کیا درجہ حرارت بھی ہماری نیند گہری اور پرسکون بنانے میں کوئی کردار ادا کرتا ہے؟ حیران کن انکشاف

ہم میں سے اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دن اور رات کا چکر اور روشنی ہماری نیند کے اوقات طے کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن نئی تحقیق نے اس تصور کو ایک دلچسپ سوال سے دوچار کردیا ہے کہ کیا درجہ حرارت بھی اتنا ہی اہم ہوسکتا ہے جتنی روشنی؟

ماہرین کے مطابق درجہ حرارت نہ صرف اس بات پر اثرانداز ہوسکتا ہے کہ ہم کتنی گہری نیند سوتے ہیں اور جاگنے کے بعد خود کو کتنا تازہ دم محسوس کرتے ہیں بلکہ ممکنہ طور پر یہ ہماری جسمانی گھڑی یعنی ’سرکیڈین ردھم‘ کو بھی ترتیب دینے میں کردار ادا کرتا ہے۔

ماہر بشریات گاندھی یتش کو آج بھی امریکا کی ریاست نیو جرسی میں بچپن کے وہ سرد موسم یاد ہیں جب وہ سونے سے پہلے کھڑکی کھول دیا کرتے تھے تاکہ باہر کی ٹھنڈی ہوا کمرے میں داخل ہوکر ان کے چہرے کو ٹھنڈا کردے۔ ان کے مطابق اس کے بعد انہیں جلد نیند آنے لگتی تھی، اگرچہ وہ یہ بھی سوچتے تھے کہ ان کی والدہ بجلی اور ہیٹنگ کے بڑھتے ہوئے بل کے بارے میں کیا کہیں گی۔

اس وقت یتش کو لگتا تھا کہ ٹھنڈے کمرے میں سونا محض ان کی ذاتی پسند ہے، لیکن بعد میں مختلف معاشروں میں لوگوں کی نیند پر تحقیق کے دوران انہیں احساس ہوا کہ اس عادت کے پیچھے شاید ایک سائنسی وجہ بھی ہوسکتی ہے۔

سورج کی روشنی ہی سب کچھ نہیں

یتش نے بولیویا کے ایمیزون کے علاقے میں مقیم مقامی گروہ ’تسمانے‘ کے لوگوں کی نیند کا مطالعہ کیا۔ انہیں معلوم تھا کہ سائنسی دنیا میں طویل عرصے سے روشنی کو نیند کے لیے سب سے اہم ماحولیاتی اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

تاہم تسمانے افراد بجلی اور مصنوعی روشنی کے بغیر زندگی گزارتے ہوئے بھی عام طور پر سورج غروب ہونے کے کئی گھنٹے بعد سوتے اور سورج طلوع ہونے سے پہلے جاگ جاتے تھے حالانکہ ان کا زیادہ تر وقت کھلے ماحول میں گزرتا تھا۔

بعدازاں یتش اور امریکا کی مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے ساتھی محققین نے تنزانیہ کے شمالی علاقے میں آباد ’ہڈزا‘ اور جنوبی افریقہ کے ’سان‘ نامی دو دیگر مقامی گروہوں کی نیند کا جائزہ لیا۔

محققین نے پایا کہ ان گروہوں کے سونے اور جاگنے کے اوقات بھی صرف روشنی اور اندھیرے کے چکر کے مطابق نہیں تھے۔ اس کے بجائے ایسا محسوس ہوا کہ ان کے نیند کے اوقات ماحول کے درجۂ حرارت میں اضافے اور کمی کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتے ہیں۔

یتش کے مطابق ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ سورج کا طلوع اور غروب اس لیے اہم ہیں کیونکہ اس وقت روشنی تبدیل ہوتی ہے لیکن درجۂ حرارت بھی تو سورج ہی سے متاثر ہوتا ہے۔

سونے سے پہلے جسم ٹھنڈا ہونے لگتا ہے

کئی دہائیوں سے ہونے والی تحقیق سے معلوم ہے کہ نیند کی تیاری کے دوران ہمارے جسم کا اندرونی درجۂ حرارت کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ زیادہ تر لوگوں میں رات کے بڑے حصے کے دوران یہ کمی جاری رہتی ہے اور دن کے بلند ترین درجۂ حرارت کے مقابلے میں رات کے وقت جسم کا درجۂ حرارت تقریباً ایک ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہوسکتا ہے۔

