بزمِ خاور انٹرنیشنل کے زیر اہتمام سوشل میڈیا کے نوجوان نسل پر منفی اثرات پر فکرانگیز نشست کا انعقاد


تحریر : امجد اقبال امجد

بزمِ خاور انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام “سوشل میڈیا کے نوجوان نسل پر منفی اثرات” کے موضوع پر ایک شاندار، فکر انگیز اور بامقصد سیمینار منعقد ہوا، جس میں ادب، تعلیم، میڈیا اور سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
سیمینار کی صدارت بزمِ خاور انٹرنیشنل کے چیئرمین خاور سلیم آذر نے کی، جبکہ صدر اشرف خان نے لیڈر شپ رول ادا کیا-ڈائریکٹر جنرل پیمپرا محترمہ عائشہ منظور وٹو تقریب کی مہمانِ خصوصی تھیں۔ ڈاکٹر نور الزماں رفیق نے بھی سیمینار میں شرکت کی۔


تقریب کی نظامت معروف استاد، ادیب اور دانشور پروفیسر ڈاکٹر مدیحہ بتول نے نہایت خوبصورتی اور سلیقے سے انجام دی۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا اور بعد ازاں ڈاکٹر مدیحہ بتول نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ بھی پیش کی۔ معروف شاعر امجد اقبال امجد کی شرکت نے محفل کے ادبی حسن اور وقار میں مزید اضافہ کیا۔
سیمینار کی مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر جنرل پیمپرا عائشہ منظور وٹو نے “سوشل میڈیا کے نوجوان نسل پر منفی اثرات” کے موضوع پر نہایت جامع، مدلل اور فکر انگیز خطاب کیا۔
انہوں نے نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت، اخلاقی اقدار، ذہنی نشوونما اور سماجی رویوں پر سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ ان کی گفتگو میں مسئلے کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اس کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
عائشہ منظور وٹو نے اس امر کی طرف خصوصی توجہ دلائی کہ سوشل میڈیا موجودہ دور کی ایک اہم حقیقت ہے، اس لیے نوجوانوں کو محض اس سے دور کرنے کے بجائے انہیں اس کے ذمہ دارانہ اور مثبت استعمال کی تربیت دینا زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ثابت ہو سکتی ہے۔
سیمینار کے سوال و جواب کے مرحلے میں عائشہ منظور وٹو سے سوشل میڈیا اور نوجوان نسل کے حوالے سے نہایت اہم اور فکر انگیز سوالات کیے گئے۔
ان سے پوچھا گیا کہ سوشل میڈیا نوجوانوں کی تعلیم و تربیت پر منفی اثرات ڈال رہا ہے، تو کیا موجودہ قوانین اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں؟
جعلی خبروں اور افواہوں کے تیزی سے پھیلاؤ، یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز کے کردار، سائبر بُلنگ، نفرت انگیز گفتگو، کردار کشی اور انفلوئنسرز کے بڑھتے ہوئے اثرات سمیت آزادیٔ اظہار اور ذمہ دارانہ اظہار کے درمیان توازن پر بھی سوالات کیے گئے۔
عائشہ منظور وٹو نے تمام سوالات کے پُراعتماد، مدلل، متوازن اور دانش مندانہ جوابات دیے۔ ان کے جوابات سے ان کی فکری پختگی، موضوع پر گہری گرفت اور نوجوان نسل کے مسائل سے گہری آگاہی نمایاں ہوئی۔
” مسئلہ صرف یہ نہیں کہ نوجوان سوشل میڈیا زیادہ استعمال کر رہے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم انہیں سوشل میڈیا پر کیا دیکھنے اور کیا سوچنے کے لیے دے رہے ہیں۔ کیا ہماری ریاست اور میڈیا نے نوجوان نسل کے لیے مثبت، علمی اور معیاری متبادل مواد فراہم کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری کی ہے؟”
