کی محنت اس ٹیکنالوجی کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔

ٹیکنالوجی کے فوائد اور انسانی اثرات میں توازن

اے آئی کی ترقی کے حوالے سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بعض رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اس کے وسیع فوائد کے لیے کچھ منفی نتائج کو بھی برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا تھا کہ ان کے خیال میں دنیا کو اس ٹیکنالوجی کے فوائد کے حصول کے لیے بعض برے نتائج کو قبول کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بیان اے آئی کے ممکنہ غلط استعمال اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات کے تناظر میں سامنے آیا۔

تاہم ملازمین کی نگرانی، تنخواہوں میں فرق اور ڈیٹا سے متعلق کام کرنے والے کارکنوں کے مسائل ظاہر کرتے ہیں کہ اے آئی کے اثرات صرف سائبر سکیورٹی یا ٹیکنالوجی کے غلط استعمال تک محدود نہیں ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی لوگوں کے روزگار، آمدنی، کام کے ماحول اور نجی زندگی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

اے آئی کے استعمال سے کام کی رفتار اور کارکردگی بہتر بنانے کے امکانات موجود ہیں، لیکن اس کے ساتھ ملازمین کے حقوق، نگرانی کے واضح اصول، منصفانہ معاوضے اور فیصلوں میں شفافیت کو یقینی بنانا بھی اہم ہے۔ اس طرح یہ طے کرنا ممکن ہوگا کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے فوائد کے ساتھ اس کے انسانی اور معاشرتی اثرات کو کس طرح متوازن رکھا جائے۔

Share On Social Media

KARACHI

گل پلازہ متاثرین کے لیے ایکسپو سینٹر میں بازار قائم، عید تک دکانیں بحال ہو جائیں گی، شرجیل میمن

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور وزیر داخلہ ضیاالحسن لنجار نے ایکسپو سینٹر

Read More

TECHNOLOGY

اے آئی ماڈلز کا حیران کن رویہ، ایک دوسرے کو بند ہونے سے بچانے لگے

امریکی جامعات کے محققین نے مصنوعی ذہانت کے جدید نظاموں میں ایک غیر متوقع اور

Read More

واٹس ایپ کا نیا فیچر: شور میں بھی صاف آواز کے ساتھ کال ممکن

میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے صارفین کے لیے ایک جدید سہولت متعارف کرانے کی تیاری

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.