برلن کے انٹر ڈسپلنری سینٹر آف سلیپ میڈیسن سے وابستہ ماہرِ نیند سیباسٹین ہربرگر کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اگر سونے کا کمرہ بہت زیادہ گرم ہو تو لوگوں کی نیند مختصر اور زیادہ بے آرام ہوسکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جس شخص نے کبھی بہت گرم ہوٹل کے کمرے میں سونے کی کوشش کی ہو وہ اس کیفیت کو بخوبی سمجھ سکتا ہے۔

کمرے کے درجہ حرارت میں تبدیلی سے نیند بہتر؟

سنہ2007  میں ایک تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے یہ جاننے کے لیے سونے والے کمرے کا درجۂ حرارت تبدیل کیا کہ اس سے نیند پر کیا اثر پڑتا ہے۔

ایک تجربے میں شرکا کے کمرے کا درجۂ حرارت شام 6 بجے سے رات 10 بجے تک بتدریج 27 ڈگری سے کم کرکے 24 ڈگری سینٹی گریڈ کردیا گیا۔ اس کے بعد صبح 3 بجے سے 7 بجے کے درمیان درجۂ حرارت دوبارہ بڑھا کر 27 ڈگری کیا گیا اور دن کے وقت اسے اسی سطح پر برقرار رکھا گیا۔

اس عمل کا مقصد رات کے دوران ماحول کے درجۂ حرارت میں ہونے والی قدرتی کمی اور صبح کے وقت اضافے کی نقل کرنا تھا۔

دوسرے تجربے میں شرکا کو پورے وقت 27 ڈگری سینٹی گریڈ کے مستقل درجہ حرارت والے کمرے میں سلایا گیا۔

نتائج میں سامنے آیا کہ جن افراد نے درجہ حرارت میں قدرتی انداز کی کمی بیشی والے ماحول میں نیند کی، ان کے جسم میں رات کے دوران میلاٹونن کی سطح زیادہ رہی۔ میلاٹونن ایک ہارمون ہے جو جسم قدرتی طور پر بناتا ہے اور سونے کے وقت کے قریب اس کی مقدار بڑھنے لگتی ہے۔ یہ جسم کو آرام اور نیند کے لیے تیار ہونے کا اشارہ دیتا ہے۔

ایسے افراد نے صبح بیدار ہونے کے بعد خود کو زیادہ تازہ دم بھی محسوس کیا۔

محققین کا خیال تھا کہ ممکنہ طور پر انسانی جسم قدرتی طور پر شام اور صبح کے وقت درجۂ حرارت میں ہونے والی تبدیلیوں کے زیرِ اثر زیادہ گہری نیند کے لیے ارتقا پذیر ہوا ہے۔

تاہم ماہرین اب بھی اس بات کا حتمی جواب نہیں دے سکے کہ نیند آنے کے لیے درجۂ حرارت میں کتنی کمی ضروری ہے اور یہ تبدیلی ہماری اندرونی جسمانی گھڑی پر کس حد تک اثرانداز ہوتی ہے۔

کیا درجہ حرارت ہماری اندرونی گھڑی بھی ترتیب دیتا ہے؟

یہ سوال اس بحث کو مزید دلچسپ بناتا ہے کہ اگر درجۂ حرارت نیند پر اثرانداز ہوتا ہے تو کیا یہ ہماری ’سرکیڈین گھڑی‘ یعنی جسم کی اندرونی گھڑی کو بھی ترتیب دینے میں مدد دیتا ہے؟

سرکیڈین ردھم 24 گھنٹے کے دوران جسم میں ہونے والی ذہنی، جسمانی اور رویوں سے متعلق تبدیلیوں کا چکر ہے۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ ہمیں کب نیند آتی ہے، کب ہم بیدار اور چوکنے ہوتے ہیں اور کب کھانے کی خواہش محسوس ہوتی ہے۔

روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس اندرونی گھڑی کو ترتیب دینے میں روشنی کا کردار سب سے اہم ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ سرکیڈین نیورو سائنس پروفیسر رسل فوسٹر کے مطابق نیند سے پہلے جسم کے درجۂ حرارت میں کمی دراصل ہماری اندرونی گھڑی کی وجہ سے ہوتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ممکن ہے درجۂ حرارت صرف اندرونی گھڑی کے زیرِ اثر نہ ہو بلکہ خود بھی اسے ترتیب دینے میں ایک اضافی اشارے کے طور پر کام کرتا ہو۔

وہ کہتے ہیں کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ درجہ حرارت نیند کے نظام کو سگنل کے طور پر کس طرح متاثر کرتا ہے۔

جانوروں میں دلچسپ تجربات

جانوروں پر کیے گئے تجربات سے بھی اس خیال کو کچھ تقویت ملتی ہے۔

تحقیق میں یہ سامنے آیا ہے کہ پھلوں کی مکھیوں سے لے کر اونٹوں تک مختلف جانداروں کے سرکیڈین ردھم کو صرف درجۂ حرارت میں کمی بیشی کے ذریعے بھی متاثر کیا جاسکتا ہے۔

سائنس دان انسانی خلیوں کی اندرونی گھڑی کو بھی جسم کے درجہ حرارت میں ہونے والی تبدیلیوں کی نقل کرکے ترتیب دینے میں کامیاب رہے ہیں۔

تاہم جانوروں اور خلیوں پر ہونے والے تجربات کے نتائج کو براہِ راست انسانوں پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو گرم ماحول میں نیند آنے میں دشواری ہوتی ہے تو ضروری نہیں کہ اس کی وجہ جسم کی اندرونی گھڑی ہو۔ ممکن ہے کہ جسم کو آرام کرنے کے لیے نسبتاً ٹھنڈا ماحول ہی زیادہ موزوں لگتا ہو۔

اس کے باوجود کچھ چھوٹی تحقیقات اس امکان کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

سنہ1974  میں ہونے والی ایک تحقیق میں شرکا نے اپنے سونے کے دوران کمرے کا درجۂ حرارت جاگنے کے وقت کے مقابلے میں تقریباً 6 ڈگری سینٹی گریڈ کم رکھا۔ اس تبدیلی سے ان کے نیند اور بیداری کے چکر میں تقریباً 23 منٹ کا اضافہ ہوا۔

محققین نے اس وقت نوٹ کیا تھا کہ انسانی اندرونی گھڑی کو متاثر کرنے کے حوالے سے درجۂ حرارت کا اثر روشنی سے بہت ملتا جلتا ہوسکتا ہے۔

اسی طرح سنہ 2007 کی تحقیق میں دیکھا گیا کہ ماحول کے درجۂ حرارت کو پہلے کم اور پھر بڑھانے سے شرکا کے جسم کے اندرونی درجہ حرارت میں بھی تبدیلی آئی۔

جسم کے درجہ حرارت کے سب سے کم سطح پر پہنچنے کا وقت اس بات کا ایک اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان اپنی سرکیڈین گھڑی کے کس مرحلے میں ہے۔

درجہ حرارت میں کمی بیشی والے ماحول میں سونے والے افراد کے جسم کا درجۂ حرارت رات کے دوران تقریباً ایک گھنٹہ پہلے اپنی کم ترین سطح پر پہنچا جب کہ مستقل درجہ حرارت والے کمرے میں یہ تبدیلی نسبتاً دیر سے ہوئی۔

اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ سونے کے کمرے کا درجہ حرارت ہماری اندرونی جسمانی گھڑی کو ترتیب دینے میں کچھ کردار ادا کرسکتا ہے۔

تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے

یونیورسٹی آف باسل کے ماہرِ حیاتیاتی اوقات کرسچن کاخوخن کے مطابق درجہ حرارت ممکنہ طور پر ہمارے سرکیڈین ردھم کو متاثر کرسکتا ہے، لیکن اس موضوع پر ابھی بہت کم تجربات کیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق فی الحال درجۂ حرارت کو جسمانی گھڑی ترتیب دینے کے معاملے میں ’نئی روشنی‘ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

