مودی سرکار کی 600 سال قدیم ‘اُجین’ مسجد ڈھانے کی کوشش: بھارت کے مسلمان ڈھال بن گئے

بھارت کے شہر اُجین میں سڑک کشادگی کے منصوبے کے تحت تاریخی شاہی مسجد کے ایک حصے کو مسمار کرنے کا عمل مقامی مسلمانوں کے رات بھر احتجاج کے بعد عارضی طور پر روک دیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اُجین میونسپل کارپوریشن 2028 میں ہونے والے سنگھستھ میلے سے قبل سڑک کو 15 میٹر تک چوڑا کرنا چاہتی ہے، جس کی زد میں شاہی مسجد کے کچھ حصے بھی آ رہے ہیں۔

مجوزہ کارروائی کے تحت مسجد کے نماز ہال کا ایک حصہ، 120 فٹ بلند مینار اور مظہر چوک شاہی کا کچھ حصہ ہٹایا جانا ہے۔ مسجد کے امام محمد ابراہیم کے مطابق شاہی مسجد وقف کی جائیداد ہے اور یہ تقریباً 636 سال پرانی ہے، جس کی تعمیر 1390 میں ہوئی تھی۔

مسجد کے باہر مقامی مسلم کمیونٹی کے افراد رات بھر موجود رہے اور مجوزہ مسماری کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ سڑک کو چوڑا کرنے کے لیے مسجد کے بجائے سڑک کے دوسری جانب موجود عمارت کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

امام محمد ابراہیم اور مسلم ریپریزنٹیٹو کمیٹی کے محمد ذاکر نے کہا کہ سڑک کشادگی کے منصوبے سے مذہبی مقامات کو خارج کیا جانا چاہیے۔ امام محمد ابراہیم کا کہنا تھا کہ کمیونٹی نے ترقیاتی کاموں کے لیے شریعت کے مطابق اپنی تجارتی دکانیں پہلے بھی حوالے کی ہیں، تاہم مسجد کو چھوڑنا ممکن نہیں۔

صورتِ حال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کی کئی کمپنیاں مسجد کے قریب تعینات کی گئیں۔ پولیس نے مسجد کمیٹی کے ارکان سے تعاون کرنے اور معاملہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی۔

اُجین کے سپرنٹنڈنٹ پولیس پردیپ شرما نے بتایا کہ انتظامیہ نے فی الحال مسجد کے حصوں کو مسمار کرنے کا عمل روک دیا ہے۔ ان کے مطابق پولیس مسجد کمیٹی کو قانونی صورتِ حال سے آگاہ کر رہی ہے اور بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس میں کمیٹی کو اپنی رضامندی سے متاثرہ حصے ہٹانے پر آمادہ کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔

عدالتی معاملے کی بات کی جائے تو 9 ستمبر کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے جسٹس سندیپ این بھٹ نے اُجین میونسپل کارپوریشن کی جانب سے جاری مسماری کے نوٹس کے خلاف دائر دو درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔

عدالت نے قرار دیا تھا کہ میونسپل کارپوریشن نے قانونی طریقہ کار پر عمل کیا اور متاثرہ فریقین کو اعتراضات پیش کرنے کا موقع بھی دیا گیا۔ عدالت نے یہ مؤقف بھی مسترد کیا کہ کارروائی من مانی تھی۔

عدالت کے مطابق اسی سڑک پر 10 مندروں اور ایک مسجد کے کچھ حصے پہلے ہی ہٹائے جا چکے ہیں، جبکہ اُجین میں تقریباً 80 مذہبی مقامات کے خلاف بھی کارروائی کی جا چکی ہے۔

عدالت نے سڑک کی کشادگی کے منصوبے کو عوامی مفاد میں قرار دیا۔ شاہی مسجد مہاکالیشور مندر کے سامنے اور دریائے کشیپرا کے قریب واقع ہے۔ یہ منصوبہ اُجین ڈویلپمنٹ پلان 2035 کا حصہ ہے، جس کا مقصد شہر میں ٹریفک اور عوامی تحفظ کے انتظامات بہتر بنانا ہے۔

2028 میں ہونے والے سنگھستھ میلے کے دوران لاکھوں عقیدت مندوں کی اُجین آمد متوقع ہے، جبکہ شاہی سواری اور پیشوائی جیسے مذہبی اجتماعات کے دوران بھی شہر میں بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی ہوتی ہے۔

مسجد انتظامیہ نے ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ سے بھی رجوع کرلیا ہے اور اس معاملے کی سماعت پیر 28 ستمبر کو مقرر ہے۔ مسلم کمیونٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں عدالت سے ریلیف نہ ملا تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر غور کریں گے۔

اس معاملے پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بھی احتجاج کی حمایت کی اور اسے پُرامن اور ’’گاندھیائی‘‘ احتجاج قرار دیا۔

اویسی نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی قانون سے متعلق اپنے تحفظات سے بھی جوڑا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مجوزہ قانون سرکاری حکام کو مساجد، درگاہوں اور قبرستانوں سمیت مسلمانوں کی مذہبی املاک پر قبضے کے لیے اختیارات دے گا۔ یہ اویسی کا سیاسی مؤقف ہے، جبکہ وقف قانون میں مجوزہ تبدیلیوں اور ان کے اثرات پر سیاسی اور قانونی سطح پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

عوام کے لیے اچھی خبر: حکومت نے ایل پی جی کی قیمت میں بڑی کمی کردی

حکومت نے نئے مالی سال کے آغاز پر لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی

Read More

TECHNOLOGY

سستے اسمارٹ گلاسز مارکیٹ میں لانے کی تیاریاں، کیا اب اسمارٹ فونز کا دور ختم ہونے والا ہے؟

میٹا پلیٹ فارمز اور ایسِلس لکسوٹیکا نے اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس سستے اسمارٹ شیشوں

Read More

پاکستان آئی ٹی اور اے آئی ایکسپورٹ مزید کتنی بڑھ سکتی ہیں اور کیسے؟

پاکستان کی آئی ٹی اور سافٹ ویئر انڈسٹری ملکی معیشت کے ان چند شعبوں میں

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.