یونیورسٹی کے نئے طالب علم نیند پوری کیسے کریں؟ ماہرین کے اہم مشورے

یونیورسٹی کا آغاز ہوتے ہی نئے طالب علموں کی زندگی میں پڑھائی کے ساتھ دوستیاں، تقریبات، مختلف سوسائٹیز اور رات گئے تک جاری رہنے والی سرگرمیاں بھی شامل ہوجاتی ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مصروف زندگی میں اچھی نیند کو نظر انداز کرنا پڑھائی، یادداشت اور ذہنی و جسمانی صحت پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

نیند سیکھنے اور معلومات کو ذہن میں محفوظ کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے تاہم یونیورسٹی کے ابتدائی دنوں میں رات گئے تک جاگنا، شور شرابے والے ہاسٹل یا فلیٹ میں رہنا اور نئے بستر سے مانوس ہونے میں وقت لگنا نیند کے معمول کو متاثر کرسکتا ہے۔

طالب علموں کی نیند بہتر بنانے کے لیے ماہرین نے صبح کی روشنی سے لے کر شام کی چہل قدمی، صاف بستر اور سونے سے پہلے موبائل فون سے دور رہنے تک متعدد آسان مشورے دیے ہیں۔

صبح کی روشنی نیند کے لیے کیوں اہم ہے؟

ماہر نفسیات اور طلبہ کی نیند و ذہنی صحت کی ماہر جو بیکر کے مطابق صبح کے وقت قدرتی روشنی حاصل کرنا جسم کے قدرتی نظام کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر طالب علم صبح تقریباً 11 بجے سے پہلے باہر نکل سکے تو آنکھوں کے پیچھے دماغ کا ایک حصہ روشنی کے لیے حساس ہوتا ہے اور دن کے آغاز میں ملنے والی قدرتی روشنی جسم کو بہتر انداز میں متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

جو بیکر کے مطابق رات کی نیند کا آغاز دراصل صبح جاگنے کے وقت سے ہوتا ہے، اس لیے صبح کا معمول بہتر رکھنا بھی اچھی نیند کے لیے اہم ہے۔

زبردستی جلدی سونے کی کوشش نہ کریں

یونیورسٹی کے طالب علم اکثر نیند کی کمی پوری کرنے کے لیے خود کو معمول سے بہت پہلے بستر پر جانے پر مجبور کرتے ہیں، تاہم ماہر کے مطابق اگر انسان بستر پر لیٹا ہو اور نیند نہ آرہی ہو تو یہ طریقہ الٹا اثر کرسکتا ہے۔

جو بیکر کے مطابق اگر دماغ یہ سیکھ لے کہ بستر ایسی جگہ ہے جہاں لیٹ کر نیند نہ آنے کی وجہ سے پریشان ہونا ہے تو مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق سب سے اہم چیز روزانہ ایک ہی وقت کے قریب جاگنے کی عادت بنانا ہے۔

زیادہ کافی اور مشروبات بھی مسئلہ بن سکتے ہیں

نیند پوری نہ ہونے کی صورت میں طالب علموں کو بار بار کافی یا دیگر کیفین والے مشروبات پینے کا دل کرتا ہے، لیکن کیفین جسم میں کافی دیر تک موجود رہتی ہے اور دن بھر نیند کے فطری دباؤ کو متاثر کرسکتی ہے۔

اس لیے ضرورت سے زیادہ کافی پینا نہ صرف جیب پر بوجھ ڈال سکتا ہے بلکہ نیند کے معمول میں خرابی بھی پیدا کرسکتا ہے۔

شراب بھی بعض طلبہ کے لیے نئے لوگوں سے ملنے جلنے کے دوران اعتماد بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے لیکن ماہرین کے مطابق یہ اچھی نیند کے لیے مددگار نہیں۔

جو بیکر کا کہنا ہے کہ زیادہ مقدار میں شراب پینے کے بعد انسان بظاہر سو جاتا ہے، لیکن یہ کیفیت قدرتی نیند کے بجائے بے ہوشی جیسی ہوتی ہے۔

شراب گہری نیند کو متاثر کرتی ہے، جو جسم کی بحالی کے لیے اہم ہوتی ہے اور اس کی جگہ ہلکی نیند زیادہ ہوجاتی ہے۔

مانچیسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں طلبہ کی صحت اور فلاح و بہبود کی خدمات کی نائب سربراہ ایما ینگ کے مطابق نئے طلبہ کی تقریبات میں شراب کے بغیر تفریح کے بھی کئی مواقع موجود ہوتے ہیں، جن میں مصوری کے ساتھ مشروب نوشی، یوگا، دستکاری اور دیگر فلاحی سرگرمیاں شامل ہیں۔

سونے سے پہلے ذہن کو پرسکون کریں

سونے سے پہلے خود کو ذہنی طور پر دن بھر کی مصروفیات سے الگ کرنا بھی اچھی نیند کے لیے اہم ہے۔

یونیورسٹی آف سیلفورڈ میں رقص کی تعلیم حاصل کرنے والی20  سالہ طالبہ اینا مے ڈکسن بتاتی ہیں کہ سونے سے پہلے گرم پانی سے نہانا انہیں سکون دیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق گرم غسل یا شاور کے بعد جسم کا اندرونی درجہ حرارت کم ہونے لگتا ہے، جو نیند کی تیاری میں مدد دے سکتا ہے۔

تاہم اینا مے ڈکسن کا کہنا ہے کہ انہیں نیند لانے کے لیے اپنے آئی پیڈ پر بار بار دیکھی ہوئی سیریز کے اقساط دیکھنے پڑتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ طریقہ ان کے ذہن کی مصروفیت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اگرچہ وہ تسلیم کرتی ہیں کہ سونے سے پہلے اسکرین استعمال کرنا ماہرین کے عمومی مشوروں کے خلاف ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کے بجائے ڈائری لکھنا، کتاب پڑھنا، ہلکی موسیقی سننا یا پوڈکاسٹ سننا ذہن کو بتدریج پرسکون کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

قدرتی ہارمون میلاٹونن رات کے قریب بڑھتا ہے اور جسم کو نیند کے لیے تیار کرتا ہے، لیکن سوشل میڈیا کی مختصر ویڈیوز یا فلمیں دیکھنے سے آنکھیں اور دماغ متحرک رہ سکتے ہیں، جس سے نیند آنے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

اچھی نیند کے لیے ماہر کے چند آسان مشورے

جو بیکر نے طالب علموں کو سونے سے متعلق چند عملی مشورے دیے جو مندرجہ ذیل ہیں۔

سونے سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ پہلے اسکرین کا استعمال بند کردیں۔

سونے سے فوراً پہلے بھاری کھانا کھانے سے گریز کریں۔

بستر کی چادریں باقاعدگی سے دھوئیں تاکہ بستر صاف ستھرا اور آرام دہ ہو، لیپ ٹاپ، کتابوں اور میز پر ایک کپڑا ڈال دیں تاکہ دماغ کو یہ احساس ہو کہ دن کا کام ختم ہوچکا ہے۔

شام کے وقت خصوصاً سورج غروب ہونے کے آس پاس چہل قدمی کریں کیونکہ بدلتی ہوئی روشنی دماغ کو وقت کے بارے میں قدرتی اشارہ دیتی ہے۔

بستر کو صرف سونے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کریں نہ کہ کھانے، کام کرنے یا ویڈیوز دیکھنے کے لیے۔

صبح بستر سمیٹنے کی عادت بھی مددگار ہوسکتی ہے کیونکہ اس سے دماغ کو یہ اشارہ ملتا ہے کہ نیند کا وقت ختم ہوگیا ہے۔

بیماری کی صورت میں پہلے سے تیاری رکھیں

یونیورسٹی کے ابتدائی دنوں میں بیمار پڑ جانا بھی نیند اور روزمرہ معمول کو متاثر کرسکتا ہے۔

نئے طالب علموں میں عام نزلہ، زکام اور دیگر بیماریوں کے امکانات کم کرنے کے لیے ہاتھ باقاعدگی سے دھونا یا جراثیم کش محلول استعمال کرنا مددگار ہوسکتا ہے۔ اس سے بخار، گلے کی خرابی اور ناک بند ہونے جیسی علامات کا خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم گردن توڑ بخار کہیں زیادہ خطرناک بیماری ہے اور اس میں فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی بعض علامات عام نزلہ، زکام یا یونیورسٹی میں پھیلنے والی بیماریوں جیسی ہوسکتی ہیں لیکن بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں یہ تیزی سے سنگین شکل اختیار کرسکتا ہے اور دوروں، دماغی نقصان اور خون میں شدید انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔

