کراچی کے تمام 6 اضلاع میں پولیو وائرس کی موجودگی، جون میں کلیئر علاقے پھرخطرے کی زد میں

کراچی میں پولیو وائرس نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ شہر کے ایک یا 2 علاقوں کی بات نہیں، بلکہ کراچی کے تمام 6 اضلاع کے ماحولیاتی یعنی سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر فار پولیو کے مطابق جولائی میں کراچی کے ضلع وسطی، شرقی، کیماڑی، ملیر، جنوبی اور غربی سے لیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا۔

یہ صورتحال اس لیے بھی توجہ طلب ہے کہ جون میں کراچی کے ان 6 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کا سراغ نہیں ملا تھا یعنی ایک ماہ کے دوران صورتحال میں واضح تبدیلی سامنے آئی ہے۔

6 کے 6 اضلاع متاثر، خطرہ کتنا بڑا؟

ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وائرس ماحول میں گردش کررہا ہے۔ ایسے نمونے عموماً سیوریج سے حاصل کیے جاتے ہیں اور ان کے ذریعے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ کسی علاقے میں پولیو وائرس موجود ہے یا نہیں۔

کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں جہاں لاکھوں افراد روزانہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں سفر کرتے ہیں، وائرس کی موجودگی کو معمولی معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

خاص طور پر اس وقت جب جولائی کے نمونوں میں کراچی کے تمام 6 اضلاع سے وائرس کی موجودگی سامنے آئی ہے۔

صرف کراچی نہیں، دوسرے شہر بھی وائرس کی زد میں

نیشنل ای او سی کے مطابق سندھ کے ضلع کشمور کے جولائی میں لیے گئے ماحولیاتی نمونے میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔

بلوچستان میں چمن، ڈیرہ بگٹی اور کوئٹہ کے ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی سامنے آئی، جبکہ خیبر پختونخوا کے بنوں اور پشاور سے لیے گئے سیوریج نمونے بھی مثبت آئے۔ پنجاب میں راولپنڈی کے جولائی کے ماحولیاتی نمونے میں بھی پولیو وائرس پایا گیا۔

یعنی وائرس کی موجودگی صرف کراچی تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف حصوں سے اس کے شواہد سامنے آرہے ہیں۔

سیوریج میں وائرس، بچوں کے لیے کیا خطرہ؟

پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو خاص طور پر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ وائرس جسم میں داخل ہونے کے بعد اعصابی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور بعض صورتوں میں مستقل معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ پولیو وائرس کی موجودگی ہمیشہ یہ ثابت نہیں کرتی کہ اسی علاقے میں کوئی بچہ لازماً پولیو کا شکار ہوچکا ہے، تاہم ماحولیاتی نمونے میں وائرس ملنا اس بات کا اہم اشارہ ہے کہ وائرس آبادی کے درمیان گردش کررہا ہے۔

اسی لیے انسدادِ پولیو حکام کے لیے ایسے نمونے ایک ابتدائی وارننگ سسٹم کا کام کرتے ہیں۔

والدین کے لیے ایک اہم یاد دہانی

ماہرین کے مطابق پولیو سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ بچوں کو ویکسین کی مقررہ خوراکیں دلوانا ہے۔

اگر کسی بچے کو مہم کے دوران پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم گھر پر آئے تو والدین کو چاہیے کہ بچے کو قطرے ضرور پلائیں۔ اگر کسی خوراک سے متعلق ابہام ہو تو قریبی مرکزِ صحت یا متعلقہ انسدادِ پولیو ٹیم سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

کراچی میں جون کے دوران پولیو وائرس کا سراغ نہ ملنے کے بعد جولائی میں تمام 6 اضلاع کے نمونوں میں وائرس کی موجودگی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اب اصل چیلنج یہ ہے کہ وائرس کو ماحول سے بچوں تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا جائے۔

Share On Social Media

KARACHI

وفاقی وزرا کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے آزاد کشمیر کا معاملہ پیچیدہ ہورہا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے حالیہ بحران

Read More

کراچی پورٹ کا ایک اور اعزاز، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو ہزار الیکٹرک گاڑیاں پہنچ گئیں

کراچی پورٹ کو ایک اور اعزاز حاصل ہوگیا ہے جہاں گاڑیوں کی ترسیل کرنے والا

Read More

TECHNOLOGY

انسانی اشارے سمجھنے والا انوکھا فون تیار، استعمال کا طریقہ بھی بدل جائے گا

آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی دنیا میں ایک بڑا انقلاب دستک دے رہا ہے جہاں

Read More

جان کا خطرہ: کھُلنے کے ایک مہینے بعد دوائی کو پھینک دینا کیوں ضروری ہے؟

اکثر لوگ دوا کی بوتل یا پیکٹ پر لکھی ہوئی ایکسپائری ڈیٹ دیکھ کر مطمئن

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.