بھرپور صحت: ہفتے میں یہ نباتاتی غذائیں کھائیں اور دیکھیں اس کا کمال

ماہرین کے مطابق خوراک میں پھلوں اور سبزیوں کے ساتھ دالیں، اناج، گری دار میوے اور مختلف بیج شامل کرنے سے آنتوں میں مفید جرثوموں کی افزائش بہتر ہوسکتی ہے۔

صحت مند زندگی کے لیے متوازن غذا کی اہمیت سے تو سب واقف ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ روزانہ کھائی جانے والی غذا میں مختلف نباتاتی اجزا کی تعداد بھی صحت پر اثر انداز ہوسکتی ہے؟ غذائیت کے ماہرین کے مطابق ہفتے میں کم از کم 30 مختلف نباتاتی غذائیں کھانے سے آنتوں میں موجود مفید جرثوموں کی اقسام اور تنوع بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ تصور سنہ 2018 میں ہونے والی ایک تحقیق کے بعد خاصا مقبول ہوا، جس میں سامنے آیا کہ ہفتے میں 30 یا اس سے زیادہ مختلف نباتاتی غذائیں کھانے والے افراد کی آنتوں میں موجود جرثوموں کا تنوع ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ تھا جو ہفتے میں 10 سے بھی کم اقسام کی نباتاتی غذائیں استعمال کرتے تھے۔

بعد کی تحقیقات میں بھی ایسے شواہد سامنے آئے کہ خوراک میں مختلف نباتاتی اجزا شامل کرنے سے آنتوں کے جرثوموں کے نظام جسے مائیکرو بایوم کہا جاتا ہے پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

آنتوں میں موجود مفید جرثومے نظام ہاضمہ کے علاوہ جسم کے مدافعتی نظام اور مجموعی صحت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی بہتر افزائش جسم میں سوزش کم کرنے اور طویل مدت میں صحت مند زندگی گزارنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔

30 مختلف غذاؤں کا ہدف کیوں اہم ہے؟

غذائیت کے ماہرین کے مطابق ہفتے میں 30 مختلف نباتاتی غذائیں کھانے کا ہدف کوئی حتمی طبی اصول نہیں بلکہ خوراک میں تنوع پیدا کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

اس حوالے سے ہونے والی ابتدائی تحقیق کے مطابق 30 مختلف غذاؤں کا عدد کسی خاص سائنسی حد کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اس لیے ضروری نہیں کہ ہر شخص لازماً اسی تعداد کو پورا کرے۔ ہفتے میں 20 یا 25 مختلف نباتاتی غذائیں کھانے سے بھی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جو افراد پہلے ہی مختلف اقسام کی نباتاتی غذائیں استعمال کرتے ہیں انہیں اپنی خوراک میں مزید تنوع شامل کرنے سے نسبتاً کم فرق محسوس ہوسکتا ہے جبکہ محدود اقسام کی غذا کھانے والے افراد کے لیے اس میں تبدیلی زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔

کون سی غذائیں اس فہرست میں شامل ہیں؟

ہفتے میں 30 مختلف نباتاتی غذاؤں کا ہدف حاصل کرنے کے لیے صرف پھلوں اور سبزیوں پر انحصار کرنا ضروری نہیں۔ اس میں روزمرہ استعمال ہونے والی کئی دوسری غذائیں بھی شامل ہیں۔

ان میں بنیادی طور پر 6 اقسام کی غذائیں شمار کی جاتی ہیں۔

پھل

سیب، کیلا، مالٹا، امرود، آم، خربوزہ اور دیگر موسمی پھل۔

سبزیاں

پالک، گاجر، بند گوبھی، شملہ مرچ، ٹماٹر، بھنڈی اور دیگر سبزیاں۔

ثابت اناج

گندم، جو، جئی، بھورا چاول اور دیگر غیر صاف شدہ اناج۔

دالیں اور پھلیاں

چنے، لوبیا، مسور، مونگ اور دیگر دالیں۔

گری دار میوے اور بیج

بادام، اخروٹ، مونگ پھلی، تل، السی، چیا اور کدو کے بیج۔

جڑی بوٹیاں اور مصالحے

دھنیا، پودینہ، ہلدی، ادرک، دارچینی، زیرہ اور دیگر مصالحے۔

چائے، کافی اور کوکو

دلچسپ بات یہ ہے کہ چائے، کافی اور کوکو سے بنی چاکلیٹ کو بھی بعض طریقوں میں نباتاتی غذاؤں کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ان میں اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگر مفید نباتاتی مرکبات پائے جاتے ہیں۔ تاہم بعض ماہرین جڑی بوٹیوں، مصالحوں، چائے اور کافی کو مکمل غذائی حصے کے بجائے ایک چوتھائی پوائنٹ شمار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

