فرانس میں سپر مارکیٹوں پر سائبر حملہ، ہیکرز نے فریج گرم کردیے

فرانس میں سائبر حملے کے ذریعے سینکڑوں سپر مارکیٹوں کے فریج اور فریزر کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھا دیا گیا، جس کے نتیجے میں خوراک خراب ہوگئی اور بعض مقامات پر آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔ اس حملے سے ملک کے کئی بڑے سپر مارکیٹ گروپس متاثر ہوئے، حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیرس پراسیکیوٹر کے دفتر نے پیر کو بتایا کہ فرانس بھر میں خوراک فروخت کرنے والے کئی بڑے اداروں کے منسلک ریفریجریشن سسٹمز کو بڑے پیمانے پر سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے باعث خوراک ضائع ہونے کے ساتھ آگ لگنے کے واقعات بھی سامنے آئے۔

ہیکرز نے اس حملے میں سپر مارکیٹس کے ڈیجیٹل ریفریجریشن سسٹمز (کولنگ سسٹمز) کو نشانہ بنایا اور انہیں ہیک کرکے ڈیفروسٹ موڈ پر لگا دیا، جس کی وجہ سے فریج اور فریزر کا درجہ حرارت بڑھ کر 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ اس شدید گرمی کے باعث گوشت، سبزیوں اور جمی ہوئی اشیا سمیت تمام تازہ خوراک اور فروزن پروڈکٹس خراب ہو گئیں، اور حفظان صحت کے اصولوں کے پیش نظر سپر مارکیٹ انتظامیہ کو لاکھوں یورو مالیت کا سارا کھانا ضائع کرنا پڑا۔

فرانسیسی وزیراعظم سباستیاں لیکورنو نے ملک کے قومی سائبر سیکیورٹی ادارے (اے این ایس ایس آئی) کو واقعے کی تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ حکام یورپی ممالک کے ساتھ رابطے میں بھی ہیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا یہ حملہ دیگر ملکوں میں بھی ہوا ہے اور فرانس میں مزید کون سی کمپنیاں اس سے متاثر ہوسکتی ہیں۔

سائبر خطرات کا تجزیہ کرنے والے ادارے سیکوئیا کے سینئر تجزیہ کار فیلکس ایمے کے مطابق اسپین، پرتگال، پولینڈ، جرمنی اور بیلجیم میں بھی اس نوعیت کے حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔

فرانس میں متاثر ہونے والے سپر مارکیٹ گروپس میں کیریفور، مونوپری، انٹرمارشے اور کوآپریٹو یو شامل ہیں۔ کیریفور نے بتایا کہ اس کے 80 اسٹورز متاثر ہوئے، جبکہ تقریباً 490 اسٹورز چلانے والے مونوپری کے 5 فیصد اسٹورز اس حملے کی زد میں آئے۔

انٹرمارشے کی مالک کمپنی لی موسکیٹیئرز کے مطابق اس کے تقریباً 150 اسٹورز کے فریج اور فریزر کا درجہ حرارت رات کے دوران چھ گھنٹے تک 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا دیا گیا۔ کمپنی نے بتایا کہ صحت کے ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے متاثرہ تمام خوراک تلف کردی گئی۔

پیرس کے ایک رہائشی نے انٹرمارشے کے ایک اسٹور میں عملے کو پگھلی ہوئی منجمد اشیا بڑی مقدار میں کوڑے دان میں پھینکتے دیکھا۔ ان اشیا میں آئس کریم بھی شامل تھی، جو درجہ حرارت بڑھنے کے باعث پگھل چکی تھی۔

کوآپریٹو یو کے چیف ایگزیکٹو ڈومینیک شیلشر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ تازہ خوراک محفوظ رکھنے اور عوام کو خوراک فراہم کرنے کے لیے ضروری آلات کو نشانہ بنانا انتہائی سنگین اور غیر معمولی واقعہ ہے۔

فرانس میں سپر مارکیٹوں کی نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف کامرس اینڈ ڈسٹری بیوشن نے بھی واقعے پر مکمل شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق متاثرہ اسٹورز صارفین کے تحفظ اور معمول کے کاروبار کی بحالی کے لیے اقدامات کررہے ہیں، جبکہ بعض اسٹورز دوبارہ کام شروع کرچکے ہیں۔

