اے آئی ماڈلز اسمارٹ ڈیوائسز کے ذریعے اپنی نقلیں خود تیار کرکے پھیلا سکتے ہیں، اینتھروپک کا انتباہ

اینتھروپک نے خبردار کیا ہے کہ چھوٹے مصنوعی ذہانت یا اے آئی ماڈلز آئندہ چند ماہ میں انٹرنیٹ سے جڑی ڈیوائسز کے ذریعے آسانی سے خود کو ریپلیکیٹ کرنے (اپنی نقلیں یا کاپیاں خود بنالینا) کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سے سائبر سیکیورٹی اور تیزی سے خودمختار ہوتی ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات کے بارے میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

کلاڈ اے آئی بنانے والی کمپنی کے مطابق ایسے ماڈلز ممکنہ طور پر اسمارٹ اوون اور اینڈرائیڈ ٹی وی باکس جیسی ڈیوائسز میں گھس سکتے ہیں اور ان کی کمپیوٹنگ طاقت کو استعمال کر کے خود کو چلا سکتے اور دوسرے منسلک نظاموں تک پھیل سکتے ہیں، اور اس کے لیے انہیں مہنگے ڈیٹا سینٹرز پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

اینتھروپک نے متنبہ کیا کہ خود کو دہرانے والے اے آئی نظام کو بند کرنا خاصا مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ وہ کئی ڈیوائسز میں پھیل سکتا ہے اور اس پر قابو پانے کا کوئی ایک مرکزی نقطہ موجود نہیں ہوگا۔

کمپنی نے واضح کیا کہ وہ ایک مکمل طور پر بے قابو اور خود کو دہرانے والے اے آئی نظام کی بات کر رہی ہے جو ابھی وجود میں نہیں آیا۔

تاہم اس کا کہنا ہے کہ اے آئی ایجنٹس تیزی سے اس قابل ہو رہے ہیں کہ وہ خود کو دہرانے کے عمل کے انفرادی مراحل مکمل کر سکیں اور اپنی تبدیلیاں مستقبل کی نقول تک منتقل کر سکیں۔

اپنی تحقیق کے حصے کے طور پر اینتھروپک نے گوگل کے ایک چھوٹے اے آئی ماڈل جیما4-26بی-اے4بی کو 15 سستے اور غیر معروف برانڈ کے اینڈرائیڈ ٹی وی باکسز کے نیٹ ورک پر آزمایا۔ کمپنی نے نشاندہی کی کہ کمزور سکیورٹی والی ڈیوائسز مذموم اے آئی نظاموں کے لیے ممکنہ داخلی راستے فراہم کر سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ اینتھروپک نے خبردار کیا کہ وہ ماڈلز جو اتنے بڑے ہیں کہ ایک ڈیوائس پر نہیں چل سکتے اور خود کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں جنہیں ’شارڈز‘ کہا جاتا ہے اور کئی ڈیوائسز پر چل سکتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق بدترین صورتحال میں کئی اے آئی ماڈلز پر مشتمل ایک پورا نیٹ ورک سامنے آ سکتا ہے جو مختلف ہارڈ ویئر پر کام کرے اور خود کو دہرانے کے لیے متعدد طریقے استعمال کرے۔

ممکنہ خطرات میں سائبر حملے، کمپیوٹنگ وسائل تک غیر مجاز رسائی اور ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) کی چابیوں کی چوری شامل ہو سکتے ہیں۔

اینتھروپک کے مطابق مستقبل میں اے آئی کا خود کو دہرانا کئی شکلیں اختیار کر سکتا ہے جن میں غیر محفوظ ڈیوائسز پر چلنے والے سست رفتار تقسیم شدہ نظاموں سے لے کر ایسے طاقتور ماڈلز تک شامل ہیں جو محفوظ کمپیوٹر نظاموں میں بھی نقب لگا سکیں۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماڈلز کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے ساتھ اے آئی کی حفاظت سے متعلق صنعت میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ تاہم اینتھروپک نے زور دیا کہ خودمختار اے آئی کے خود کو دہرانے کی درست شکل اور وقت کا تعین ابھی غیر یقینی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

مطالعے کے بدلتے انداز: مصنوعی ذہانت نے اب کتابوں سے گفتگو بھی ممکن بنادی

مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی نئی ٹیکنالوجی کتابیں پڑھنے کے انداز میں بڑی

Read More

اسلام آباد اور کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی

محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں

Read More

TECHNOLOGY

اوپن اے آئی کا اے آئی ایجنٹ سیکیورٹی توڑنے کے لیے خود ساختہ جعلی شناختیں بنانے لگا

برطانیہ کے اے آئی سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اوپن اے آئی

Read More

کیموتھراپی کے بعد کینسر کی واپسی کا ایک نیا راز بے نقاب

امریکا کے وائیسٹار انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ روزمرہ خوراک

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.