چین کے خلائی اسٹیشن پر تعیناتی: دو پاکستانی پائلٹس کی تربیت آخری مراحل میں داخل

پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون کی نئی تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے، کیونکہ چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر جانے والے پہلے غیر ملکی خلا باز کے طور پر کسی ایک پاکستانی کے انتخاب کا وقت قریب آ گیا ہے۔

پاکستانی پائلٹس ذیشان علی اور خرم داؤد بیجنگ کے چائنا ایسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں کئی ماہ سے چینی زبان سیکھنے سمیت سخت اور جامع تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

یہ خلائی مشن دونوں ممالک کے درمیان 2019 میں طے پانے والے تعاون کا حصہ ہے۔

پاکستان کے خلائی ادارے سُپارکو میں انسان بردار خلائی تعاون کے سربراہ عامر گیلانی کے مطابق حتمی خلا باز کے نام کا فیصلہ اکتوبر کے وسط یا آخر تک متوقع ہے۔

پاکستان کے لیے یہ تاریخ میں پہلا موقع ہوگا کہ اس کا کوئی شہری خلا میں پرواز کرے گا۔

منتخب ہونے والا پائلٹ پاکستان واپس آئے بغیر براہِ راست چین سے خلائی مشن پر روانہ ہو گا اور زمین پر واپسی کے بعد صحت یابی کے عمل سے گزر کر وطن لوٹے گا۔

سپارکو کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر عزیر انصاری نے بتایا کہ ابتدائی طور پر پائلٹوں اور سائنس دانوں کے بڑے پول میں سے 42 فائنلسٹس منتخب کیے گئے، جن کا طبی معائنہ اور نفسیاتی ٹیسٹ لیا گیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سائنس دانوں میں تیز رفتار پرواز اور شدید جسمانی دباؤ برادشت کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، اسی لیے فائٹر پائلٹس کا انتخاب کیا گیا۔سپارکو کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر عزیر انصاری

خلا میں جانے والا پاکستانی خلا باز پے لوڈ اسپیشلسٹ کی ذمہ داریاں سنبھالے گا، جس کا بنیادی کام خلائی جہاز چلانے کے بجائے پاکستان کے سائنسی تجربات کو سرانجام دینا ہو گا۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی یونیورسٹیوں کی جانب سے بھیجی گئی 300 سے زائد تجاویز میں سے چینی اداروں نے چار بائیو ٹیکنالوجی تجربات کا انتخاب کیا ہے، جو غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دیں گے۔

عزیر انصاری نے کہا کہ یہ ہمارے سائنس دانوں کے لیے زندگی میں ایک بار ملنے والا انتہائی نایاب موقع ہے، جہاں پاکستانی ٹیکنالوجی کو عالمی پلیٹ فارم پر جانچا جا رہا ہے۔چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن کے اندر کا منظر اور خلا بازوں کی سرگرمیاں

اگرچہ پاکستان کا اپنا کوئی خلائی جہاز یا راکٹ نہیں ہے اور یہ مشن مکمل طور پر چینی ٹیکنالوجی، زبان اور رہنمائی پر منحصر ہے، تا ہم یہ شراکت داری انتہائی وسیع ہے۔

چین اور پاکستان کا یہ تعاون خلائی اسٹیشن تک ہی محدود نہیں بلکہ 2028 کے قریب چین کے چانگ ای ایٹ قمری مشن پر ایک پاکستانی روبوٹک روور بھی چاند پر بھیجا جائے گا۔

چاند کی سطح پر بھیجا جانے والا یہ روور خودکار نظام اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے راستے کی رکاوٹیں تلاش کرے گا اور اپنے راستے کا تعاقب کرے گا۔

Share On Social Media

KARACHI

نادرا نے کراچی کی اہم برانچ میں خدمات عارضی طور پر معطل کر دیں

نادرا (نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی) نے کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں اپنی

Read More

سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل کمیشن کی سماعت کے دوران چونکا دینے والا انکشاف

سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے بننے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں انکشاف ہوا

Read More

TECHNOLOGY

انسانوں کی ضرورت ختم، کلاڈ اے آئی خود فیصلے کرنے لگا

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس نے مشینوں

Read More

مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب، چین کی سیمی کنڈکٹر صنعت میں غیر معمولی تیزی

مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی طلب نے چین کی سیمی کنڈکٹر صنعت

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.