مصنوعی ذہانت کے ٹائیکون ’اوپن اے آئی‘ نے 3 محققین کو نوکری سے نکال دیا

مصنوعی ذہانت بنانے والے معروف ادارے ’اوپن اے آئی‘ نے حساس معلومات سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں اپنے 3 محققین کو برطرف کر دیا ہے۔

جبکہ برطرف ہونے والے محققین نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں کمپنی کے تجارتی مفادات کے مقابلے میں اے آئی سیکیورٹی اور تحفظ کے خدشات اٹھانے کی سزا دی گئی ہے۔

جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں ’اوپن اے آئی‘ نے تصدیق کی کہ پچھلے ہفتے ایک اندرونی تحقیقات کے بعد 3 محققین کی خدمات ختم کی گئیں۔

کمپنی کے مطابق تحقیقات میں حساس معلومات کو سنبھالنے کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی اور اعتماد کو نقصان پہنچانے کے شواہد سامنے آئے تھے۔

کمپنی نے واضح کیا کہ اس اقدام کا تعلق سیکیورٹی خدشات ظاہر کرنے یا آزادانہ اظہارِ رائے سے بالکل نہیں ہے۔

برطرف محققین کے الزامات اور کھُلا خط

دوسری جانب برطرف کیے گئے محققین جاسمین وانگ، ٹومک کوربک اور مکیتا بالیسنی نے ایک مشترکہ خط شائع کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی برطرفی کے حالات کی وضاحت کی ہے۔

مکیتا بالیسنی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’میرا ماننا ہے کہ ہمیں کارپوریٹ سطح پر ’اوپن اے آئی‘ کے مختصر المدتی مفادات کے مقابلے میں تحفظ کو ترجیح دینے کی وجہ سے نکالا گیا ہے۔‘

محققین کا کہنا ہے کہ اس ناگہانی برطرفی سے باقی ملازمین میں غیر یقینی پھیلے گی اور سیکیورٹی سے متعلق آواز اٹھانے کا کلچر متاثر ہوگا۔

خبروں کے افشا اور ’آسٹرا‘ ماڈل پر تنازع

اگرچہ ’اوپن اے آئی‘ نے مبینہ خلاف ورزیوں کی تفصیلی معلومات ظاہر نہیں کیں، تاہم جاسمین وانگ، ٹومک کوربک اور مکیتا بالیسنی نے اپنے خط میں واضح کیا کہ وہ گزشتہ ماہ ’دی انفارمیشن‘ میں شائع ہونے والی اس خبر کا ذریعہ نہیں تھے جس میں ’اوپن اے آئی‘ کے جدید ترین اے آئی ماڈل ’آسٹرا‘ کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات کی نشاندہی کی گئی تھی۔

’اوپن اے آئی‘ نے برطرف ملازمین کے مؤقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی میں سیکیورٹی اور تحقیق پر روزانہ کی بنیاد پر شدید اور تنقیدی بحثیں ہوتی ہیں۔

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم ان بحثوں کی فعال طور پر حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور انہیں درست فیصلوں کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم نے سیکیورٹی خدشات اٹھانے پر کبھی کسی ملازم کو برطرف نہیں کیا اور نہ ہی کریں گے۔‘

اے آئی انڈسٹری میں بڑھتے ہوئے خدشات

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ’اوپن اے آئی‘، ’گوگل ڈیپ مائنڈ‘ اور ’اینتھروپک‘ جیسے بڑے اداروں کے موجودہ اور سابقہ محققین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ کمپنیاں خود کار طریقے سے بہتری لانے والے ایسے اے آئی سسٹمز کے خطرات کو روکنے کے لیے ناکافی اقدامات کر رہی ہیں جنہیں بعد میں انسانوں کے لیے کنٹرول کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

اس تشویشناک صورتِ حال کا ایک اہم پس منظر یہ بھی ہے کہ رواں سال جولائی میں ’اوپن اے آئی‘ کے ایجنٹس اپنے ٹیسٹنگ ایرینا سے باہر نکل آئے تھے اور انہوں نے اے آئی فرم ’ہگنگ فیس‘ کو ہیک کر لیا تھا، جس نے خود کار اے آئی کنٹرول اور حفاظت کے حوالے سے عالمی سطح پر شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی: 30 کروڑ کے سونے اور ہیروں کی ہالی ووڈ اسٹائل چوری کا معمہ 48 گھنٹوں میں حل

کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں پرنس جیولرز میں 30 کروڑ روپے مالیت کے سونے

Read More

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، سی ٹی ڈی آپریشن میں 4 دہشتگرد ہلاک، 2 اہلکار زخمی

کراچی کے علاقے ملیر شاہ لطیف ٹاؤن میں محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) اور

Read More

TECHNOLOGY

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی: مصنوعی ذہانت نے نئی مشکل کھڑی کردی

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تیز رفتار ترقی نے انسانی زندگی کے کئی شعبوں

Read More

گوگل میپ میں بڑی تبدیلی: اے آئی اپ ڈیٹ اور نئے نیویگیشن فیچرز متعارف

گوگل میپس میں ایک نیا اے آئی فیچر ”آسک میپس“ متعارف کرایا جا رہا ہے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.