برطانیہ میں نئے طالب علموں کے لیے مین بی ویکسین بھی دستیاب ہے جس کا مقصد گردن توڑ بخار سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

یونیورسٹی جانے سے پہلے طبی سہولیات کی معلومات حاصل کریں

ماہرین کے مطابق گھر سے دور رہنے والے نئے طالب علموں کو پہلے ہی یہ معلوم کرلینا چاہیے کہ بیماری کی صورت میں انہیں طبی مدد کہاں سے مل سکتی ہے۔

ایک مفید فہرست میں یہ امور شامل ہوسکتے ہیں جیسے کہ قریبی دواخانے، ہنگامی طبی مرکز کا پتا معلوم کرنا اور یونیورسٹی میں دستیاب ذہنی صحت اور فلاح و بہبود کی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کرنا۔ علاوہ ازیں طلبہ کی ذہنی صحت سے متعلق اداروں، جیسے اسٹوڈنٹ مائنڈز، کی ویب سائٹس پر بھی مفید مشورے اور معلومات دستیاب ہوتی ہیں اور کئی جامعات طلبہ کے لیے ساتھی طلبہ کی مدد کے پروگرام اور 24 گھنٹے دستیاب ہیلپ لائنز بھی فراہم کرتی ہیں۔

ایما ینگ کے مطابق اگر کوئی طالب علم خود کو معمول کے مطابق محسوس نہ کرے تو گھر والوں یا کسی قریبی دوست سے باقاعدگی سے فون پر بات کرنا بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

طویل سفر بھی نیند کی کمی کی وجہ بن سکتا ہے

اینا مے ڈکسن کی مثال ظاہر کرتی ہے کہ بعض طالب علموں کے لیے یونیورسٹی تک آنے جانے کا طویل سفر بھی نیند کی کمی کا سبب بن سکتا ہے۔

وہ کمبریا کے شہر کینڈل سے یونیورسٹی آف سیلفورڈ میں رقص کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے روزانہ سفر کرتی ہیں۔ ان کا آنے جانے کا مجموعی سفر تقریباً 4 گھنٹے کا ہے اور انہیں عموماً رات میں صرف 5 گھنٹے کی نیند ملتی ہے کیونکہ ان کا الارم صبح 5 بجے بج جاتا ہے۔

وہ سفر کے دوران جاگنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن بعض اوقات انہیں اونگھ آجاتی ہے۔

اینا مے کا کہنا ہے کہ وہ اپنی نیند کا دورانیہ بھی نوٹ کرتی ہیں اور جب انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ نیند بہت کم مل رہی ہے تو وہ پریشان ہوجاتی ہیں جس کے نتیجے میں بعض اوقات انہیں مزید نیند نہیں آتی۔

ان کے مطابق ہفتے کے اختتام تک تھکن زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے اور معمول کی چیزیں بھی زیادہ مشکل محسوس ہوسکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یونیورسٹی کی مصروف زندگی میں نیند کو عیش و آرام کے بجائے تعلیم، یادداشت، جسمانی صحت اور ذہنی سکون کے لیے بنیادی ضرورت سمجھنا چاہیے۔ رات بھر جاگنے اور صبح دیر تک سونے کے بجائے مستقل معمول، صبح کی روشنی، مناسب سرگرمی اور سونے سے پہلے پرسکون ماحول بہتر نیند کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

ایم کیو ایم پاکستان نے کارکنان کو بلدیاتی انتخابات کی تیاری تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی

خالد مقبول صدیقی کی زیر صدارت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی مرکزی کمیٹی کا اہم

Read More

TECHNOLOGY

پینٹاگون کی اے آئی جنگی نظاموں میں بڑھتی دلچسپی کی وجہ کیا ہے؟

جدید جنگی ٹیکنالوجی میں تیزی سے تبدیلی کے ساتھ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) مصنوعی ذہانت

Read More

مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز جدید جنگ کا نیا محاذ بن گئے

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے جدید جنگی حکمت عملی میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.