ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے ایران اور عمان کے درمیان نئے انتظامات پر بات چیت حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جبکہ امریکا کی جانب سے بھی سابقہ وعدوں پر دوبارہ عمل درآمد کے مثبت اشارے موصول ہوئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ مجوزہ ایران۔عمان مفاہمت کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کا نیا طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ گزرگاہ مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ نظام گزشتہ کئی دہائیوں سے رائج انتظام سے مختلف ہوگا جس کے تحت تجارتی جہازوں کے سفر کا ایک بڑا حصہ ایرانی سمندری حدود سے گزرے گا۔
کاظم غریب آبادی نے کہا کہ جہازوں سے ٹرانزٹ فیس وصول کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایرانی قیادت کی پالیسی اور امریکا کے آئندہ طرزِ عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے ایسے اشارے موصول ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا دوبارہ اپنے سابقہ وعدوں کی پاسداری پر آمادہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق اگر ایران اور عمان کے درمیان یہ انتظامی مفاہمت طے پا جاتی ہے تو اس کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان بھی ایک اہم معاہدہ آئندہ چند روز میں سامنے آنے کا امکان ہے۔





































