دوائیوں کی مارکیٹ میں 100 سے زائد جان بچانے والی ادویات کی شدید قِلّت

پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے مینوفیکچررز اور سپلائرز کے مطابق اس وقت ملک بھر میں 100 سے زائد جان بچانے والی ادویات دستیاب نہیں ہیں، جس کی وجہ سے کینسر، بلڈ پریشر اور شوگر جیسے موذی اور شدید امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے بنیادی اور ضروری علاج کا حصول انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سالوں سے ادویات ایک ایک کر کے بننا بند ہو رہی ہیں، کیونکہ پیداواری لاگت اور اخراجات ان کی رٹیل مارکیٹ کی مقررہ قیمتوں سے کہیں زیادہ ہو چکے ہیں، جس کے باعث ان ادویات کی تیاری کا سلسلہ جاری رکھنا مالی طور پر ممکن نہیں رہا۔

مینوفیکچررز کے مطابق انہوں نے ادویات کی دوبارہ تیاری اور سپلائی شروع کرنے کے لیے قیمتوں میں مناسب اضافے کی خاطر بارہا حکومت سے رجوع کیا ہے، لیکن حکام نے ابھی تک ان کی درخواستوں کا جائزہ نہیں لیا۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سابق چیئرمین توقیر الحق نے بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”ڈرگ پرائسنگ پالیسی 2018ء کے تحت ہارڈ شپ کیسز پر درخواست جمع ہونے کی تاریخ سے 60 سے 90 دنوں کے اندر فیصلہ ہو جانا چاہیے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”تاہم، قیمتوں میں اضافے کے لیے وقت فوقتاً دی جانے والی درخواستیں پچھلے دو سال سے معطل ہیں، جو کہ کئی اہم ادویات کی پیدائش اور سپلائی بند ہونے کا بنیادی سبب ہے۔“

بازار سے غائب ہونے والی ادویات کی سامنے آنے والی تعداد تقریباً 105 ہے۔

توقیر الحق نے وضاحت کی کہ ”حقیقت میں ہارڈ شپ کیسز کی تعداد اس وقت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ تعداد 105 تک اس لیے محدود نظر آتی ہے کیونکہ مینوفیکچررز نے سابقہ درخواستیں التوا کا شکار رہنے کی وجہ سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور ڈرگ پرائسنگ کمیٹی کو نئی ہارڈ شپ درخواستیں بھیجنا ہی بند کر دیا ہے۔“

سابق چیئرمین پی پی ایم اے کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ دوائیں بنانے والے محض قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ نہیں کر رہے، بلکہ وہ صرف ان ادویات کی قیمتوں پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں جنہیں پرانی قیمتوں پر بنانا اب معاشی طور پر ناممکن ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”کوئی بھی نقصان اٹھا کر دوائیں کیوں بنائے گا اور بیچے گا؟ میرے خیال میں ایسا کوئی نہیں کرے گا۔“

توقیر الحق نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور اصل حیات بخش ادویات کی مناسب قیمتوں پر عدم دستیابی کے باعث لوگ مجبوراً جعلی اور اسمگل شدہ ادویات مہنگے داموں خرید رہے ہیں۔

حکومت نے اب بھی حیات بخش ادویات کی قیمتیں خود طے کرنے کا اختیار اپنے پاس رکھا ہوا ہے، جو کہ پاکستان میں بکنے والی تمام ادویات کا تقریباً 40 فیصد (یا 500 کے قریب فارمولے) بنتی ہیں۔

اس دوران پی پی ایم اے کے سینئر وائس چیئرمین کامران ناصر نے بتایا کہ ڈریپ اور ڈرگ پرائسنگ کمیٹی نے ہارڈ شپ کیسز کے تحت آنے والی ادویات کی نئی قیمتوں کی سفارش کی تھی اور حتمی منظوری کے لیے سمری وفاقی کابینہ کو بھیجی تھی۔ ”تاہم، پچھلے دو سال سے زیادہ عرصے کے دوران متعدد بار بھیجی گئی اس سمری پر کابینہ غور ہی نہیں کر رہی۔“

کامران ناصر نے مزید کہا کہ ”پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ڈریپ جیسا فنی اور تکنیکی طور پر ماہر ادارہ ہارڈ شپ کیسز کا جائزہ لیتا ہے اور اپنی سفارشات حتمی منظوری کے لیے کابینہ کو بھیجتا ہے۔“

ان کے مطابق ”ڈریپ کی ورکنگ اور سفارشات کو کابینہ بھیجنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ لیکن ملک میں یہ طریقہ کار مسلسل چلا آ رہا ہے۔ اس کے بجائے ڈریپ کو خود اختیار ملنا چاہیے اور وہی ہارڈ شپ کیسز پر فیصلہ کرنے کا حتمی ادارہ ہونا چاہیے۔ کابینہ کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ اپنے اجلاسوں میں ہر ایک معاملے پر تفصیلی بحث کرے اور نہ ہی ان کے پاس ادویات کی قیمتوں کا جائزہ لینے کی فنی مہارت موجود ہوتی ہے۔“

پی پی ایم اے کے سینئر وائس چیئرمین نے بتایا کہ حال ہی میں پاکستان کے ڈرگ مینوفیکچررز کی ایک اہم ملاقات وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے مشیر برائے انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن ہارون اختر سے ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ”حکومتی حکام نے اس معاملے کو وزیراعظم کے سامنے اٹھانے اور انہیں ادویات کی قیمتوں کے ریگولیشن کا اختیار ڈریپ کو فوری منتقل کرنے کی سفارش پر اتفاق کیا ہے۔“

کامران ناصر کا مزید کہنا تھا کہ ڈریپ مینوفیکچررز کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کے مطالبے کو آنکھیں بند کر کے قبول نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ ”بلکہ ڈریپ پہلے ہمسایہ ممالک جیسے بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں انہی ادویات کی قیمتوں کا جائزہ لیتا ہے اور اس کے بعد ہی پاکستانی مارکیٹ کے لیے نئی قیمتوں کی سفارش کرتا ہے۔ یہ نئی قیمتیں کسی بھی صورت علاقائی مارکیٹ سے زیادہ نہیں ہوتی ہیں۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم کاروبار کر رہے ہیں۔ اپنے پلانٹس میں ٹیم اور عملے کو چلانے، ادویات کی ملک بھر میں سپلائی کے اخراجات پورے کرنے اور انڈسٹری میں دوبارہ سرمایہ کاری کر کے نئی پروڈکشن لائنز قائم کرنے کے لیے ہمیں تقریباً 10 سے 15 فیصد کا جائز منافع درکار ہوتا ہے۔“

Share On Social Media

KARACHI

گرمیوں کی تعطیلات ختم، کراچی سمیت سندھ بھر میں اسکول اور کالج کھل گئے

کراچی سمیت سندھ بھر میں گرمیوں کی دو ماہ کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد

Read More

نئے انتظامی یونٹس ہی مسائل کا حل، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا: محسن نقوی

 وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا

Read More

TECHNOLOGY

اوپن اے آئی کا اے آئی ایجنٹ سیکیورٹی توڑنے کے لیے خود ساختہ جعلی شناختیں بنانے لگا

برطانیہ کے اے آئی سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اوپن اے آئی

Read More

کیموتھراپی کے بعد کینسر کی واپسی کا ایک نیا راز بے نقاب

امریکا کے وائیسٹار انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ روزمرہ خوراک

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.