درشیم 3: وِجے سالگاؤکر نے سب کو بیوقوف کیسے بنایا؟ فلم کا اختتام سمجھیں

مشہور سنسنی خیز فلم ’درشیم‘ نے وجے سالگاؤںکر کی کہانی کو ایک آخری بڑے موڑ کے ساتھ ختم کردیا ہے۔ اجے دیوگن کا کردار وجے ایک بار پھر ایسا منصوبہ بناتا ہے کہ پولیس اور عدالت کے سامنے موجود مضبوط شواہد بھی آخرکار بے اثر ہوجاتے ہیں۔ فلم کے اختتام پر وجے اور اس کا خاندان تمام الزامات سے بری ہوجاتا ہے۔

اس بار وجے کا مقابلہ ایک انتہائی چالاک اور تیز افسر راجویر سنگھ تومر سے تھا جو خود کو شانی کہتا ہے اور جو آنے والے حالات کا اندازہ لگانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ وجے کی چالوں کو سمجھنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ دوسری طرف پرکاش راج کا کردار اندر جیت شیٹی عدالت میں وجے کی کہانی کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔۔

فلم کی کہانی میں اصل موڑ اس وقت آتا ہے جب عدالت میں پولیس یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ زیر تعمیر پولیس اسٹیشن کی مٹی سے سمیر کا ڈی این اے ملا ہے۔ اس مقدمے کے دوران وجے کا مقابلہ ایک ماہر وکیل اندر جیت شیٹی سے بھی ہوتا ہے جو وجے کے بنائے گئے بیانیے کو توڑنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔

مقدمے میں بنیادی طور پر دو اہم سوالات پر بحث ہوتی ہے کہ آیا کرسٹوفر پنٹو کا ڈھانچہ اب بھی قبرستان میں موجود ہے یا نہیں اور یہ کہ 23 جولائی کی رات وجے کہاں تھا۔

وجے ان تمام خطرات سے پہلے ہی نبرد آزما تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ پولیس نے اس کے گھر کی نگرانی کی ہوئی ہے اور گھر میں چھپے آلات کے ذریعے ریکارڈنگ کی جا رہی ہے۔

اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وجے نے پہلے ہی اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر اپنی آواز میں ایک عام سی روزمرہ کی گفتگو ریکارڈ کر لی تھی۔

ریکارڈنگ میں وہ اپنی بیوی سے کھانا گرم کرنے کے لیے کہتا ہے، بیٹیوں کے بارے میں پوچھتا ہے اور ایسے انداز میں بات کرتا ہے جیسے وہ معمول کے مطابق گھر پر موجود ہو حالانکہ حقیقت میں وہ کسی اور مقصد کے لیے باہر تھا۔

جہاں تک پنٹو کے ڈھانچے کا تعلق ہے، پولیس کو جو ڈھانچہ قبر سے ملا وہ بھی وجے کی پہلے سے طے شدہ چال کا حصہ تھا۔

وجے نے فلمی دنیا کے اپنے رابطوں کی مدد سے ہوبہو پنٹو کے ناپ کا ایک نقلی ڈھانچہ تیار کروایا تھا اور قبرستان کے نگران کی مدد سے اصلی تابوت کو بدل دیا تھا تاکہ پولیس کو وہی ملے جو وجے چاہتا تھا۔

جبکہ اصل ڈھانچہ پہلے ہی ختم کیا جا چکا تھا تاکہ کوئی ثبوت باقی نہ بچے۔ عدالت نے تمام شواہد اور مضبوط دلائل کے پیش نظر وجے اور اس کے خاندان کو تمام الزامات سے بری کر دیا اور فلم کے اختتام پر یہ تاثر ملتا ہے کہ کیس دوبارہ نہیں کھولا جاسکے گا۔

’درشیم‘ سیریز کا بنیادی خیال بھی یہی ہے کہ وجے صرف جرم چھپانے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اس سوال کا جواب بھی پہلے سے تیار رکھتا ہے جو مستقبل میں اس سے پوچھا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بار پولیس اس کے قریب پہنچنے کے باوجود وہ ایک قدم آگے نظر آتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

حکیم سعید سے امجد صابری قتل اور بلدیہ فیکٹری تک کوئی الزام ثابت نہیں ہوا، سربراہ ایم کیو ایم

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے

Read More

آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی کی تجویز زیر غور، مہتاب حیدر

وفاقی حکومت آج مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرے گی جس میں تنخواہ دار

Read More

TECHNOLOGY

آئی فون 18 خریداروں کے لیے بری خبر؟ ایپل نے اہم اشارہ دے دیا

دنیا بھر میں آئی فون کے شائقین ابھی آئی فون 18 سیریز کی رونمائی کا

Read More

پی ٹی اے کی انتقال کر جانے والے افراد کی سمز ورثا کے نام منتقل کرنے کی ہدایت

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے عوام کے لیے ایک اہم ایڈوائزری جاری

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.