بلاول بھٹو کی ’الٹی گنتی‘ کے بیان کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے تعلقات میں کیا تبدیلی آئی؟


بلال عباسی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نتائج پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اب الٹی گنتی شروع ہو گئی

ہے۔‘

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کیا گیا اور انتخابات پر اٹھائے گئے اعتراضات کو نظر انداز کیا گیا تو پاکستان پیپلز پارٹی بھرپور سیاسی مزاحمت کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی انتخابی نتائج کے خلاف ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر اپنی آواز بلند کرے گی۔

ان کے مطابق یہ صرف ایک انتخاب کا معاملہ نہیں بلکہ ووٹ کے تقدس، عوامی رائے کے احترام اور جمہوری عمل کے تحفظ کی جدوجہد ہے، جس پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

قمر زمان کائرہ کی وضاحت، حکومت سے علیحدگی کی تردید

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے بلاول بھٹو زرداری کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسے وفاقی حکومت سے علیحدگی یا حکومتی اتحاد کے خاتمے سے جوڑنا درست نہیں۔

ان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کا بیان صرف آزاد کشمیر کے انتخابات کے تناظر میں دیا گیا تھا اور اس کا مقصد انتخابی شفافیت کے حوالے سے پارٹی کے تحفظات سامنے لانا تھا۔

قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان نظریاتی اتحاد موجود نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی اور جمہوری انتظام ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود پارلیمان میں اپنی آزاد رائے رکھتی ہے، مختلف قانون سازی اور آئینی معاملات پر اختلاف بھی کرتی ہے، جبکہ احتجاج اور انتخابی شفافیت کا مطالبہ ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے۔

حکومت کا ردعمل، ن لیگ نے خدشات مسترد کر دیے

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے پاکستان پیپلز پارٹی کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ان بیانات سے کوئی خطرہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں شفاف اور منصفانہ انتخابات منعقد ہوئے جبکہ دھاندلی کے الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں، کیونکہ یہ اعتراضات زیادہ تر پارٹی قیادت کی جانب سے سامنے آ رہے ہیں، نہ کہ انتخابی امیدواروں کی طرف سے۔

طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کو قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل ہے، اس لیے اگر پاکستان پیپلز پارٹی الگ بھی ہو جائے تو حکومت برقرار رہ سکتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں نہ تو پیپلز پارٹی کے وفاقی حکومت چھوڑنے کے آثار ہیں اور نہ ہی ایسا کوئی عملی امکان دکھائی دیتا ہے۔

حکومت فوری خطرے میں نہیں، افتخار احمد

سینیئر تجزیہ کار افتخار احمد کے مطابق موجودہ پارلیمانی نمبرز کو دیکھتے ہوئے وفاقی حکومت کے فوری طور پر گرنے کا امکان نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد سے علیحدہ بھی ہو جائے تو حکومت سیاسی طور پر کمزور ضرور ہوگی، تاہم اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے، البتہ سینیٹ میں آئینی ترامیم کی منظوری زیادہ مشکل ہو سکتی ہے۔

افتخار احمد کا کہنا تھا کہ اس وقت اصل مسئلہ حکومت گرانا نہیں بلکہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا مؤثر حل تلاش کرنا ہے۔

ان کے مطابق اپوزیشن کو سخت بیانات کے ساتھ ساتھ عوام کے سامنے ایک قابل عمل معاشی پروگرام اور مسائل کے عملی حل بھی پیش کرنے چاہییں۔

بلاول آئندہ انتخابات کی حکمت عملی بنا رہے ہیں، خاور گھمن

سینیئر تجزیہ کار خاور گھمن نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات نے موجودہ سیاسی کشیدگی کو ضرور بڑھایا ہے، تاہم بنیادی مسئلہ حکومت کی معاشی کارکردگی ہے۔

ان کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاس ایسی نمایاں کامیابیاں موجود نہیں جنہیں عوام کے سامنے مضبوط سیاسی کارکردگی کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

خاور گھمن کے مطابق بلاول بھٹو زرداری اب اپنی سیاسی حکمت عملی کا رخ آئندہ عام انتخابات کی جانب موڑ رہے ہیں اور حکومت سے سیاسی فاصلہ بڑھاتے ہوئے اپنی جماعت کو الگ شناخت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں دونوں جماعتوں کے تعلقات پہلے جیسے خوشگوار رہنے کا امکان کم نظر آتا ہے۔

اتحاد ختم کرنے کے آثار نظر نہیں آتے، حسن ایوب

سینیئر تجزیہ کار حسن ایوب نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی تقریر بنیادی طور پر انتخابی ماحول میں اپنے کارکنوں کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے تھی۔ ان کے مطابق اگر پاکستان پیپلز پارٹی واقعی حکومت گرانا چاہتی ہے تو اسے عملی طور پر حکومتی اتحاد چھوڑ کر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنا ہوگا۔

حسن ایوب نے مزید کہا کہ فی الحال ایسی کوئی صورتحال دکھائی نہیں دیتی کیونکہ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ برقرار ہے۔

ان کے مطابق اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کا اتحاد فطری نہیں، تاہم موجودہ سیاسی حالات میں اس اتحاد کے برقرار رہنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

سیاسی کشمکش آئندہ انتخابات کی تیاری کا حصہ، زیغم خان

سینیئر تجزیہ کار زیغم خان کے مطابق موجودہ سیاسی کشمکش دراصل آئندہ عام انتخابات کی تیاری اور مستقبل کی سیاسی قیادت کے تعین کی جدوجہد کا حصہ ہے۔ ان کے بقول دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اپنی اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہیں اور آزاد کشمیر کے انتخابات اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ثابت ہوئے ہیں۔

زیغم خان نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اپنی جماعت کو دوبارہ جارحانہ عوامی سیاست کی طرف لے جانا چاہتے ہیں تاکہ آئندہ انتخابات میں مضبوط سیاسی تاثر قائم کیا جا سکے، جبکہ دوسری جانب حکومت پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنی معاشی اور انتظامی کارکردگی بہتر بنا کر عوام کا اعتماد بحال کرے۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی؛ مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5زخمیوں سمیت 8 ملزمان گرفتار، اسلحہ اور مسروقہ سامان برآمد

مختلف علاقوں میں پولیس اور مسلح ڈاکوؤں کے درمیان مبینہ مقابلوں کے دوران پولیس نے

Read More

سندھ طاس معاہدہ کیس میں پاکستان کی بڑی کامیابی، عالمی عدالت کا بھارت کو اہم حکم

عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کو پاکستانی دریاؤں پر قائم اپنے پن بجلی منصوبوں سے

Read More

TECHNOLOGY

میٹا کا اسمارٹ گلاسز میں متنازع ٹیکنالوجی شامل کرنے پر غور

تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ میٹا سیکیورٹی اور پرائیوسی خدشات کے

Read More

اب ’’YouTube‘‘ میں کوئی بھی ویڈیو اپنی زبان میں دیکھیں!

یوٹیوب نے صارفین کے لیے بڑی سہولت فراہم کر دی اب ناظرین کوئی بھی ویڈیو

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.