2026 کے اختتام سے قبل دنیا کی تباہی اور انسانیت کے خاتمے کی پیش گوئی

ایک سائنسی تحقیق کی بنیاد پر شائع ہونے والا یہ دعویٰ ایک بار پھر زیرِ بحث آ گیا ہے کہ 1960 میں کی گئی ایک پیشگوئی کے مطابق دنیا 2026 میں ختم ہو سکتی ہے۔

اس کے مطابق دنیا 13 نومبر 2026 کو کسی بڑے تباہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔ تاہم اس پیشگوئی کو موجودہ سائنسی اتفاقِ رائے یا دنیا کے خاتمے کی ثابت شدہ پیشگوئی سمجھنا درست نہیں، کیونکہ تحقیق میں پیش کیے گئے مفروضے اور آج کے سائنسی آبادی کے تخمینے ایک جیسے نہیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق الینوائے یونیورسٹی سے وابستہ تین محققین ہائنز فون فورسٹر، پیٹریشیا ایم مورا اور لارنس ڈبلیو امیوٹ نے کی تھی، جو 1960 میں معروف سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہوئی۔ محققین نے اس وقت مغربی معاشرے میں آبادی میں تیزی سے اضافے کے رجحان کا جائزہ لیتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اگر آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو وسائل اور انسانی آبادی کے درمیان شدید عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔

اُس تحقیق میں 13 نومبر 2026 کی تاریخ کو ایک انتہائی خطرناک نقطے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اس وقت دنیا کی آبادی تقریباً تین ارب افراد تھی، جبکہ آج عالمی آبادی تقریباً 8.3 ارب تک پہنچ چکی ہے۔ اسی وجہ سے پرانی تحقیق میں دی گئی تاریخ سوشل میڈیا اور مختلف میڈیا رپورٹس میں دوبارہ توجہ حاصل کر رہی ہے۔

تاہم اس پیشگوئی کا مطلب یہ نہیں کہ سائنس دانوں نے یقینی طور پر یہ کہا تھا کہ 13 نومبر کو زمین پھٹ جائے گی، انسان اچانک ختم ہو جائیں گے یا کوئی مخصوص قدرتی آفت دنیا کو تباہ کر دے گی۔ تحقیق کا بنیادی تعلق آبادی میں تیز رفتار اضافے، وسائل پر دباؤ اور انسانی معاشرے کے ممکنہ بحران سے تھا۔ اس لیے اسے لفظی طور پر ’’قیامت کی تاریخ‘‘ قرار دینا اس تحقیق کے اصل مفروضے کی درست ترجمانی نہیں ہوگی۔

اس معاملے کو مزید دلچسپ بنانے والی بات ہائنز فون فورسٹر کی مصنوعی ذہانت سے متعلق پرانی گفتگو ہے۔ 1995 میں مصنوعی ذہانت کے موضوع پر ویب سائٹ ’’دی انفارمیشن فلاسفر‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فون فورسٹر نے اس ٹیکنالوجی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے خبردار کیا تھا کہ یہ سمجھنا خطرناک ہو سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کی طرح سوچتی ہے۔ ان کے مطابق کسی مشین کا بظاہر ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیچیدہ کام انجام دینا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ انسانی ذہانت کی طرح سوچنے یا سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کو انسانی ذہانت کے برابر سمجھنے کے مفروضے کو خطرناک قرار دیا تھا۔

فون فورسٹر کا انتقال 2002 میں ہوا، یعنی موجودہ اے آئی کے بڑے پیمانے پر عام ہونے سے کئی برس پہلے۔ آج چیٹ بوٹس، خودکار نظام اور دیگر اے آئی کی ٹیکنالوجیز روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں، جس کے باعث ان کی پرانی گفتگو کو دوبارہ توجہ مل رہی ہے، لیکن کسی پرانی پیشگوئی کے کچھ پہلو موجودہ حالات سے ملتے جلتے نظر آنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے دنیا کے خاتمے سے متعلق دوسری پیشگوئی بھی درست ثابت ہو جاتی ہے۔

ہاں لیکن اے آئی کا انسانی کنٹرول سے باہر نکلنا، سسٹمز کو ہیک کرنا اور اپنی حدود سے باہر نکلنا تشویشناک ضرور ہے۔ ماہرین کے بیانات بھی اہمیت رکھتے ہیں جو انسانیت کے لیے اے آئی کو خطرہ قرار دے رہے ہیں انسان کو سوچنے پر مضبور ضرور کرتے ہیں۔ مستقبل میں اگر اے آئی کو کنٹرول نہیں کیا گیا تو معاملہ آگے ضرور جاسکتا ہے۔

موجودہ آبادی کے بارے میں اقوام متحدہ کے سرکاری تخمینے بھی اس پرانی پیشگوئی سے ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ موجودہ اندازوں کے مطابق عالمی آبادی میں اضافہ جاری رہنے کی توقع ہے اور یہ 2080 کی دہائی کے وسط میں تقریباً 10.3 ارب کی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتی ہے، جس کے بعد اس میں بتدریج کمی شروع ہونے کا امکان ہے۔

اس طرح 2026 کے اختتام سے پہلے دنیا کے خاتمے کی بات بنیادی طور پر 1960 کی ایک پرانی تحقیق کے مخصوص مفروضوں سے جڑی ہوئی ہے، نہ کہ موجودہ سائنسی اداروں کی جانب سے جاری کردہ کسی تصدیق شدہ انتباہ سے۔ آبادی میں اضافہ، خوراک، پانی، توانائی اور دیگر وسائل پر دباؤ حقیقی عالمی مسائل ہیں، لیکن ان مسائل کی موجودگی کو چند ہفتوں میں انسانیت کے مکمل خاتمے کی پیشگوئی کے برابر قرار دینا سائنسی طور پر محتاط مؤقف نہیں ہوگا۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

اسمارٹ چشمے اور خواتین کی پرائیویسی: پاکستان میں ایک نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ نیا خطرہ؟

پاکستان میں خواتین کے لیے عوامی مقامات پر آزادانہ نقل و حرکت پہلے ہی مختلف

Read More

کیا انسانوں کی نوکریاں ہمیشہ کے لیے ختم ہونے والی ہیں؟ بل گیٹس نے AI کے خطرے سے خبردار کردیا

مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے بڑھتے اثرات

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.