کراچی میں جاری غیر علانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کے بحران پر سندھ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں کے الیکٹرک کے سی ای او کی عدم شرکت پر ارکان نے سخت احتجاج کیا، جبکہ کمپنی کے دو نمائندہ افسران کو بھی اجلاس سے باہر نکال دیا گیا۔ کمیٹی ارکان نے سی ای او کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کردیا۔
سندھ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس کراچی میں بجلی کی صورتحال اور شہریوں کو درپیش مشکلات کا جائزہ لینے کے لیے منعقد ہوا، جس میں شہر میں جاری طویل اور غیر علانیہ لوڈشیڈنگ پر ارکان نے کے الیکٹرک کی انتظامیہ سے سخت سوالات کیے۔
اجلاس کے دوران کے الیکٹرک کے دو افسران کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی نمائندگی کے لیے شریک ہوئے، تاہم کمیٹی ارکان کے مطابق دونوں افسران کے پاس کسی فیصلے کا اختیار تھا اور نہ ہی وہ ارکان کے سوالات کے حتمی جوابات دینے کی مجاز تھے۔
اس صورتحال پر ارکان شدید برہم ہوگئے اور دونوں افسران کو اجلاس سے باہر جانے کی ہدایت کردی۔ کمیٹی ارکان کا کہنا تھا کہ اختیار نہ رکھنے والے افسران کو اجلاس میں بھیجنے کے باعث ان کے قیمتی تین گھنٹے ضائع ہوئے۔
ارکان نے کے الیکٹرک کے سی ای او کی اجلاس میں عدم شرکت پر بھی سخت اعتراض کیا اور ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سمیت سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
کمیٹی ارکان نے کہا کہ کراچی میں شہری گھنٹوں جاری رہنے والی غیر علانیہ لوڈشیڈنگ سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کی انتظامیہ قانون سازوں کی کمیٹی کے سامنے جوابدہی کے لیے پیش نہیں ہورہی۔
اجلاس کے بعد سندھ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے اعلان کیا کہ کے الیکٹرک کے رویے کے خلاف کمیٹی کا آئندہ اجلاس کمپنی کے مرکزی دفتر کے باہر منعقد کیا جائے گا۔
کمیٹی ارکان نے واضح کیا کہ شہر میں بجلی کے بحران اور غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کے معاملے پر کے الیکٹرک انتظامیہ سے جواب طلب کیا جائے گا۔



































