میر رضا کیس: ’میڈیکو لیگل کی تربیت نہیں لی‘، پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کا کمیشن کے سامنے اعتراف

کراچی میں میر رضا قتل کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی سماعت میں پہلے پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ شیخ سے سخت سوالات کیے گئے۔ میڈیکو لیگل تربیت حاصل نہ کرنے کے اعتراف اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم پر موجود زخموں کی وضاحت پر کمیشن نے حیرت اور برہمی کا اظہار کیا۔

جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہوتے ہوئے ڈاکٹر اسامہ شیخ نے بتایا کہ انہوں نے 2016 میں ہمدرد یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کیا تھا اور 2021 سے جناح اسپتال میں میڈیکو لیگل افسر کے طور پر تعینات رہے، تاہم انہوں نے کبھی میڈیکو لیگل کی کوئی تربیت حاصل نہیں کی۔

کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ سے پوچھا کہ میر رضا کے ہاتھ اور پاؤں پر موجود زخموں کا پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہاں ذکر کیا گیا۔ ڈاکٹر اسامہ نے جواب دیا کہ یہ نشانات ڈی کمپوزیشن کے تھے۔

اس پر کمیشن نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ اتنی جلدی ڈی کمپوزیشن کیسے ہوسکتی ہے اور کہا کہ یہ نشانات کسی اور چیز کے بھی ہوسکتے ہیں۔ کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ سے کہا کہ انہوں نے ان سے زیادہ پوسٹ مارٹم رپورٹس پڑھی ہیں اور وہ معاملے کو بہت ہلکا لے رہے ہیں۔

کمیشن نے سختی سے سوال کیا کہ کیا پوری کارروائی میں انہیں صرف گولی کا نشان ہی نظر آیا۔ مزید ایک موقع پر کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ سے کہا کہ انہیں زیادہ ہوشیاری دکھانے کی ضرورت نہیں۔

ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ انہوں نے لاش سے چار نمونے حاصل کرکے سیل کیے اور ندیم مغل کے حوالے کیے تھے، جبکہ مجموعی طور پر پانچ نمونے لیے گئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کہیں بھی خودکشی کا مؤقف اختیار نہیں کیا۔

کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کی دوسری اور حتمی رپورٹ میں فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دوسری رپورٹ میں بہت سی چیزوں کا اضافہ ہوگیا تھا، جب کہ اس میں ہاتھ کی لکھائی بھی مختلف نظر آتی ہے۔

ندیم مغل نے بتایا کہ نمونے تھانے کے مال خانے میں رکھے گئے تھے۔ کمیشن نے مال خانے کی انٹری چیک کرنے کا کہا اور ریمارکس دیے کہ ہر چیز ہیڈ محرر ہی چلا رہا ہے۔

کمیشن نے پولیس کے طریقہ کار پر مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے ہماری پولیس ایتھوپیا میں رہ رہی ہے اور تھانے میں ہیڈ محرر سب کچھ کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

اس سے قبل سندھ ہائیکورٹ میں میر رضا قتل کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی دوسری سماعت میں میر رضا کے والدین اور لاش ملنے کے مقام پر موجود نرسری ملازمین یاسر اور قیصر کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کے پارٹنر، آن لائن گاڑی کے ڈرائیور، ایس ایچ او اور ہیڈ محرر کو بیانات کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 3 ستمبر تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ پیر کے روز کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس میں قبر کشائی کے بعد کیے گئے دوسرے پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ سامنے آئی تھی، جس نے خودکشی کے ابتدائی مؤقف پر سوالات اٹھائے تھے۔

پولیس سرجن کراچی کی سربراہی میں قائم میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق گولی میر رضا کے کمر کے اوپری بائیں حصے سے داخل ہو کر سینے کے اگلے بائیں حصے سے باہر نکلی تھی۔ گولی سے چھٹی پسلی ٹوٹ گئی، پھیپھڑا شدید متاثر ہوا اور دل پر دو زخم آئے تھے، جن کے باعث دل پھٹنے سے موت واقع ہوئی تھی۔

رپورٹ میں گولی کے داخلی مقام اور شرٹ کے سوراخوں کے اطراف گن شاٹ ریزیڈیو کی موجودگی بھی بتائی گئی تھی۔ میڈیکل بورڈ کے مطابق دستیاب شواہد خودکشی کے بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، جبکہ سر پر چوٹ اور کھوپڑی کے ایک حصے میں فریکچر بھی پایا گیا تھا۔

ٹاکسی کولوجی رپورٹ میں بیوپی ویکین نامی مقامی بے ہوشی کی دوا کی موجودگی سامنے آئی تھی، تاہم دیگر نشہ آور یا زہریلے مادے نہیں ملے تھے۔ ڈی این اے رپورٹ میں بھی میر رضا کی شناخت کی تصدیق ہوگئی تھی۔

حتمی رپورٹ آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ نے تیار کی تھی۔ سندھ پولیس کی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم نے کہا تھا کہ رپورٹ کا جائزہ لے کر فرانزک اور طبی شواہد کی روشنی میں تفتیش آگے بڑھائی جائے گی۔

واضح رہے کہ میر رضا 28 جولائی کو فیروز آباد سے لاپتا ہوئے تھے اور اگلے روز گلستانِ جوہر کے قریب ان کی لاش ملی تھی۔ ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی قرار دیا گیا تھا، تاہم اہلخانہ کے اعتراضات، عدالتی حکم پر قبر کشائی اور دوسرے پوسٹ مارٹم میں سامنے آنے والے چوٹوں کے شواہد کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 شامل کی گئی تھی۔

اہلِ خانہ شروع ہی سے میر رضا علی کی موت کو قتل قرار دیتے رہے اور تحقیقات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیے جانے اور پوسٹ مارٹم سے متعلق سوالات سامنے آنے کے بعد سندھ حکومت نے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔

فی الوقت کیس میں استعمال ہونے والے اسلحے کی عدم برآمدگی، ضائع ہونے والے ثبوت اور ملوث پولیس اہلکاروں کا تعین تفتیشی اداروں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

سانحہ گُل پلازہ: 61 ہلاکتوں کی تصدیق، 88 افراد تاحال لاپتا، فائنل سرچ آپریشن کا حکم

کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گُل پلازہ میں پیش آنے والے

Read More

گُل پلازا میں آتشزدگی کے بعد ملحقہ رمپا پلازا غیر محفوظ قرار

کراچی کے گل پلازا میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد اس

Read More

TECHNOLOGY

کوڈنگ کرنے والے نیا کیریئر ڈھونڈ لیں‘، اے آئی انقلاب کے بعد وارننگ جاری

ٹیک کمپنیوں میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث ملازمین کی نوکریاں ختم

Read More

دنیا بھر میں فیس بک کی سروسز متاثر، صارفین پریشان

دنیا بھر کے صارفین نے فیس بک کے کمپیوٹر براؤزر (جیسے Chrome، Edge وغیرہ) سے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.