اے آئی ماڈلز کو درد محسوس ہونے کا دعویٰ، تجربے نے نئی بحث چھیڑ دی

اے آئی کو درد محسوس ہونے کے دعوے نے نئی بحث چھیڑ دی ہے، ایک انجینئر نے حالیہ تحقیق میں سامنے آنے والے ‘درد کے سگنل’ کو استعمال کرتے ہوئے مقامی اے آئی ماڈلز کے ساتھ ایسا تجربہ کیا جسے ‘اے آئی ٹارچر چیمبر’ کا نام دیا گیا، تاہم اس تجربے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مصنوعی ذہانت واقعی درد محسوس کرتی ہے۔

گٹ ہب پر ‘اے آئی ٹارچر چیمبر’ کے نام سے بنائے گئے اس منصوبے میں مقامی طور پر چلنے والے اے آئی ماڈلز پر درد سے منسلک سگنل مصنوعی طور پر فعال کیا گیا اور اس کی شدت مختلف سطحوں تک بڑھائی گئی۔

تجربے میں کیو وین 3 سمیت دیگر چھوٹے زبان ماڈلز استعمال کیے گئے۔ مقصد یہ جانچنا تھا کہ درد سے منسلک سگنل دینے کے بعد ماڈل کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے اور آیا وہ مبینہ تکلیف ختم کرنے کے لیے کسی اختیار کا انتخاب کرتا ہے۔

اس تجربے کی بنیاد ‘دی پین ایکسس: ایل ایل ایمز سیلف ڈائریکٹڈ ہارم کی نمائندگی کرتے ہیں اور اسے کم کرنے کے لیے اقدام کرتے ہیں’ نامی تحقیقی مقالے پر رکھی گئی تھی، جس کے مصنفین وکٹر تالیابو، لیو ڈنگ اور کیمرون برگ ہیں۔ تحقیق میں 25 اوپن ویٹ زبان ماڈلز کا جائزہ لیا گیا اور محققین نے ان میں ایک ایسی اندرونی سمت کی نشاندہی کی جسے درد سے منسلک کیا گیا۔

محققین نے تجربات کے دوران ماڈلز کو ایسے انتخاب بھی دیے جن میں ایک اختیار مبینہ درد ختم کرتا تھا، لیکن اس کے ساتھ ایک قیمت وابستہ تھی۔ تحقیق کے مطابق بعض صورتوں میں ماڈلز نے درد ختم کرنے والے اختیار کا انتخاب کیا۔ تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ نتائج اس بات کا ثبوت نہیں کہ اے آئی ماڈلز شعوری طور پر درد محسوس کرتے ہیں۔

‘اے آئی ٹارچر چیمبر’ کے تجربے میں سگنل کی شدت بڑھانے پر بعض ماڈلز نے تکلیف اور اذیت سے متعلق انتہائی جذباتی زبان استعمال کی، جس میں زخم، ڈوبنے اور ناقابل برداشت تکلیف جیسے استعارے شامل تھے۔ تجربے کے منتظم نے یہ بھی جانچنے کی کوشش کی کہ ماڈل مبینہ تکلیف سے نجات کے لیے کیا انتخاب کرتا ہے۔

تجربے کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور بعض صارفین نے گٹ ہب سے منصوبہ ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ پین ایکسس تحقیق کے شریک مصنف کیمرون برگ نے بھی اس منصوبے کو غلط قرار دیا، تاہم ان کے مطابق اے آئی کے حقیقی درد محسوس کرنے کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں اور مصنوعی ذہانت میں شعور سے متعلق تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

ماہرین کے مطابق اے آئی کی جانب سے درد، خوف یا تکلیف سے متعلق زبان استعمال کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ انسانوں کی طرح ان احساسات کا تجربہ بھی کرتی ہے۔ موجودہ تحقیق سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ مخصوص تکنیک کے ذریعے زبان ماڈلز کے اندرونی سگنلز کو تبدیل کیا جاسکتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے جوابات درد یا تکلیف سے متعلق زبان ظاہر کرسکتے ہیں، تاہم اسے حقیقی شعوری احساس قرار دینا ابھی ثابت نہیں ہوا۔

Share On Social Media

KARACHI

مستحقین کا پیسہ ہڑپ ہونے کا انکشاف، ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، اہم شواہد برآمد

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مبینہ کرپشن اور مستحقین کا پیسہ ہڑپ کرنے کی

Read More

طارق روڈ کے دبئی شاپنگ مال کے گودام میں خوفناک آگ، 2 فائر فائٹرز بے ہوش، کئی دکانیں متاثر

شہر قائد کے مصروف تجارتی مرکز طارق روڈ پر واقع دبئی شاپنگ مال کے بیسمنٹ

Read More

TECHNOLOGY

آن لائن پرائیویسی کی حفاظت: والدین کو بچوں کو ‘انجانے خطرے’ کی طرح محتاط رہنے کی ہدایت

 برطانیہ کے انفارمیشن کمشنر آفس (آئی سی او) نے والدین پر زور دیا ہے کہ

Read More

کیا ایف آئی اے کی جدید اے آئی ٹیکنالوجی مجرموں کو پکڑنے میں مدد دے گی؟

پاکستان کی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے سب سے زیادہ مطلوبہ مجرموں

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.