تاحال اس حملے سے ہونے والے مجموعی مالی نقصان کا حتمی تخمینہ سامنے نہیں آیا، تاہم انٹرمارشے کے چیف ایگزیکٹو تھیری کوتیار نے فرانسیسی ٹی وی چینل بی ایف ایم کو بتایا کہ صرف ایک دن میں ملک بھر میں ہونے والے نقصانات کروڑوں یورو تک پہنچ سکتے ہیں۔

یورپی ریٹیل ایسوسی ایشن یوروکامرس کی ڈائریکٹر جنرل کرسٹل ڈیلبرگھے نے کہا کہ یہ واقعہ خوراک کی فراہمی کے پورے نظام کو سائبر حملوں اور دیگر خطرات سے محفوظ بنانے کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اگست کے اواخر میں امریکا کے تقریباً ایک درجن فوجی اسٹورز میں پیش آنے والی رکاوٹوں سے بھی مشابہت رکھتا ہے، جہاں فریج متاثر ہونے کے باعث خوراک ضائع ہوگئی تھی۔

نیدرلینڈز اور امریکا میں بھی سیکیورٹی مسائل

دوسری جانب نیدرلینڈز کی بڑی سپر مارکیٹ چین البرٹ ہائن کی مالک کمپنی اہولڈ ڈیلازیز نے اپنے نیٹ ورک میں سیکیورٹی مسئلے کی تصدیق کی ہے۔ کمپنی نے احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنے کئی سسٹمز عارضی طور پر بند کردیے۔

کمپنی کی موبائل ایپ پر صارفین کو بتایا گیا کہ سائبر سیکیورٹی واقعے کے باعث گروسری کی ڈیلیوری ممکن نہیں۔ تاہم البرٹ ہائن کے فزیکل اسٹورز کھلے رہے۔

نیدرلینڈز کی خبر رساں ایجنسی اے این پی کے مطابق اس دوران حریف سپر مارکیٹوں کو ڈیلیوری آرڈرز میں اضافے کا سامنا کرنا پڑا۔ البرٹ ہائن کی انتظامیہ نے واضح کیا کہ فی الحال اس کے نیٹ ورک میں پیش آنے والے واقعے اور فرانس میں سپر مارکیٹوں پر ہونے والے حملوں کے درمیان کسی تعلق کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

اہولڈ ڈیلازیز امریکا میں بھی بڑے پیمانے پر کاروبار کرتی ہے، جہاں اس کے اسٹاپ اینڈ شاپ، جائنٹ، ہنافورڈ اور فوڈ لائن نامی سپر مارکیٹ برانڈز کی ویب سائٹس پر عارضی طور پر سروس دستیاب نہ ہونے کے پیغامات دکھائی دیے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کمپنی کے دیگر کاروباری شعبے بھی اس مسئلے سے متاثر ہوئے یا نہیں۔

فرانس میں ریفریجریشن سسٹمز کو نشانہ بنانے والے سائبر حملے اور نیدرلینڈز میں رپورٹ ہونے والے سیکیورٹی مسئلے کے درمیان تعلق تاحال ثابت نہیں ہوا۔ حکام کی تحقیقات سے یہ معلوم ہونے کی توقع ہے کہ ان واقعات کے پیچھے کون تھا، حملے کس طرح کیے گئے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

انوکھی ڈکیتی، نقد رقم نہ ملنے پر ڈاکوؤں نے لاکھوں کا کپڑا لوٹ لیا

شہر قائد میں اولڈ سٹی ایریا میں تاجر لٹیروں کے نشانے پر آگئے کھارادر میمن مسجد

Read More

TECHNOLOGY

انسٹاگرام صارفین جعلی کاپی رائٹ شکایات کے نئے فراڈ کا شکار

انسٹاگرام پر مواد تخلیق کرنے والے افراد ایک نئے فراڈ کا شکار ہورہے ہیں، جس

Read More

واٹس ایپ کا نیا فیچر، بغیر اکاؤنٹ صارفین بھی کال میں شامل ہوسکیں گے

واٹس ایپ جلد ایسا نیا فیچر متعارف کراسکتا ہے جس کے ذریعے ایسے افراد بھی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.