امریکا کے وائیسٹار انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ روزمرہ خوراک میں استعمال ہونے والی شکر یعنی فروکٹوز نہ صرف جسم کے لیے توانائی کا ذریعہ ہے بلکہ بعض جارحانہ اقسام کے کینسر، خصوصاً بیضہ دانی کے کینسر، کے پھیلاؤ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
محققین کے مطابق کیموتھراپی کے بعد زندہ بچ جانے والے کینسر خلیات مکمل طور پر غیر فعال نہیں ہوتے بلکہ وہ کیمیائی سگنلز خارج کرتے ہیں۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ خلیات فروکٹوز پیدا کرکے اسے خارج کرتے ہیں، جو علاج کے خلاف مزاحمت رکھنے والے قریبی کینسر خلیات کو متحرک کرتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنی جگہ سے الگ ہو کر جسم کے دیگر حصوں تک پھیل سکتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ خوراک میں فروکٹوز کی زیادہ مقدار، خاص طور پر میٹھے مشروبات اور ہائی فروکٹوز کارن سیرپ میں موجود فروکٹوز، کیموتھراپی نہ ہونے کی صورت میں بھی کینسر کے پھیلاؤ کو فروغ دے سکتی ہے۔
سائنسدانوں نے جینیاتی تجزیے کے ذریعے دریافت کیا کہ فروکٹوز پڑوسی کینسر خلیات میں کولیسٹرول کی اندرونی پیداوار کو کم کر دیتا ہے، جس سے ان خلیات کے لیے اصل رسولی سے الگ ہو کر جسم میں پھیلنا آسان ہو جاتا ہے۔
اگرچہ یہ تحقیق خاص طور پر اووری کے کینسر پر کی گئی، تاہم محققین کا کہنا ہے کہ یہی حیاتیاتی طریقہ کار جسم کے دھڑ میں پھیلنے والے دیگر سرطان، جیسے لبلبے، بڑی آنت اور جگر کے کینسر، پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ تحقیق کینسر کے پھیلاؤ کے ایک نئے ممکنہ حیاتیاتی نظام کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم اس کے نتائج کی مزید تصدیق کے لیے اضافی تحقیق اور انسانی سطح پر مطالعات کی ضرورت ہے۔


