ہماری نیند کو درجۂ حرارت کیسے متاثر کرتا ہے؟

نیند ایک پیچیدہ جسمانی عمل ہے اور اس کے وقت کا تعین صرف ایک نظام نہیں کرتا۔

اس میں دو بنیادی نظام اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پہلا ’سلیپ ہومیو اسٹیٹ‘ ہے، جس کے مطابق انسان جتنی دیر جاگتا رہتا ہے، اس میں نیند کی خواہش اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔

دوسرا نظام سرکیڈین ردھم ہے، جو جسم کی مختلف اندرونی گھڑیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ طے کرنے میں مدد دیتا ہے کہ ہمیں کب نیند آئے گی اور کب ہم زیادہ چوکنے ہوں گے۔

اس کے علاوہ ایک تیسرا نظام بھی موجود ہے جسے ’اراؤزل پروموٹنگ سسٹم‘ کہا جاتا ہے۔ مناسب حالات میں یہ نظام نیند کے دیگر دونوں نظاموں پر غالب آسکتا ہے اور انسان کو جگائے رکھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر رات 3 بجے بھی فائر الارم بج اٹھے تو انسان گہری نیند کے باوجود فوراً بستر سے باہر نکل آتا ہے۔

ان تمام نظاموں کے باہم جڑے ہونے کی وجہ سے یہ کہنا آسان نہیں کہ مقامی گروہوں کے نیند کے اوقات میں درجہ حرارت کا کردار کتنا اہم تھا۔

کیا جدید گھروں کا مستقل درجۂ حرارت ہماری نیند خراب کر رہا ہے؟

نیورو سائنس دان اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کے مرکز برائے تحقیقِ نیند کے ڈائریکٹر جیروم سیگل، جنہوں نے مقامی گروہوں پر ہونے والی تحقیق کی قیادت کی، سمجھتے ہیں کہ درجہ حرارت ممکنہ طور پر روشنی سے بھی زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔

ان کے خیال میں اس کے جدید انسانی صحت پر وسیع اثرات ہوسکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ جدید گھروں میں دن اور رات تقریباً ایک ہی درجہ حرارت برقرار رکھنے کا رجحان نیند سے متعلق مسائل میں اضافے کی ایک وجہ ہوسکتا ہے۔

صنعتی معاشروں میں بے خوابی کی شرح بھی ان معاشروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جہاں لوگ قدرتی ماحول کے زیادہ قریب زندگی گزارتے ہیں۔

جب محققین نے تسمانے اور سان قبائل میں بے خوابی کی شرح کا جائزہ لیا تو انہیں معلوم ہوا کہ دونوں گروہوں میں اس کیفیت کے لیے کوئی مخصوص لفظ تک موجود نہیں تھا۔

سیگل کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ ہم اب ایسے ماحول میں نہیں رہتے جس کے لیے ہمارا جسم ارتقا کے دوران ڈھلا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کو بہتر بنانے کے لیے درجۂ حرارت کو کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے، اس بارے میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

تاہم فی الحال اگر کسی کو نیند آنے میں مشکل ہوتی ہے تو رات کے وقت کمرے کو نسبتاً ٹھنڈا رکھنا یا کچھ دیر کے لیے کھڑکی کھولنا ایک سادہ تجربہ ہوسکتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

سندھ حکومت کا سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کرانے کا اعلان

سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرانے کا اعلان

Read More

سانحہ گل پلازہ؛ گورنر کا جوڈیشل کمیشن کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس

Read More

TECHNOLOGY

بھارت کی اے آئی سمٹ مذاق بن گئی؛ بل گیٹس سمیت کئی نامور شخصیات کا شرکت سے انکار

بھارت میں جاری پانچ روزہ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ اس وقت شدید تنقید کی

Read More

ملک بھر کی جامعات میں اے آئی کورس لازمی قرار

اعلی تعلیمی کمیشن آف پاکستان (ایچ ای سی) نے ملک بھر کی تمام سرکاری و

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.