عائشہ منظور وٹو نے اس سوال کا بھی نہایت شاندار اور جامع جواب دیا۔ ان کی گفتگو نے واضح کیا کہ نوجوان نسل کو منفی مواد سے بچانے کے ساتھ ساتھ انہیں علمی، مثبت، معیاری اور تعمیری مواد فراہم کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب منظور احمد وٹو کی صاحبزادی عائشہ منظور وٹو نے اپنی گفتگو سے یہ ثابت کیا کہ وہ محض ایک معروف سیاسی خاندان کی نمائندہ نہیں بلکہ اپنی قابلیت، فکری بصیرت، اعتماد، معاملہ فہمی اور مؤثر اندازِ گفتگو سے اپنی الگ شناخت رکھنے والی باصلاحیت شخصیت ہیں۔
ان کی گفتگو میں اعتماد بھی تھا، دلیل بھی، شائستگی بھی اور مسئلے کے حل کی جستجو بھی۔ یہی وجہ تھی کہ حاضرین نے ان کے خطاب اور سوال و جواب کے مرحلے کو بھرپور دلچسپی سے سنا اور سراہا۔
اس شاندار سیمینار کے انعقاد پر بزمِ خاور انٹرنیشنل خصوصی خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔
چیئرمین خاور سلیم آذر کی قیادت میں بزمِ خاور انٹرنیشنل نے ادب، ثقافت اور سماجی شعور کے ساتھ ساتھ معاشرے کے اہم اور سلگتے ہوئے مسائل پر مثبت مکالمے کی قابلِ قدر روایت قائم کی ہے۔
نوجوان نسل کو درپیش ایک انتہائی اہم مسئلے، یعنی سوشل میڈیا کے منفی اثرات، کو سیمینار کا موضوع بنانا بزمِ خاور انٹرنیشنل کی سماجی ذمہ داری، فکری بصیرت اور نئی نسل کے مستقبل سے وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔صدر اشرف خان اور جنرل سیکرٹری اشفاق بہادر بھی اس کامیاب اور باوقار پروگرام کے انعقاد پر خصوصی مبارک باد کے مستحق ہیں۔
بزمِ خاور انٹرنیشنل کی یہ کاوش اس لحاظ سے قابلِ ستائش ہے کہ یہاں صرف سوشل میڈیا کے نقصانات پر گفتگو نہیں ہوئی بلکہ نوجوان نسل کے بہتر مستقبل کے لیے شعور، تربیت، ذمہ دارانہ استعمال اور مثبت متبادل مواد کی ضرورت پر بھی سنجیدہ مکالمہ ہوا۔
بلاشبہ یہ نشست ایک کامیاب کانفرنس کی صورت میں سامنے آئی۔ عائشہ منظور وٹو کی مدلل گفتگو، بزمِ خاور انٹرنیشنل کی بہترین میزبانی، ڈاکٹر مدیحہ بتول کی خوبصورت نظامت اور شرکاء کی فکری شرکت نے سیمینار کو یادگار بنا دیا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے علمی و فکری پروگرام تسلسل کے ساتھ منعقد ہوتے رہیں تاکہ نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے علم، اخلاق، تحقیق، تخلیق اور مثبت سوچ کی طرف بھی راغب کیا جا سکے۔
بزمِ خاور انٹرنیشنل کو اس شاندار علمی و فکری کاوش پر دلی خراجِ تحسین اور ڈائریکٹر جنرل پیمپرا عائشہ منظور وٹو کو ان کے شاندار، مدلل اور بصیرت افروز خطاب پر خصوصی مبارک باد پیش کی-

Share On Social Media

KARACHI

سانحہ گُل پلازہ: 61 ہلاکتوں کی تصدیق، 88 افراد تاحال لاپتا، فائنل سرچ آپریشن کا حکم

کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گُل پلازہ میں پیش آنے والے

Read More

گُل پلازا میں آتشزدگی کے بعد ملحقہ رمپا پلازا غیر محفوظ قرار

کراچی کے گل پلازا میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد اس

Read More

TECHNOLOGY

کوڈنگ کرنے والے نیا کیریئر ڈھونڈ لیں‘، اے آئی انقلاب کے بعد وارننگ جاری

ٹیک کمپنیوں میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث ملازمین کی نوکریاں ختم

Read More

دنیا بھر میں فیس بک کی سروسز متاثر، صارفین پریشان

دنیا بھر کے صارفین نے فیس بک کے کمپیوٹر براؤزر (جیسے Chrome، Edge وغیرہ) سے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.