مصنوعی ذہانت نے کتابوں کے پبلشرز میں افراتفری مچا دی، مصنفین شک کے گھیرے میں

اے آئی کے استعمال نے کتابوں کی اشاعت کی صنعت کے سامنے ایک نیا اور پیچیدہ سوال کھڑا کر دیا ہے۔ آخر کتاب کا اصل مصنف کون ہے؟ حالیہ واقعات نے اس بحث کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جہاں مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت کے استعمال کے شبہے کے بعد بڑے مالی معاہدے بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں۔

ایسا ہی ایک معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک نائیجیرین نژاد امریکی مصنف جیری فالڈے کو اپنی پہلی کتاب کے لیے 20 لاکھ ڈالر کا معاہدہ طے پایا، لیکن کچھ ہی دن بعد اس منصوبے کو ختم کر دیا گیا۔ مصنف کے ایجنٹس نے کہا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکے کہ پوری کتاب ان کے مؤکل نے خود لکھی ہے۔ نتیجتاً انہوں نے پراجیکٹ کی حمایت جاری رکھنے سے معذرت کر لی۔

ایجنسی یوروپا کنٹینٹ نے جولائی میں پبلشرز کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ اس معاملے نے کتاب کا اصل مصنف کون ہے اور کتابوں کی صنعت پر مصنوعی ذہانت کے اثرات سے متعلق کئی اہم سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ یہ خط اس وقت سامنے آیا جب کتاب میں اے آئی کے ممکنہ استعمال کے الزامات گردش کر رہے تھے۔

مصنف جیری فالڈے نے مصنوعی ذہانت سے کتاب لکھنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اے آئی صرف تحقیق کے لیے استعمال کی، کتاب لکھنے کے لیے نہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ کتاب مستقبل میں کس پبلشر کے ذریعے شائع ہوگی۔

یہ واقعہ صرف ایک کتاب یا ایک مصنف تک محدود نہیں سمجھا جا رہا۔ اس نے پبلشنگ کی دنیا میں ایک اہم سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ جب اے آئی انسانوں کے لیے متن تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو مصنف کی تخلیقی محنت کی شناخت اور تصدیق کیسے کی جائے۔

کتاب لکھنے میں عام طور پر مصنف کی تحقیق، خیالات، زبان، تجربات اور تخلیقی صلاحیت شامل ہوتی ہے۔ لیکن اے آئی ٹولز کے عام ہونے کے بعد یہ فرق کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے کہ کسی تحریر کا کتنا حصہ انسان نے خود تخلیق کیا اور کہاں مصنوعی ذہانت نے مدد فراہم کی۔

اس صورتحال نے پبلشرز، ادبی ایجنٹس اور مصنفین کے لیے اعتماد کا مسئلہ بھی پیدا کر دیا ہے۔ بڑی رقم کے معاہدوں میں پبلشرز یہ جاننا چاہتے ہیں کہ انہیں جو کتاب دی جا رہی ہے، وہ واقعی اسی مصنف کی تخلیق ہے جس کے نام پر معاہدہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب مصنفین کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ اے آئی کی مدد لینے کی قابل قبول حد کیا ہونی چاہیے۔

اے آئی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ ٹیکنالوجی تحقیق، خیالات ترتیب دینے، زبان کی اصلاح اور دوسرے معاون کاموں میں مصنفین کی مدد کر سکتی ہے۔ تاہم، ناقدین کو خدشہ ہے کہ اگر مکمل یا بڑے پیمانے پر اے آئی سے تیار کردہ مواد انسانی تحریر کے طور پر پیش کیا گیا تو اس سے کتابوں کے معیار، مصنفین کی ساکھ اور قارئین کے اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اب پبلشنگ کی صنعت کو اس بدلتی ہوئی صورتحال کے لیے واضح اصول وضع کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ یہ طے کرنا ہوگا کہ اے آئی کی معمولی معاونت اور ایسی تحریر جس کا بڑا حصہ مصنوعی ذہانت نے تیار کیا ہو، ان دونوں میں فرق کیسے کیا جائے گا اور مصنفین کو اپنے کام میں اے آئی کے استعمال کے بارے میں کتنی معلومات دینا ہوں گی۔

حالیہ تنازع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے کتاب لکھنے کے طریقوں کے ساتھ ساتھ کتابوں کی اشاعت کے پورے نظام کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں پبلشرز اور مصنفین کے درمیان یہ بحث مزید تیز ہونے کا امکان ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں تخلیقی کام کی ملکیت، شفافیت اور اعتماد کو کیسے برقرار رکھا جائے۔

فی الحال سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اے آئی کو تخلیقی معاون سمجھا جائے یا اسے مصنفیت کی حدود کو بدلنے والی ٹیکنالوجی مانا جائے۔ اس کا جواب نہ صرف مستقبل کی کتابوں بلکہ پوری پبلشنگ صنعت کے طریقہ کار پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کے سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لیے

وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے

Read More

پانی چوری روکنے کیلئے خصوصی تھانہ قائم، زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ

پانی چوری کے بڑھتے واقعات روکنے کیلئے خصوصی تھانہ قائم کردیا گیا۔ پانی چوری کے

Read More

TECHNOLOGY

کیا کلاڈ انسان بن رہا ہے؟ اینتھروپک نے اے آئی کی ‘خفیہ سوچ’ ڈھونڈ نکالی

مصنوعی ذہانت کی مشہور کمپنی اینتھروپک نے اپنے معروف اے آئی ماڈل کلاڈ کے اندر

Read More

واٹس ایپ پر آن لائن صارفین کی شناخت آسان، ’گرین ڈاٹ‘ فیچر کی آزمائش شروع

میٹا کی زیرِ ملکیت مقبول پیغام رسانی ایپ واٹس ایپ نے صارفین کے لیے آن

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.