چھوٹی تبدیلیاں بھی فائدہ مند ہوسکتی ہیں

ماہرین کے مطابق اپنی خوراک میں معمولی تبدیلیاں کرکے بھی نباتاتی غذاؤں کی تعداد بڑھائی جاسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ناشتے میں دلیے یا دہی کے ساتھ مختلف پھل، گری دار میوے اور بیج شامل کیے جاسکتے ہیں۔

اسی طرح دوپہر کے کھانے میں معمول کے سینڈوچ یا روٹی کے ساتھ سلاد جبکہ رات کے کھانے میں دال، سبزی یا مختلف اناج استعمال کرکے خوراک میں تنوع پیدا کیا جاسکتا ہے۔

روزمرہ کھانوں میں مختلف مصالحوں اور جڑی بوٹیوں کا استعمال بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ غذائی تحقیق سے اشارہ ملتا ہے کہ مختلف مصالحوں کا امتزاج آنتوں میں موجود جرثوموں کے نظام میں مختصر مدت کے اندر تبدیلیاں پیدا کرسکتا ہے۔

ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ صرف پھلوں اور سبزیوں تک محدود رہنے کے بجائے ثابت اناج، گری دار میوے اور بیجوں کو بھی خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔ یہ غذائیں فائبر اور دیگر ضروری غذائی اجزا فراہم کرتی ہیں۔

مہنگی غذا خریدنا ضروری نہیں

بعض افراد کے لیے ہر ہفتے 30 مختلف غذائیں خریدنا مہنگا یا مشکل محسوس ہوسکتا ہے تاہم اس مقصد کے لیے مہنگی یا غیرمعمولی غذاؤں کی ضرورت نہیں۔

گھر میں پہلے سے موجود دالیں، چنے، لوبیا، مختلف اناج، خشک میوہ جات اور بیج بھی اس ہدف کو حاصل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اسی طرح موسمی پھلوں اور سبزیوں کا استعمال نسبتاً کم خرچ میں خوراک کا تنوع بڑھانے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔

منجمد سبزیاں بھی اس سلسلے میں کارآمد ہوسکتی ہیں جبکہ کھانے میں بچ جانے والی سبزیوں یا دالوں کو اگلے دن کسی دوسرے کھانے کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ایک ہی غذا بار بار کھانے کے بجائے تنوع اپنائیں

ماہرین کے مطابق اس طرز غذا کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایک ہی قسم کی صحت مند غذا بار بار کھانے کے بجائے مختلف نباتاتی اجزا کو خوراک میں شامل کیا جائے۔

مثلاً اگر کوئی شخص روزانہ سیب کھاتا ہے تو اسے ہفتے کے دوسرے دنوں میں کیلا، امرود، مالٹا یا کوئی موسمی پھل بھی استعمال کرنا چاہیے۔ اسی طرح ہر روز ایک ہی سبزی کھانے کے بجائے مختلف سبزیوں اور دالوں کو کھانوں کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

اس مقصد کے لیے ہر کھانے میں کوئی نیا نباتاتی جز شامل کرنے کی کوشش بھی مفید ہوسکتی ہے۔ دلیے پر چند بادام یا بیج چھڑکنا، سالن میں مختلف سبزیاں شامل کرنا یا سلاد میں نئی چیزیں آزمانا اس کی آسان مثالیں ہیں۔

صحت مند عادات اپنانے کا آسان طریقہ

ہفتے میں 30 مختلف نباتاتی غذاؤں کا ہدف بظاہر مشکل دکھائی دیتا ہے لیکن روزمرہ خوراک میں معمولی تبدیلیاں کرکے اسے آسان بنایا جاسکتا ہے۔

ضروری نہیں کہ اس مقصد کے لیے ہر روز الگ کھانا تیار کیا جائے یا مہنگی غذائیں خریدی جائیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ خوراک میں پھلوں، سبزیوں، دالوں، ثابت اناج، گری دار میوے اور بیجوں کی مختلف اقسام شامل ہوں۔

ماہرین کے مطابق غذائی تنوع کو مستقل عادت بنانے سے نہ صرف آنتوں کی صحت بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ مجموعی صحت کے لیے بھی مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بے تحاشا کھپت، اوپن اے آئی نے حل ڈھونڈ لیا

اوپن اے آئی نے اسٹار گیٹ کمیونٹی منصوبہ پیش کیا ہے جس کا مقصد کمیونٹی

Read More

موبائل فون مرمت کے لیے دینے سے پہلے یہ احتیاط یقینی بنائیں

موبائل فون دکان یا سروس سینٹر پرمرمت کے لیے دیتے وقت آپ کی پرائیویسی اور

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.