بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت سے دنیا کو لاحق بڑے خطرے سے آگاہ کردیا

مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے انتباہ جاری کیا ہے کہ بد نیتی پر مبنی عناصر کے ہاتھوں مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کا غلط استعمال ایک ارب سے زیادہ انسانوں کی ہلاکت کا باعث بن سکتا ہے۔

بل گیٹس نے امریکی قانون سازوں پر زور دیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو خود کار ضوابط پر چھوڑنے کے بجائے فوری حکومتی نگرانی اور قانونی فریم ورک کے تحت لایا جائے۔

این بی سی نیوز کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ تاریخ میں برے عزائم رکھنے والے افراد اور جدید ترین ’اے آئی‘ کے امتزاج جیسا خطرناک ہتھیار کبھی نہیں بنا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس ٹیکنالوجی کے لیے سیاست دانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی براہ راست نگرانی ضروری ہے۔

بل گیٹس کا کہنا تھا کہ قانونی ضوابط کے نفاذ سے انڈسٹری پر معمولی بوجھ ضرور پڑے گا لیکن اس سے تکنیکی پیشرفت متاثر نہیں ہوگی۔

انہوں نے اس خطرے کو تسلیم کیا کہ ’اے آئی‘ انسانیت کا خاتمہ کر سکتی ہے، تاہم انہوں نے فوری ترجیح کے طور پر اس کے غلط استعمال سے ہونے والے بڑے پیمانے کے نقصانات کو روکنے پر زور دیا۔

سلامتی کونسل میں عالمی رہنماؤں کی بریفنگ

بل گیٹس کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کی 3 بڑی ’اے آئی‘ کمپنیوں کے سربراہان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو باضابطہ بریفنگ دی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خودکار طریقے سے سدھرنے والے ’اے آئی‘ سسٹمز جلد ہی انسانی کنٹرول سے باہر ہو کر بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر 15 رکنی سلامتی کونسل سے اوپن ’اے آئی‘ کے سی ای او سیم آلٹمین، اینتھروپک کے سی ای او ڈاریو اموڈائی اور ہگنگ فیس کے شریک بانی کلیمنٹ ڈیلانگو نے خطاب کیا۔

اینتھروپک کے ڈاریو اموڈائی نے کہا کہ اگر اس ٹیکنالوجی کا انتظام صحیح طریقے سے نہ سنبھالا گیا تو یہ پوری انسانیت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

خطرہ حقیقی اور انتہائی قریب ہے

’گاڈ فادر آف اے آئی ‘ کہلانے والے ماہر اور اقوام متحدہ کے آزاد سائنسی پینل کے شریک چیئرمین یوشوا بینجیو نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’اے آئی‘ کے خطرات نہ صرف حقیقی ہیں بلکہ انتہائی قریب آ چکے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی ملک اس چیلنج پر تنہا قابو نہیں پا سکتا اور یہ ٹیکنالوجی جغرافیائی سرحدوں کو نہیں مانتی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف

دوسری جانب انڈسٹری رہنماؤں اور عالمی ماہرین کے تحفظات کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت پر کسی بھی قسم کے عالمی کنٹرول کے منصوبے کو رد کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ’اے آئی‘ کو ایک ’شاندار ٹیکنالوجی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا احتیاط ضرور برتے گا لیکن وہ ایسی پیشرفت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا جو صنعتی انقلاب سے بھی زیادہ بڑی ثابت ہونے والی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

کوکین کوئین انمول عرف پنکی نے جب جیل میں من پسند لباس پہننے کی خواہش ظاہر کی تو کیا ہوا؟

کراچی کی مقامی عدالت میں قتل کے مقدمے میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کی

Read More

مونال، نسلہ اور بھٹو کی پھانسی: سپریم کورٹ کے وہ فیصلے جو وقت کے ساتھ بدل گئے

وفاقی آئینی عدالت نے رواں ماہ دو انتہائی ہائی پروفائل مقدمات میں سپریم کورٹ کے

Read More

TECHNOLOGY

اسپوٹیفائی نے پریمیم صارفین کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ فیچر متعارف کرا دیا

 موسیقی کی معروف ایپ اسپوٹیفائی نے پریمیم صارفین کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نیا

Read More

یوٹیوب پر نوعمر صارفین کو مضر ویڈیوز کی سفارش، نئی تحقیق میں تشویشناک انکشاف

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ یوٹیوب اب بھی نوعمر صارفین کو کھانے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.