ایران جنگ: ٹرمپ مشکل دوراہے پر، نہ جنگ سے نکلنے کا راستہ نہ آسان معاہدے کی گنجائش

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ چھٹے مہینے میں داخل ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسے سیاسی اور سفارتی چیلنج کا سامنا ہے جہاں ان کے پاس کوئی آسان راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کو یا تو ایران کو بڑی رعایت دینا ہوگی یا پھر جنگ میں مزید شدت لانے کا خطرہ مول لینا پڑے گا، جس کے سیاسی نتائج بھی سنگین ہو سکتے ہیں۔

رائٹرز کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق زیر غور مجوزہ معاہدہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا امتحان بن گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں پر کسی حد تک نگرانی یا کنٹرول حاصل ہو سکتا ہے، حالانکہ امریکا پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو قبول نہیں کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق اگر امریکا اس معاہدے کو قبول کرتا ہے تو اسے ایران کے لیے بڑی سفارتی کامیابی تصور کیا جائے گا، جبکہ معاہدہ مسترد کرنے کی صورت میں نئی فضائی کارروائیوں اور جنگ میں مزید شدت کا خدشہ ہے، جس سے تنازع مزید طویل ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیسرا راستہ موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنا ہے، یعنی ایران کی بندرگاہوں پر دباؤ برقرار رکھا جائے اور بحری جہازوں پر حملوں کی صورت میں محدود جوابی کارروائیاں کی جائیں، تاہم یہ حکمت عملی بھی ٹرمپ کو اس جنگ سے باعزت انداز میں نکالنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بدستور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز ایک آزاد بین الاقوامی آبی گزرگاہ رہے اور اس پر کسی بھی ملک کی اجارہ داری یا محصولات عائد نہ ہوں، تاہم ماضی میں صدر ٹرمپ کئی مواقع پر اپنی انتظامیہ کے مؤقف سے مختلف بیانات دے چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات، مہنگے ایندھن، کم ہوتی عوامی مقبولیت اور جنگ کے خلاف بڑھتی عوامی رائے نے ٹرمپ کے لیے فیصلے مزید مشکل بنا دیے ہیں۔ ایسے میں اگر ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے، تاہم مستقل امن معاہدے کے امکانات اب بھی غیر یقینی دکھائی دیتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملے کیے تو خلیجی ممالک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ امریکی اور بین الاقوامی ماہرین کا خیال ہے کہ اس تنازع کے نتائج پر چین، روس اور شمالی کوریا بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Share On Social Media

TECHNOLOGY

واٹس ایپ صارفین کیلئے نیا دلچسپ ’’کلوز فرینڈ‘‘ فیچر سامنے آگیا

واٹس ایپ جلد ہی انسٹاگرام طرز کا نیا ’کلوز فرینڈز‘فیچر متعارف کرانے جا رہا ہے

Read More

چھوٹے کاروبار کی ترقی کے لیے واٹس ایپ بزنس کے 5 فیچرز کیا ہیں؟

تہواروں کا سیزن چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے سنہری موقع ثابت ہوتا

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.