جسم کی نائٹ شفٹ: رات 10 بجے جسم میں کیا تبدیلیاں شروع ہوجاتی ہیں؟

رات کے 10 بجتے ہی اگر آپ کو اچانک غنودگی طاری ہونے لگے، آنکھیں بوجھل محسوس ہوں یا جسم میں سستی چھانے لگے، تو اسے محض دن بھر کی تھکن سمجھ کر نظر انداز ہرگز نہ کریں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ہمارے جسم کے اندر ایک باقاعدہ ’نائٹ شفٹ‘ کا آغاز ہو جاتا ہے۔ دن بھر متحرک رہنے والا جسم اب آہستہ آہستہ اپنی رفتار سست کرنے لگتا ہے اور دماغ سے لے کر نظامِ ہاضمہ تک میں اہم تبدیلیاں رونما ہونے لگتی ہیں۔

جسم کی اندرونی گھڑی اور سرکیڈین ردھم

رات کے اس پہر جسم کا آرام کا موڈ فعال ہو جاتا ہے۔ دراصل، ہمارے جسم میں ایک قدرتی باڈی کلاک موجود ہوتی ہے جسے سرکیڈین ردھم یا باڈی کلاک کہا جاتا ہے۔

یہ نظام تقریباً 24 گھنٹے کے چکر کے تحت نیند، بیداری، بھوک اور جسم کے درجہ حرارت سمیت کئی اہم جسمانی افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔ جیسے ہی رات گہری ہوتی ہے، جسم کو یہ اشارے ملنے لگتے ہیں کہ اب دن بھر کی تمام سرگرمیاں سمیٹ کر آرام کی تیاری کی جائے۔

میلاٹونن ہارمون کا اخراج

شام ڈھلنے اور اندھیرا بڑھنے کے ساتھ ہی جسم میں میلاٹونن نامی ہارمون کی سطح تیزی سے بڑھنے لگتی ہے۔ یہی وہ خاص ہارمون ہے جو ہمارے اعصاب کو پرسکون کر کے جسم کو گہری نیند کے لیے تیار کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ رات 10 بجے کے آس پاس بیشتر افراد پر نیند کا غلبہ ہونے لگتا ہے۔ البتہ، یہ عمل ہر انسان کے لیے یکساں نہیں ہوتا؛ کچھ لوگوں کی باڈی کلاک جلد سو جاتی ہے تو کچھ کی دیر سے، جس کا انحصار روزمرہ کے معمولات پر ہوتا ہے۔

نظامِ ہاضمہ اور دیر رات کا کھانا

رات کے اس حصے میں ہمارے نظامِ ہاضمہ کو بھی وقفے اور آرام کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اس وقت بھاری کھانا، تلی ہوئی اشیاء یا بار بار کچھ نہ کچھ کھانے کی عادت برقرار رکھی جائے، تو معدے کو آرام کے بجائے اضافی محنت کرنا پڑتی ہے۔

دیر رات کی یہ غفلت اکثر لوگوں میں بوجھل پن، تیزابیت اور پرسکون نیند میں خلل کا سبب بنتی ہے۔ خاص طور پر سونے کے بالکل قریب بھاری کھانا نیند کو بھی متاثر کرسکتا ہے اسی لیے ماہرین صحت رات کے وقت ہلکی غذا تجویز کرتے ہیں۔۔

رات دیر تک موبائل فون، لیپ ٹاپ یا دیگر اسکرینز کا استعمال بھی نیند کے معمول میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ اسکرین سے ملنے والی روشنی، خاص طور پر رات کے وقت، جسم کے نیند کی تیاری کے قدرتی عمل کو متاثر کرسکتی ہے۔ اسی لیے سونے سے پہلے ماحول کو پرسکون اور روشنی کو کم رکھنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔

اس طرح رات 10 بجے کے بعد جسم میں اچانک کوئی جادوئی تبدیلی نہیں آتی بلکہ جسم اپنی قدرتی گھڑی کے مطابق آہستہ آہستہ آرام اور نیند کے مرحلے میں داخل ہونے لگتا ہے۔ ہر شخص کا معمول مختلف ہوسکتا ہے، لیکن مناسب نیند، باقاعدہ سونے کا وقت اور رات کو ہلکی غذا مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند عادات ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

‘عوام کو ریلیف نہیں دیا گیا’، حکومتی اتحادی پیپلزپارٹی بجٹ کے خلاف کھل کر سامنے آگئی

ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرینز شازیہ مری نے وفاقی بجٹ پر اپنے ردعمل میں کہا

Read More

صنعتی صارفین پر بھاری فکسڈ چارجز عائد کرنے کی تجویز

وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو نئی "دو حصوں پر

Read More

TECHNOLOGY

موبائل سمز کی ملکیت ایک سال سے پہلے ختم نہیں ہوسکتی،

سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ وائرل ہوا ہے جس میں کہا گیا کہ پاکستان ٹیلی

Read More

گوگل میپس میں نیا دلچسپ فیچر متعارف، پرانے مناظر اب موبائل پر دیکھنا ممکن

اگر آپ اسمارٹ فون پر گوگل میپس استعمال کرتے ہیں تو اب ایک نیا اور

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.