خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی توثیق، پارلیمانی ایوانوں کا اجلاس آج ہوگا

خیبرپختونخوا میں نافذ کیے گئے گورنر راج اور ایمرجنسی کی آئینی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے الگ الگ آج اجلاس طلب کر لیے گئے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت کو اتحادی جماعتوں کی جانب سے مکمل حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔

پارلیمانی ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس آج صبح 11 بجے اور سینیٹ کا اجلاس آج شام چار بجے منعقد ہوگا، جن کے ایجنڈے میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قراردادوں کی منظوری شامل ہے۔

قومی اسمبلی کے جاری کردہ آٹھ نکاتی ایجنڈے کے مطابق دونوں ایوانوں میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے باضابطہ قراردادیں پیش کی جائیں گی۔

اس کے علاوہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل بروز جمعرات 15 اکتوبر کو صبح ساڑھے 11 بجے طلب کیا گیا ہے، جس میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کی باقاعدہ توثیق کرائی جائے گی۔

حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے ان آئینی اقدامات کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

اس دوران سیاسی محاذ پر بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں خیبرپختونخوا کی موجودہ صورت حال اور وفاقی حکومت کے اقدامات پر تفصیلی مشاورت کی گئی، جس کے بعد ذرائع نے تصدیق کی کہ پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق حکومتی قرارداد کی ووٹنگ میں بھرپور حصہ لے گی اور مختلف بلوں کی منظوری میں بھی حکومت کا ساتھ دے گی۔

علاوہ ازیں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے ایک اعلیٰ سطح وفد نے خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور خیبر پختونخوا کے معاملے پر وفاقی حکومت کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کے بہترین مفاد اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر یہ مشکل ترین فیصلہ کرنا پڑا، کیونکہ حکومت کی جانب سے کھلے دل سے مذاکرات کی کوششوں کے باوجود دوسری طرف سے مثبت جواب نہیں ملا اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات میں عام شہریوں کے ساتھ فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں انتظامی صورت حال میں بہتری اور معمولاتِ زندگی کی بحالی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد لگائے گئے مختلف شاہراؤں کے کنٹینرز کو ہٹا دیا گیا ہے، تعلیمی ادارے دوبارہ کھل چکے ہیں، اور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) سروس سمیت ٹریفک کی روانی بتدریج بحال ہو رہی ہے، تاہم حساس علاقوں بالخصوص ریڈ زون میں سیکیورٹی انتظامات تاحال برقرار ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

150 تولے سونا اور لاکھوں کی نقدی؛ کراچی میں رواں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی

کراچی کے علاقے گڈاپ سٹی میں رواں سال کی بڑی ڈکیتی کی واردات سامنے آئی

Read More

وزارت خزانہ نے یورو بانڈ اور پانڈا بانڈ سے متعلق رپورٹس کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا

وزارتِ خزانہ نے پاکستان کے خودمختار فنانسنگ معاملات، جن میں یورو بانڈ اور پانڈا بانڈ

Read More

TECHNOLOGY

اوپن اے آئی کے نئے ماڈل کا سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران معروف پلیٹ فارم پر سائبر حملہ

معروف آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈل ’چیٹ جی پی ٹی‘ کی مالک کمپنی ’اوپن

Read More

اینڈرائیڈ فون کے 3 سیفٹی فیچرز آپ کی جان بچا سکتے ہیں، ابھی آن کریں

آج کل موبائل فون ہماری زندگی کا سب سے اہم حصہ بن چکا ہے۔ فون

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.